محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!آج اپنا ایک ایسا تیر بہدف عمل بتا رہی ہوں جو جب بھی جس مقصد کے لئے آزمایا اس میں سوفیصد کامیابی ملی۔یہ عمل میں نے’عبقری مجموعہ وظائف‘‘ کتاب کے صفحہ 382 میں پڑھا تھا جہاں یہ عمل باقاعدہ حوالہ جات کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ میں کافی عرصہ سے ایک بے بس‘مجبور اور بے سہارا بن کر زندگی گزار رہی تھی۔آٹھ سال قبل میری شادی ہوئی‘شوہر امریکہ میں کام کرتے تھے۔شادی کے دو ماہ بعد وہ امریکہ چلے گئے اور کہا کہ وہ جلد ہی مجھے بھی اپنے پاس بلا لیں گے۔وہاں جانے کے بعد آزمائشی حالات شروع ہو گئے‘ شوہر کےخلاف کوئی انکوائری شروع ہوئی ‘معاملہ سنگین ہوتا گیا اور طول اختیار کر گیا۔اس دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا۔لیکن بدقسمتی سے معاملات کچھ ایسا رخ اختیار کر گئے تھے کہ شوہر نہ واپس آسکتے تھے اور نہ ہی ہمیںوہاں بلا پا رہے تھے۔انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا اور جب تک ان کے کیس کافیصلہ نہ ہوجاتا انہیں واپس جانے سے بھی منع کردیا گیا۔شوہر بے قصور تھے مگر بیگناہی ثابت نہ کر سکے جس وجہ سے انہیں جیل جانا پڑا ۔بچی کی عمر تقریباً سات سال ہو چکی تھی‘اپنے باپ کو ملنے کو ترس گئی تھی۔
بیٹی باپ اور بیوی شوہر سے ملنے کو ترس گئی
میں نے وہ دن کس کرب میں گزارے انہیں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔مختصر یہ کہ ہماری ہمسائی نے ایک دن عبقری مجموعہ وظائف کتاب پورے محلے میں تقسیم کی جو مجھ تک بھی پہنچی اور یہ عمل ملا۔میں روزانہ یہ عمل کرتی اور اللہ تعالیٰ سےگڑگڑا کر اپنی مراد مانگتی۔یہ عمل کرتے ہوئے دو ہفتے گزر چکے تھے‘ایک دن رات کے وقت یہ عمل کرکے بیٹی کو سلا رہی تھی کہ کافی عرصہ بعد امریکہ کے ایک نمبر سے کال آرہی تھی‘ کال اٹھائی تو چونک اٹھی کیونکہ شوہر کی آواز تھی اور وہ بتا رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی غیبی مدد فرمائی ہے جس سے وہ بے گناہ ثابت ہو گئے ہیں اور ان کی آج ہی رہائی ہوئی ہے۔اس دن مجھ سے بات نہ ہو سکی‘میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔دو شکرانے کے نوافل ادا کیے۔میں نے عمل جاری رکھا ہوا تھا اورپُر امید تھی کہ اب شوہر جلد ہی واپس آجائیں گے مگر ایسا نہ ہوا بلکہ شوہر کو پہلے سے بھی بہترین نوکری مل گئی اور چند ہفتوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرم کیا کہ میں اور میری بیٹی شوہر کے پاس امریکہ شفٹ ہو گئے۔زندگی میں جب بھی کوئی مشکل یا پریشانی آتی ہے تو اسی عمل کی برکت سےمسئلہ حل ہو جاتا ہے۔اسی عمل کی وجہ امریکہ میں رہنے کے باوجود میری بیٹی پر مغرب کا رنگ نہیں چڑھا‘ وہ ہمارے لئے سکون ‘ عزت اور عافیت کا سامان بنی ہوئی۔ قبولیت کا وہ عمل درج ذیل ہے۔
کسی بھی 12 رکعت نفل حاجت ایک سلام(یعنی ہر دو رکعت میں تشہد کے بعد سلام پھیرنے کے بجائے اٹھ جائیں )کے ساتھ پڑھیں‘جب بارہویں رکعت تشہد میں التحیات اور درود شریف پڑھ لیں تو سجدہ میں جاکر سات بار سورئہ فاتحہ ‘ سات بار آیت الکرسی‘دس مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌo اورایک مرتبہ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَھَی الرَّحْمَۃِ مِنْ کِتَابِکَ وَاسْمِکَ الْاَعْظَمِ وَجَدِّکَ الْاَعْلٰی وَکَلِمَاتِکَ التَّامَّٓۃِ پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کا سوال کریں اور سجدے سے سر اٹھا کر سلام پھیر دیں۔کتاب میں ایک حدیث حوالہ کے ساتھ لکھی تھی جس کا مفہوم تھا کہ یہ عمل بے وقوف اور ناسمجھ لوگوںکو نہ سکھائوورنہ وہ الٹی سیدھی دعائیں کر لیں گے اور وہ قبول ہو جائیں گی(مستدرک)۔میرا مشاہدہ ہے کہ واقعی اس عمل سے جو مانگیں‘ جو چاہیں وہ ضرور ملتا ہے۔