شیخ الوظائف فرماتے ہیں دعا الفاظ کا نہیں کیفیات کا نام ہے، جو جتنے دل کے درد اور سوز سے اللہ سے اپنی عرضی پیش کرے گا اتنی دعا کی قبولیت ہوگی۔ میں اپنا واقعہ بیان کر رہی ہوں جس میں دل سے نکلی دعا کی قبولیت کا انوکھا مشاہدہ اور دعا کے ساتھ غیبی نظام کا احساس ہو گا۔میں جو کچھ بھی لکھ رہی ہوں رب کعبہ کی قسم سچ لکھ رہی ہوں۔میں اپنی بہن کے لئے پیسے جمع کر رہی تھی تاکہ اسے عمرہ کروا سکوں۔
بے ساختہ زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے
ایک دن اچانک ہماری گھر کی فریج خراب ہو گئی ، مکینک کو بلایا اس نے معائنہ کیا اور مرمت کرنے کے اچھے خاصے پیسے مانگ لیے، مجھے یہ رقم بہت زیادہ لگی، میں پریشان ہو گئی کیونکہ میں خود ایک ایک پیسہ جوڑ رہی تھی خیر میں نے اسے کہا ٹھیک ہے اس کے بغیر گزارا نہیں ہے اسے ٹھیک کر دو ، اس نے خرابی دور کر دی لیکن فریج نہیں چل رہی تھی، مکینک کافی دیر کوشش کرنے کے بعدکہنے لگا لگتا ہے اس کا کمپریسر جل گیا ہے اور نیا ڈالنا پڑے گا، میں نے پوچھا وہ کتنے کا آئے گا اس نے پہلے سے بھی کئی گنا بڑھ کر رقم بتائی ، یہ سن کر میں بے ساختہ اتنی شدت سے روئی اور میری زبان پر یہ الفاظ آئے کہ یا اللہ میرے پاس حلال کے پیسے ہیں اور ان پیسوں سے میں اپنی بہن کو تیری خاطر عمرہ کروانا چاہتی ہوں ، تجھے پتہ ہے کہ میں اکیلی ہوں ، پیسہ پیسہ جوڑتی رہتی ہوںاور ساتھ ہی دو تین دفعہ یہ آیت پڑھی اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ اچانک مکینک کی آواز آئی باجی آپ کی فریج کا کمپریسر ٹھیک ہے اور فریج ٹھیک چل پڑی ہے بس تار کا مسئلہ تھا وہ ٹھیک کر دیا ہے۔ اب میں تو خوشی سے رونے لگی کہ یا اللہ تو واقعی مضطرب کی مانگی دعا قبول کرتا ہے ۔
جو سوچا بھی نہ تھا وہ مل گیا
میری والدہ جوڑوں کے درد کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتی تھیں مکمل بستر پر تھیں ، میری والدہ نے حج کیا ہوا تھا، ایک دن میری چھوٹی بہن آ کر بیٹھی ہوئی تھی میری والدہ نے ٹی وی پر سعودی چینل لگایاجہاں ہر وقت خانہ کعبہ کا طواف دکھایا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ بتا نے لگیں کہ میںنے یہاں یہاں نفل پڑھے ہیں، میری بہن کہنے لگی کہ پتہ نہیں ہم کب جائیں گے حالات اجازت ہی نہیں دیتے ، پیسے کی اتنی تنگی ہے تو میں نے اپنی بہن سے کہا کہ تم پھر بھی کبھی نہ کبھی چلی جائو گی کیونکہ تمہارا خاوند تمہارا محرم ہے ، میرا تو کوئی محرم ہی نہیں ، میں ساری زندگی نہیں جا سکوں گی کیونکہ میں نے والدہ کی خدمت کی وجہ سے شادی نہیں کی، والد صاحب انتقال کرچکے ہیں اور بھائی بھی نہیں ہے۔ آپ یقین جانیے کہ اگلے ہی دن میرے ماموں کی بیٹی نے مجھے فون کیا اور کہا کہ باجی آئیں عمرہ کرنے چلتے ہیں میں نےکہا میراتوکوئی محرم نہیں ہے میںنہیں جا سکتی تو وہ بولی والد صاحب بھی جا رہے ہیں وہ آپ کے ماموں ہیں، محرم بن جائیں گے۔ وہ اور اس کا خاوند آئے میرا پاسپورٹ اور پیسے لے کر چلے گئے چار دن بعد ہم سب کا عمرہ کا ویزہ لگ گیا۔
محرم نہیں‘زندگی بھر محروم رہوں گی!
آپ یقین جانیں جب میں خانہ کعبہ کے سامنے گئی تو بے ساختہ مجھے اپنے بہن کے ساتھ کہے الفاظ یا د آگئے کہ میرا کوئی محرم نہیں میں تو زندگی بھر نہیں جا سکوں گی ، میںاتنا روئی کہ یا اللہ میںنے دکھ کی کیفیت میں یہ الفاظ کہے اور دل ہی دل میں آپ سے گلہ کیا تھا اور آپ نے مجھے بتایا کہ میں کس طرح تمہیں اپنے گھر بلاؤں گا، یہ میرا کام ہے انسان کے سوچنے کا نہیں۔بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ، انسان کو کبھی اس کی رحمت اور قدرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس قادر مطلق کی ذات پر اپنے یقین کوپختہ کرنا چاہیے۔مجھے لگتا ہے یہ میں نے جو اپنی والدہ کی خدمت کی تھی یہ اس کا صلہ ملا ہے ،میری والدہ آٹھ سال تک بستر پر رہیں ، میں ان کے بستر کے ساتھ عارضی کموڈ سیٹ رکھتی تھی اور انہیں حاجت کرواتی ، صاف کرتی، اللہ کے حکم سے جسمانی طور پر انہیں اتنا صاف ستھرا رکھتی کہ انہیں آٹھ سال بستر پر رہنے کے باوجود بھی جسم پر کوئی زخم نہیں ہوا ، میرے عمرہ کرنے کے ایک سال بعد ان کی وفات ہوئی ‘ اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے‘ آمین۔