ٹوبہ نے مزید بتایا: میرے پڑدادا حاجی فتح محمد چغتائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ذمے بہت سی چیزیں لی ہوئی تھیں جب ان کے پاس ریاست بہاولپور کا عہدہ تھا اور انہوں نے ایسے قانون بنائے اور ہر قانون میں حلال و حرام‘ جائز اور ناجائز کی تحقیق اور تشخیص کی‘ 1۔مثلاً انہوں نے سبزی اور پھل منڈی میں سبزیوں اور پھلوں کی ڈھیریاںلگتی تھیں ‘ناقص سبزی یا پھل نیچے ہوتے تھے اور اعلیٰ درجہ کی سبزیاں اور پھل اوپر ہوتے تھے ۔اس کا باقاعدہ قانون بنایا‘ اس پر سزا مقرر ہوئی‘ اس کے لیے اہلکار ہوتے تھے جو جاکر اس کو دیکھتے تھے۔ 2۔عام شرعی اصولوں کے مطابق اس وقت ان کا ثمر باغ بکنا چاہیے جب پھول نہیں چھوٹا سا پھل لگ جائے‘ اگر چھوٹا سا پھل لگ جائے پھر آم بیچنا چاہیے عموماً ایسا ہوتا ہے کہ آم کے دنوں میں آندھیاں آتی ہیں اور وہ پھول اور پھل کو توڑ کر رکھ دیتی ہیں‘ اب سمجھدار لوگ دنیا کے اعتبار سے جب تھوڑا سا آم کا پھول نکلتا ہے تو آم کا باغ پھل کے لیے بیچ دیتے ہیں لیکن پڑدادا رحمۃ اللہ علیہ نے یہ اصول بنایا اور یہ اصول پوری ریاست بہاولپور میں تھا کہ جب درخت پرپھل آجائے پھر باغ کا ثمر بکے۔ 3۔ جانور ہمیشہ جب بھی بیچتے ہیں اس کا عیب نہیں بتاتے بلکہ اس کا عیب چھپاتے ہیں‘ اس کے لیے باقاعدہ اصول اور قانون بنائے گئے۔4۔ فلور مل اور دوسری چیزیں تو تھیں نہیں‘ جہاں گندم جمع ہوتی تھی یا کوئی اور جنس مکئی‘ جوار‘سرسوں‘ باجرہ وغیرہ چاول‘ تو وہاں جنس کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھتے تھے کہ کیا اس میں کوئی پانی اور نمی تو نہیں‘ ان کے مزاجوں میں حلال و حرام جائز ناجائز کا احساس اور درد تھا۔
پھر ایک اور چیز تھی کہ غیرمسلموں کے بارے میں کیونکہ ریاست بہاولپور میں سکھ‘ ہندو اور عیسائی رہتے تھے ان کے بارے میں ان کا دل بہت نرم تھا‘ مسلسل حضور ﷺ کی احادیث اور بڑوں رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے واقعات بتاتے تھے اور ان سے حسن سلوک کرتے حتیٰ کہ ان کی عبادت گاہیں یعنی غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کا احساس اور خیال تھا اور اس پر ان کی توجہ تھی ان کے احترام کو بہت زیادہ ملحوظ رکھتے تھے۔ایک اور چیز ان کی طبیعتوں میں تھی کہ پرندوںکو قید کرنا‘ ان کا ناجائز شکار کرنا‘ ان کو مارنے کا مشغلہ‘ ان کے گھونسلے سے بچے اٹھانا‘ اس کے لیے ان کے اندر احساس تھا‘ ہمدردی‘ درد‘ غم اور فکر تھی۔ کئی واقعات ایسے ہیں کہ انہوں نے پیسے دیکر پرندوں کو اور ان کے بچوں کو چھڑوایا یا پھر جو عادی تھا اس کو سزائیں دلوائیں۔ اسی طرح جانوروں کے شوقیہ شکار کے سخت مخالف تھے مزید گھرپال جانوروں کی دیکھ بھال کیلئے لوگوں کو باتیں بتاتے۔پرانا بابا مجھے بڑی اچھی باتیں بتاتا تھا اور ساتھ اور پرانے بوڑھے جنہوں نے انہیں دیکھا اور پھر کتابیں جن کے اندر ان کے حالات لکھے ہوئے ہیں‘ یہی ساری باتیں کتب میں بھی ملتی ہے‘ کسی کتاب میں ایک کسی میں دو کسی میں تھوڑی کسی میں زیادہ جو اس دور کی لکھی گئی ہیں اس میں بھی یہ حالات بہت زیادہ ملتے ہیں کہ ان کے اندر کتنی عظمت تھی اور ان کے اندر کتنا احساس تھا۔
اگر میں ان کے حالات بتانا شروع کروں جو میں نے بوڑھے لوگوں سے سنے ہیں ہے جن میں بابا ٹوبہ بھی ہے تو اور عجیب ہیں ان شاء اللہ اور بھی سناؤں گا