ہر انسان کی خواہش ہے کہ وہ تھوڑا وقت استعمال کرے اور زیادہ فائدہ اٹھائے۔ مگر کامیابی کے لیے محنت اور استقلاتی جدوجہد لازم ہے۔پھر اس محنت کا رنگ ایک اعلیٰ قسم کے پھل اور کامیابی کی صورت میں آتا ہے۔ جتنے بھی طلبا و طالبات ہیں جس جس شعبے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے پاس مقابلے کا رجحان زیادہ ہو گیا ہے۔ آج کل کے اس مشینری دور نے جہاں مسائل کھڑے کیے وہی طلبا و طالبات کی دشواری میں اضافہ ہو گیا۔ مانا کہ ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے۔ مگر ٹیکنالوجی کا استعمال صحیح ہو تو تب نا۔ سڑک، روڈ پر بھاگتی شور مچاتی ہوئی گاڑیوں، بسوں نے دماغی سکون کو برباد کر دیا ہے۔ پہلے سبق آدھے گھنٹے میں یاد اور تیار ہو جاتا تھا مگر اب تو ڈھائی گھنٹے بھی گزر جائیں تو غنیمت کا کوئی موقع ہاتھ ا ٓتا ہے۔ جس میں سبق یاد ہو جائے۔ میں نے اس عمل کو آزمایا ہے۔اس عمل میں شرائط یہ ہیں کہ نماز کی پابندی، روزہ کی پابندی، گناہوں سے بچنا، (سب سے زیادہ کام نظروں کی حفاظت ضروری ہے) دوسروں کے فائدہ کے بارے میں سوچنا۔ عمل کا دورانیہ: عام آدمی کے لیے15 سے 20 منٹ حفاظ اور خاص کے لیے 7.5 سے 10 منٹ۔ عمل کا وقت: عشاء کی نماز کے بعد، اپنے بستر پر لیٹ کر یا بیٹھ کر۔ شروع: امتحانوں سے کم از کم 40 یا 50 دن پہلے۔ بہتر یہ ہے کہ 55,50 دن پہلے شروع کیا جائے تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوں۔ اختتام: جسے بھی مدت پوری ہو جائے 55 دن کی، یا 50 دن کی 40 دن، 40 دن سے کم نہیں زیادہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔ عمل کی مزید شرطیں: دورد شریف کی کثرت سوتے وقت منہ قبلہ رخ ہو۔ کتابوں کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنا اور زبان کا فحش کلام سے باز رکھنا وغیرہ۔ عمل کے جزو: (۱) درود شریف (۲) سورۃ الکوثر (۳)درودشریف۔ عمل کا طریقہ: کوشش کرے کہ عشاء کی نماز سے پہلے سارے کاموں سے فارغ ہو جائے اس عمل کے بعد کوئی کام نہیں کرنا ہے۔ صرف سونا ہے اور کوشش کے ساتھ فجر کے وقت اٹھنا ہے اپنے معمولات نماز کے کرنے میں نبی اپر درود پاک پڑھتے ہنا ہے چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے۔ (۱) پہلے ایصال ثواب کرے یعنی ایک مرتبہ درود شریف سورۃ فاتحہ ایک مرتبہ سورۃ اخلاص تین مرتبہ پھر ایک مرتہ درودشریف۔ (۲) گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پہلے پڑھ پھر 41 مرتبہ سورۃ الکوثر پارہ نمبر 30 پڑھے۔(۳) پھر گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھے اورقبلے کی جانب رخ کر کے اللہ سے دعا مانگنے کے بعد اپنے اوپر پھونک مارکر سو جائے ۔ اس کے علاوہ جس مضمون میں مشکل ہو اس کا تصور کر کے عمل کریں اور سو جائیں انشاء اللہ تعالیٰ امتحان میں آسانی ہوگی اور تیاری کے مطابق سوالات ہونگے۔ یقین کامل شرط ہے یہ میرا آزمودہ