تلاش

حضرت سیدنا ہشام بن حبیش بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ ،حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے غلام حضرت سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور راہبر عبداللہ بن اریقط لیثی یہ چاروں مکہ مکرمہ سے بقصد ہجرت مدینہ منورہ کو روانہ ہوئے، (غار ثور میں تین دن قیام کے بعد وہاں سے چلے) اور مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ کے درمیان ایک بستی قُدَیْد میں سیدنا اُمّ معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہا خزاعیہ کے دو خمیوں پر گزر ہوا، جن کا پورا نام اُمِّ معبد عاتکہ بنت خالد خزاعیۃ تھا۔ آپ ایک ضعیف خاتون تھیں، اپنے خیمے میں بیٹھی رہتیں اور مسافروں کو کھانا، پانی وغیرہ دے دیا کرتیں تھیں۔ حضور اکرمﷺ اور آپﷺ کے ساتھیوں نے ان سے کھجور یا گوشت کا پوچھا کہ اگر ان کے پاس ہے تو خرید لیں۔ مگر ان کے پاس یہ چیزیں نہ تھیں، جب کہ ان حضرات کے پاس جو کچھ زادراہ تھا وہ بھی ختم ہونے کو تھا۔ اچانک حضور اکرمﷺ کی نظر مبارکہ خیمے کے ایک کونے میں بندھی بکری پر پڑی، آپﷺ نے فرمایا: ’’اُمّ معبد! یہ بکری کیسی ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یہ دیگر بکریوں کے ساتھ چرنے کو نہیں جاسکتی۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’دودھ دیتی ہے؟‘‘ کہنے لگیں: ’’دودھ دینے کی عمر گزر چکی ہے۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دودھ لوں؟‘‘ عرض کیا: ’’میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیوں نہیں؟ اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ دودھ دیدے گی تو شوق سے دودھ لیں۔ ‘‘ آپﷺ نے بکری کو پکڑ کر اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا، اللہ کا نام لیا اور دعا کی تو تھن دودھ سے اتنے بھر گئے کہ ان سے خود بخود دودھ ٹپکنا شروع ہوگیا۔ آپ ﷺ نے برتن منگوا کر اسے دوھنا شروع کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ برتن منہ تک بھر گیا، آپﷺ نے سیدنا ام معبد رضی اللہ عنہا کو پلایا پھر اپنے ساتھوں کو دیا سب کے سبر سیر ہوگئے، آخر میں آپﷺ نے خود بھی نوش فرمایا۔ دوبارہ دوھا تو برتن پھر بھر گیا، اور یوں سیدنا ام معبد رضی اللہ عنہا کے برتن دودھ سے چھلکنے لگے۔ بہرحال آپﷺ نے دودھ وہیں چھوڑا اوردوبارہ سفر کردیا۔ شام کوسیدنا ام معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےشوہر ابو معبد بکریاں چرا کر واپس آئے ، اور خشک و ناتواں بکریاں ان کے آگے آگے تھیں، گھر کے برتن میں دودھ دیکھ کر 
انہیں بڑا تعجب ہوا اور کہنے لگے: ’’ام معبد یہ کیا ہے؟ گھر میں ایک بکری ہے، وہ بھی خشک اور دوھنے والا بھی کوئی نہیں، یہ اتنا سارا دودھ کہاں سے آیا؟‘‘ سیدنا ام معبدؓ بولیں: ’’بات دراصل یہ ہے کہ آج ہمارے یہاں ایک مبارک شخصیت تشریف لائی  تھیں اور یہ سب انہیں کی برکتیں ہیں۔‘‘ سیدنا ابو معبد نے کہا: ’’وہ کون تھے؟ مجھے ان کا حلیہ بتائو۔‘‘ وہ کہنے لگیں: ’’خندہ پیشانی، نورانی چہرہ، خوش اخلاق، نہ پیٹ بڑا، نہ سر چھوٹا، حسن و جمال کا پیکر، سیاہ اور لمبی آنکھیں، آواز میں رعب، لمبی گردن، گھنی ڈاڑھی، ابرو باریک اور باہم ملے ہوئے، چپ رہیں تو پروقار لگیں، بولیں تو ہلتے ہونٹ دل موہ لیں، دور سے دیکھو تو حسن کا پیکر، قریب سے دیکھو تو مجسمہ جمال، گفتگو واضح اور سادہ و میٹھی، نہ ضرورت سے زیادہ بولیں نہ کم اور جب لب کشائی فرمائیں تو ایسا جیسے لڑی میں موتی پرو دیئے گئے ہوں، درمیانہ قد آنکھ کو بھائے جو نہ تو حد سے زیادہ اور نہ ہی کم، مختلف قد کے تین آدمی کھڑے ہوں تو جس کا قد دل کو بھائے وہی آپ کا سراپا ہے۔‘‘ آپ کا حلیہ بیان کرنے کے بعد سیدنا ام معبدؓ بولیں: ’’ان کے ساتھ خدمت گزار ساتھی بھی تھے، اگر وہ کوئی بات کہتے تو ان کے ساتھی چپ ہو جاتے اور کوئی حکم کرتے تو اسے پورا کر دکھانے کے لیے سرعت کا مظاہرہ کرتے، آنے والے بزرگ نرم خو، مخدوم اور غرور و تکبر سے ناآشنا تھے‘‘۔ یہ سن کر ابو معبد بولے: توضرور ان کی غلامی اختیار کروںگا۔‘‘ بعد میں آپ مسلمان ہوگئے تھے۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورکریمﷺ کی موجودگی میں ہی گھر تشریف لائے اور آپؓ کی زوجہ حضرت سیدنا ام معبدؓ اور آپ دونوں اسی وقت مسلمان ہوگئے تھے۔ (الریاض  النضرۃ، ج ۱، ص ۱۱۷، شرح السنۃ، کتاب الفضائل، باب جامع صفاتہ، الحدیث: ۳۵۹۸، ج۷، ص ۴۹، سیرت سید الانبیاء، ص ۲۳۵)