محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!سدا خوشیاں اور کامرانیاں آپ کے ساتھ رہیں‘ آپ کے بتائے وظیفے دو انمول خزانے اور یَارَبِّ مُوْسیٰ یَا رَبِّ کَلِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھ رہی ہوں اس کے پڑھنے سے اپنے اردگرد حفاظت کی دیوار محسوس ہوتی ہے‘ آپ کے درس باقاعدگی سے سن رہی ہوں کام کرتے ہوئے لگا لیتی ہوں کام بھی جلدی ہوتا ہے اور سکون بھی ملتا ہے۔ آپ کا بتایا ہوا وظیفہ مشکل میں بہت کام آیاچھوٹے بیٹے کو یونیورسٹی چھوڑنے گئے تو بارش بہت زیادہ تھی گاڑی ریورس کرتے ہوئےوَکَفٰی بِاللہِ وَلِیًّا، وَکَفٰی بِاللہِ نَصِیْرًا پڑھ رہی تھی کہ اچانک میری گاڑی ایک بالکل برانڈ نیو کار سے جاٹکرائی ‘ غصے سے بھرا وہ شخص گاڑی سے باہر آگیا‘ میں نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے معذرت کی مگر اس نے اپنی گاڑی لاکر میری گاڑی کےآگے کھڑی کردی‘ وہ آدمی گاڑی سے باہر آگیا۔ معذرت کے باوجود ہماری گاڑی کے آگے اپنی گاڑی کھڑی کر دی کہ میرا بہت نقصان ہوا ہے۔ مہینے کا آخر تھا اس وقت زیادہ پیسے بھی نہیں تھے میں نے دل ہی میں وَکَفٰی بِاللہِ وَلِیًّا، وَکَفٰی بِاللہِ نَصِیْرًا پڑھنا شروع کردیا ابھی تین دفعہ پڑھا کہ اچانک وہ غصے سے بھرا ہوا شخص نارمل حالت میں آیا‘ اس نےد و لمبی سانسیں لیں اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ وہاں موجود لوگ حیران رہ گئے کہ نئی گاڑی کا اتنا نقصان ہوا اور اس شخص نے کچھ بھی نہیں کیا۔یہ سب اس وظیفےکا کمال تھا۔