تلاش

قارئین السلام علیکم! جس طرح انسان کو خوبصورتی کھینچتی ہے اسی طرح انسان کو اخلاق بھی قائل اور مائل کرتا ہے۔ اخلاق دنیا کا وہ ہتھیار ہے جو سخت سے سخت لوہے کو بھی موم کردیتا ہے کئی مذہبی لوگ ایسے ہیں جو اخلاق اور اچھے کردار سے لوگوں کو اپنے مذہب میں داخل کررہے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تشریف فرماتھے‘مفہوم ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا اسلام کا سب سےمضبوط عمل کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا نماز‘ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا جہاد۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا۔ زکوٰۃ۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا۔ ’’روزہ‘‘ آپﷺ نے فرمایا: نہیں۔ پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا:  روزہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ پھر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا: یارسول اللہ ﷺ! آپ ہی ارشاد فرمادیں۔ سرور کونین حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اخلاق‘‘ اسلام کا سب سے مضبوط عمل ہے۔ 
تو قارئین ہمارا قافلہ نومبر 2021ء میں عراق گیا‘ عراقی عوام کے مزاج میں‘ میں نے ایک اچھی چیز یہ بھی دیکھی کہ یہ عراقی بہت بااخلاق لوگ ہیں۔ مسافروں اور مہمانوں کے ساتھ ان کا برتاؤ بے حداچھا ہے۔ زائرین کو عراقی باشندے کشادہ پیشانی اور مسکراتے چہرے سے ملتے ہیں۔ کربلا شہر میں میں اپنےوالد محترم مدظلہٗ کے ساتھ گلیوں میں چل رہا تھا کہ اچانک بیکری والے کی فیکٹری میں گئے تو جب ہم داخل ہوئے تو ایک بوڑھا آدمی کھڑا ہوا تھا‘ ہم چند افراد تھے‘ اس بوڑھے نے سب کو دیکھ کر بسکٹ اٹھا کر دینا چاہے‘ والد صاحب نے منع کردیا‘ اس نے اصرار کیا تو والدصاحب نےا یک بسکٹ لے کر سب میں تھوڑا تھوڑا تقسیم کرکے کھلا دیا۔ سخاوت اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی‘ حتیٰ کہ روٹی کی دکان پر اس نے ہمیں اندر بلالیا اور کہنے لگا: اندر آکر بے شک آپ تسلی سے روٹی بنانے کا طریقہ دیکھیں‘ دکانوں پر جب ہم جاتے تو لوگ ہمیں بڑی خوشی سے کہتے ’’اھلاً وسھلاً‘‘ میں ان لوگوں کے اخلاق اور رویےسے بہت متاثر ہوا اور صرف میں متاثر نہیں ہوا جو بھی عراق سے ہوکر آتا ہے وہ متاثر ہوئےبغیر نہیں رہتا۔ اسی طرح ہم اپنے اچھے اخلاق پہلے اپنے گھر والوں کو دکھا کر اس کی ابتدا کریں اور باہر بھی اس بات کو پھیلائیں اور اگر آپ کوکوئی غیرملکی باشندہ ملے تو اس کو خوب عزت اور احترام سے ملیںیہاں تک کہ اگر ہوسکے تو اسے ہدیہ دیں اور پھر وہی بندہ ہوگا جو اپنے ملک میں جاکر ہمارے وطن پاکستان کی عزت‘ عظمت‘ وقار اور محبت کو بتانے کا‘ پھیلانے کا‘ غائبانہ دکھانے کا ذریعہ بنے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: مفہوم ہے ہدیہ دو‘ ہدیہ دینے سے محبت بڑھتی ہے‘‘ حضورﷺ نے کا فرمان سچ ہے‘ میرے حبیب ﷺ سچے ان کا ہر فرمان سچا۔ قارئین! یہ میرا ادنیٰ سا تجربہ ہے جو میں نے آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ ان شاء اللہ اگر اللہ آپ کو وہاں لے کر جائے تو آپ بھی ان کے اخلاق سے خوب لطف اندوز ہوں گے۔