تلاش

قارئین! ہماری زندگی کے کچھ فیصلے ہمارے آنے والی زندگی اور پھر نسلوں تک اثر انداز ہوتے ہیں‘ ایک لمحے کا غصہ پوری زندگی برباد کرکے رکھ دیتا ہے‘ میرے ایک انتہائی عزیز دوست ہیں انہوں نے گزشتہ دنوں باتوں باتوں میں ہی ایک اپنا خاندانی واقعہ سنایا جسے سن کر میں کافی دیر خاموش سوچوں میں گم ہوگیا کہ کاش وہ یہ غلطی نہ کرتے اور اتنی بڑی سزا جو وہ بھگت رہے ہیں نہ بھگتتے اور آج خوشحال ہوتے۔ آپ کو وہ سچا واقعہ بتاتا ہوں جسے پڑھ کر بے شمار بیٹوں کی مائیں اور بیٹے شاید سنبھل جائیں‘ تکبر اور غرور سے باہر نکل آئیں اور مکافات عمل کے اس عذاب سے بچ جائیں۔ آئیے! اب میرے عزیز دوست کی زبانی یہ واقعہ سنیں!
میری تائی جان کو اللہ نے بہت زیادہ نوازا ہے‘ ان کے دو بیٹے ہیں‘ اچھے خاصے کھاتے پیتے‘ کاروباری لوگ ہیں۔ بڑے بیٹے کی شادی ہمارے خاندان کے ہی ایک متوسط باعزت گھرانے میں ہوئی‘ میری تائی جان اور میرے کزن کا رویہ اس لڑکی کے ساتھ شروع سے ہی عجیب تھا‘ ان کو اپنے دولت‘ رتبے کاروبار کا غرور تھا‘ اس کو ہروقت طعنے دئیے جاتے‘ وہ بیچاری سب کچھ سہہ کر بھی ان کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتی۔ چھ ماہ تک اولاد کی امید نظر نہ آئی تو تائی جان نے اس کو طعنے دینا شروع کردئیے‘ میری والدہ اکثر تائی جان کو سمجھاتیں کہ یہ سب اللہ کے کام ہیں‘ ابھی تو شادی کو مہینے ہی کتنے ہوئے ہیں‘ ان شاء اللہ کرم ہوجائے گا۔ مگر میری تائی جان ہمیشہ یہی کہتیں کہ اگر دو تین ماہ میں امید نہ لگی تو میں اپنے بیٹے کی کسی بڑے گھر میں شادی کردوں گی۔ جب یہ بات اس لڑکی کو معلوم ہوئی تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی‘ وہ بھاگم بھاگ لیڈی ڈاکٹر کے پاس گئی‘ اس نے بتایا کہ تمہیں بڑا کوئی مسئلہ نہیں بس یہ دو سے تین ماہ اپنا علاج کروا لو‘ تم بالکل ٹھیک ہو‘ اس نے ساری بات اپنے شوہر کو بھی بتائی مگر وہ بھی ان دنوں ہواؤں میں اڑرہا تھا‘ جھگڑے شروع ہوئے‘ سارا دن بیچاری بانجھ عورت کے طعنے سنتی۔ 
میرے دوست نے آنکھوں میں آنسو لا کر کہا کہ آج بھی مجھے وہ منظر یاد ہے کہ جب صحن میں بیچاری ہاتھ جوڑ کر ساس کی منت کررہی تھی کہ ’’ماں جی صرف چھ ماہ انتظار کرلیجئے‘ اگر اللہ نے میری گود ہری نہ کی تو بے شک مجھے طلاق دے دیجئے گا‘‘ مگر میری تائی نے اس کی طرف منہ بھی نہ کیا اور سامنے کھڑے بیٹے کو کہا کہ میں نے رشتہ والی کو کہہ دیا ہے کہ ہم تمہارا رشتہ کسی بڑے گھر میں کریں گے‘ ہم نے اپنی نسل آگے بڑھانی ہے‘ اور پھر وہ ہوا جس کا کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا۔ اگلے ہی ہفتے اس لڑکی کو طلاق دے کر گھر سےنکال دیا گیا۔ پورے خاندان میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی‘ ہر کوئی افسردہ تھا۔ 
چند ماہ بعد ہی دوبارہ شادی کارڈ ملا‘ میرے اسی کزن کی دھوم دھام سے پھر شادی ہوئی‘ نئی نویلی دلہن گھر آئی اور مکافات عمل شروع ہوگیا۔
یہ لڑکی بڑے گھر سے تھی‘ اس کے اخراجات‘ نخرے اور کسی کام کو ہاتھ نہ لگانا‘ ساس کی بے عزتی کرنا‘ شوہر کےآگے چلانا‘بات بات پر اپنے باپ اوربھائیوں اور والدہ کو بلا کر پورے محلے کے سامنے ان کو ذلیل کرنا معمول بن گیا۔ 
دوسری طرف طلاق یافتہ لڑکی کی بھی شادی بہت اچھے گھر میں ہوگئی‘ اللہ کریم نے جاتے ہی اس کی گود ہر ی کردی اور آج وہ دو بیٹوں کی ماں اور اپنے گھر میں انتہائی خوشحال ہے۔ جبکہ میرے کزن کی زندگی اس عورت نے اجیرن کردی اور ایک سال شادی رہنےکے بعد بھی دوسری بیو ی سے بھی اس کو اولاد کی خوشخبری نہ ملی‘ روز روز کے جھگڑوں سےتنگ آکر اس کی دوسری بیوی نے خود عدالت کے ذریعے خلع لے لیا۔ 
کاروباری نقصان‘ گھریلو ماحول انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے میری تائی بلڈپریشر اور شوگر کی مریضہ ہوکر بستر پر جالگی جبکہ کزن ڈیپریشن کا مریض ہوگیا‘ اب پھر ایک غریب سے گھرانے میں اس کی شادی کی‘ قدرت خدا کی تین سال اس شادی کو بھی ہوگئے ہیں ‘ اس بیوی سے بھی میری تائی کو دادی بننے کی خوشخبری نہ ملی۔ میرا کزن انتہائی پریشان اور تائی بیمار ہوچکی ہے اور وہ لڑکی اپنے گھرمیں انتہائی خوش ہے۔
قارئین! رب کریم کو تکبر غرور ہرگز پسند نہیں۔ ایک جگہ اللہ والے سے سنا تھا کہ اللہ کریم انسان کے تمام گناہوں پر پردہ ڈال دیتا ہے مگر متکبر انسان کو اس کا انجام دکھائے بغیر موت نہیں دیتا۔ جب تک ساری دنیا دیکھ نہ لے کہ کل کا متکبر آج کتنا عاجز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر‘ غرور اور خود پسندی سے بچائے اور اپنے حبیب ﷺ کے بتائے اصولوں پر زندگی گزارنے والا بنائے۔