محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!2020ء میں بذریعہ کال پروگرام کے ذریعے آپ سے بات ہوئی۔میں نےآپ سے اپنا مسئلہ عرض کیا تھا کہ مجھے بہت زیادہ خطرناک اور گمراہ کن اللہ کی ذات سے متنفر کرنے والے وساوس آتے ہیں۔بعض اوقات دل چاہتا تھا کہ اس کی ذات سے مایوس ہو جائوں۔شروع میں تو ان پر زیادہ توجہ نہ کی مگر آہستہ آہستہ یہ وساوس اس حد تک بڑھتے گئے کہ اللہ کی ذات پر یقین ہی کھونے لگی تھی ۔اس کے علاوہ میرا دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ لوگوں سے بہت زیادہ خوف آتا تھا۔ چند مخصوص لوگ ہیں جن کی آواز سُن کر کانپ جاتی تھی اور دل چاہتا تھا کسی کونے میں چھپ جائوں۔ وہ اپنے تھے جنہوں نے زندگی اجیرن کر رکھی تھی ‘ذہنی ٹارچر کیا اور بہت ڈرایا تھا۔ میں ان کے سامنے کھڑی ہوتی تو ہاتھ کانپتے تھے۔ پھر میں نے قریبی رشتہ دار کو اُن کی اپنی سگی بیٹی کو کمرے میں بند کر کے اس درندگی سے مارتے ہوئے دیکھا تھا۔ باہر سے فقط مارنے کی آوازیں اور اس بچی کی آہیں سنی تھیں‘زیادہ دیکھنے کی ہمت نہ ہو سکی جس وجہ سے وہ بچی کئی دن تک سخت تکلیف میں مبتلا رہی۔میںاس کو بچا نہ پائی‘ اس کی مدد نہ کرنے کا صدمہ لگ گیا تھا۔جب کبھی اس ظالم کی آواز سنتی جس نے بچی پر ظلم کیا تو خوف کے مارے میرا سانس بند ہو جاتا تھا۔
ذہنی مریض بن چکی تھی
ان دنوں سانس بھی ڈر ڈر کے لے رہی تھی‘میں سخت ذہنی تنائو میں مبتلا ہو کر باقاعدہ ایک سخت ذہنی مریض بن چکی تھی۔حضرت جی آپ نے مجھے تیسرا کلمہ اور ہر نماز کے بعد’’اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّار‘‘کی ایک تسبیح کا وظیفہ عنایت فرمایا۔ان اعمال کی برکت سےمیں نے رفتہ رفتہ محسوس کیا کہ میرے حالات کتنے بہتر ہو گئے ہیں، گھر کتنا پُرامن ہو گیا ہے، دل سے خلفشار تھی وہ بھی ختم ہو گئی ‘ورنہ میں روز ہر نماز، ہر دعا میں فقط روتی تھی کہ کاش کسی طرح ان وساوس کی دنیا سے چھٹکارا پالوں۔ہر وقت کچھ بُرا ہونے کا جو خوف ہر وقت بے چین رکھتا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا اور الحمدللہ میں اب پُرسکون ہو گئی ہوں۔ ان بابرکت اعمال نے اللہ کا ایسا سہارا دِلایا کہ میری سانسیں بحال ہوئیں،ڈر ڈر کر اور سہم سہم کر جینا چھوڑ دیا۔، جن کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کانپتی تھی اب نظر ملا کر الحمدللہ اعتماد سے بات کر تی ہوں اور اب ان کے لہجے میں ہچکچاہٹ ہے۔
دل چاہتا تھا زبان کاٹ دوں
لاعلاج طبی مسئلہ Venous Malformations اس مرض کی وجہ سے بلڈپریشر کا مسئلہ رہتا تھا اور پھر مسائل کی وجہ سے سٹریس بڑھا تو بلڈپریشر متاثر ہوا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے میری زبان میں رگوں کی اتنی گلٹیاں بن گئی تھیں کہ زبان ہلتی تھی تو چبھن اور درد رہتا‘دل چاہتا تھا زبان کاٹ دوں‘حتیٰ کے کھانے اور پینے سے بھی عاجز آچکی تھی۔ ان اعمال کی برکت ایسی ملی کہ گلٹیاں ختم ہوتی چلی گئیں، زبان ٹھیک ہوئی اور مجھے راحت ملی۔ اب اللہ کی ذات پر بھی پختہ یقین بن گیا ہے‘الحمدللہ۔