محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!اگر کسی سنگ دل اور غصیلے شخص کے پتھر دل کو نرم کرنا ہو تو اس مسئلےکے لئے میرے پاس آزمودہ عمل ہے جو میں نےزندگی میں مختلف مواقع پر کئی مرتبہ آزمایا اور ہر بار مجرب پایا ہے۔
بہنوئی کی دھمکی پر ایک پھونک کا کمال
اگر کوئی شخص کتنا بھی غصے میں ہو تو تعوذیعنی اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم پڑھنے سے غصہ رفع ہوجاتا ہے۔چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ میری بہن کے شوہر نے انہیں معمولی سی بات پر غصے میں مارا پیٹا اور قتل کرنے کی دھمکی بھی دے دی ۔بہن ڈر کر ہمارے گھر آگئی۔ بہنوئی بھی گھر آگئے اور غصے میں چِلانے لگے کہ میری بیوی کو باہر بھیجو‘ہم نے دروازہ لاک کیا ہوا تھا‘وہ ایسے برے طریقے سے غصے کی حالت میں بات کر رہے تھے کہ کسی نے دروازہ نہ کھولا۔تھوڑی دیر گزری اور وہ دوبارہ آگئے اور مزید غصے کی حالت میں چِلّانے لگے۔میں نے اپنی بہن کو گیارہ بار تعوذ پڑھنے کا کہا اور خود بھی بہنوئی کا تصور کر کے پڑھنے لگی۔دیکھتے ہی دیکھتے ان کے لہجے میں نرمی آئی ‘وہ اگلے دن دوبارہ آئے اور انتہائی اچھے انداز میں پیش آئے‘اپنی کیے پر شرمندہ ہوئے اور بہن کو گھر لے گئے۔اللہ کا شکر ہے دوبارہ ان میں جھگڑا نہیں ہوا۔
غصہ ایسے ختم ہوا جیسے کبھی تھا ہی نہیں
دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ میری امی مجھ سے کسی بات پر سخت ناراض تھیں۔میںنےگیارہ بار اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم پڑھا اور نظر بچا کر امی پر پھونک مار دی‘ تین مرتبہ یہ عمل کیا اور پھرمیں نے امی سے بات کی تو ایسا معلوم ہو اجیسے غصہ تھا ہی نہیں ‘ مجھے امید بھی نہیں تھی کہ والدہ اتنی جلدی مان جائیں گی۔ اب جب بھی امی ناراض ہوتی ہیں تو بس اب میں ایسا ہی کرتی ہوں۔اس عمل کا الحمد اللہ فوراً اثر ہوتا ہے ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں ہوتی، جیسےچولہا بند کرنے سےابلتے ہوئے دودھ کی جھاگ بیٹھ جاتی ہے بالکل اس طرح اس عمل سےانسان کاغصہ بیٹھ یعنی ختم جاتا ہے۔ میرے بھائی جب غصے سےبات کرتے ہیں تو میں فوراً یہ عمل پڑھنا شروع کردیتی ہوں تو چند ہی لمحوں میں نرم پڑجاتے ہیں اورمذاق کے موڈ میں آجاتے ہیں۔ اب کوئی بھی شخص غصہ سے بات کرے یا ناراض ہو جائے تومیں صرف گیارہ بار تعوذ پڑھ کراس کو دم کردیتی ہوں‘جو کوئی بھی ناراض ہو اسےمنانا بھی نہیں پڑتا ‘وہ خود صلح اور نرم لہجے میں بات کرنےپر آمادہ ہو جاتا ہے۔(ف‘ص۔ ملتان)