تلاش

صبح آپریشن ‘ لڑکی کو ہسپتال سے نکال لائے
کل صبح اس بچی کا آپریشن ہے‘ خون کا انتظام کیجئے‘ انہوں نے خون کیلئے مختلف احباب کو فون کرنا شروع کردئیے‘ میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک مجھے کال آئی کہ میری بیٹی کا کل آپریشن ہے؟ میں نے پوچھا کس چیز کا‘ انہوں نے بتایا کہ اس کو گزشتہ دو ماہ سے 103 بخار ہے‘ انتہائی پریشانی تھی‘ وجہ معلوم نہ ہورہی تھی‘ شہر کے بڑے ہسپتال میں آکر چیک اپ کروایا تو معلوم ہوا کہ اس کے جگر کے ساتھ زخم ہے جس کی وجہ سے اس کا بخار نہیں ٹوٹ رہا‘ دن میں کچھ ہلکا ہوجاتا ہے اور جیسے ہی رات ہوتی ہے دوبارہ بخار ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اس کا آپریشن کرنا پڑے گا۔ یہ بات مجھے میرے ایک عزیز گزشتہ دنوں بتارہے تھے اور میں انتہائی انہماک سے ان کی بات سن رہا تھا‘ میرے یہ عزیز فیصل آباد میں ٹیکسٹائل مل میں اچھے عہدے پر ملازم ہیں‘ ان کے ایک دوست کی بیٹی کو یہ مسئلہ تھا اور یہ سارا واقعہ مجھے سنا رہے تھے۔مزید بولے کہ میں نے اس دوست کو کہا ہے کہ تم آپریشن نہ کراؤ‘اپنی بیٹی کو ہسپتال سے فوراً لےآؤ‘ ایک بابا جی میرے جاننے والے ہیں‘ میں ان سے بات کرتا ہوں وہ بہت اچھے حکیم ہیں‘ میرے عزیز نے بتایا کہ میرے کہنے پر اس دوست نے ہسپتال والوں سے جھگڑا کرکےاپنی بیٹی کو وہاں سے لے آئے۔
قریبی گاؤں کے حکیم کا عجب ٹوٹکہ
میرے عزیز مزید بتانے لگے کہ میں نے فوراً فیصل آباد کے ایک قریبی گاؤں میں ایک حکیم صاحب ہیں‘ ان سے رابطہ کیا‘ ان کے پاس خود گاڑی لے کر گیا‘ ان سے جاکر ساری صورتحال عرض کی‘ انہوں نے انتہائی بے فکری سے میری بات سنی اور اٹھ کر جاتے جاتے مجھے کہنے لگے کہ قیمہ بھون کر لڑکی کو کھلاؤ ٹھیک ہوجائے گی‘ اور چل دئیے‘ میں بھاگ کر پیچھے گیااور کہا کہ باباجی! کس چیز کا قیمہ؟ کہنے لگے: چاہے چھوٹا گوشت(بکرے کا) یا بڑا گوشت(گائے‘ بھینس) کا ہو‘ جو دستیاب ہو کھلادو۔ میں نے بتایا کہ اس کے جگر کے ساتھ سوزش اور زخم ہے‘ میری طرف غصہ سےد یکھا اور کہا کہ جاکر قیمہ کھلاؤ بچی ٹھیک ہوجائے گی۔ میں بڑا حیران ہوا کہ نہ کوئی دوا دی‘ نہ سیرپ‘ نہ پھکی‘ یہ کیسا علاج ہے؟ کہ جگر کے ساتھ زخم ہے‘ ڈاکٹر فوراً آپریشن کا کہہ رہے ہیںاور حکیم صاحب پرانی پنجابی زبان میں مسلسل کہہ رہے ہیں کہ جاکر قیمہ کھلاؤ۔ خیر میں وہاں سے نکلا‘ شہرآکر دوست کو فون کیا اور بتایا کہ اپنی بیٹی کو قیمہ ہلکی کالی مرچ میں بھون کر تھوڑا تھوڑا جتنا وہ کھاسکے کھلاتے رہو‘ بچی کا بخار اتر جائے گا اور وہ ٹھیک ہوجائے گی۔ 
نسخہ سمجھ نہ آیا‘ مگر یقین تھا‘ کرلیااور شفاء مل گئی
ہسپتال سے تو وہ پہلے ہی اسے میرے کہنے پر لے آیا تھا‘ اب اس کے بعد کوئی دوسرا راستہ نہ بچا تھا‘ وہ فوراً قیمہ قصائی سے ہاتھ کا کٹوا کر گھر لے گیا اور بیگم کو دیا کہ یہ بھون دو او ر بیٹی کو جتنا اس کا دل چاہے کھلاتی رہو۔ قارئین ! میں بھی یہ بات سن کر حیران ہوا تھا اور میرے عزیز کے بقول وہ بھی ٹوٹکہ سن کر حیران بھی ہوئے اور پریشان بھی کہ یہ کیا بات ہوئی؟ میں نے بات سنتے ہوئے ان سے عرض کیا کہ یہ کیا ٹوٹکہ ہے؟ قیمہ کھانے سے اندر زخم یا سوزش کیسے ٹھیک ہوسکتی ہے؟ میرے عزیز مسکرائے اور کہا کہ میں بھی یہی سوچتا رہا مگر اس حکیم صاحب کے بتائے بے شمار نسخہ اور طریقہ علاج میرے آزمائے ہوئے تھے‘ انہوں نے جو بھی مجھے نسخہ یا ٹوٹکہ بتایا سوفیصد درست پایاتھا لہٰذا میری سمجھ میں نہ آرہا تھا مگر یقین کہہ رہا تھا کہ کرلے‘ درست ہوگا۔ میں نے پہلو بدلتے ہوئے انتہائی تجسس سے عزیز سے پوچھا کہ پھر لڑکی کا کیا ہوا؟۔میرے عزیز نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ وہ چند دنوں میں ہی سنبھلنا شروع ہوگئی‘ اس کے بخار کی کیفیت دن بدن کم ہونے لگی اورصحت بہتر ہونا شروع ہوگئی۔ الحمدللہ آج وہ لڑکی سوفیصد تندرست ہے‘ سوکھ کر کانٹا بن چکی تھی مگر اب اس پر پھر  بہار آچکی ہے‘ چہرے کی رونق‘ چمک اور لالی لوٹ آئی ہے‘ مرجھائے چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ لوٹ آئی ہے‘ اس کی والدہ اور والد مجھے اور اس بابا جی کو دعائیں دیتے ہیں ۔
ٹائیفائیڈ بخارختم‘ طاقت کا سمندر
قارئین! اپنے عزیز کا یہ سچا واقعہ ان کی زبانی سن کر مجھے جنوری 2013ء کا عبقری رسالہ یاد آگیا‘ اس میں ہمارے ایک مخلص نے اپنا ذاتی مشاہدہ ٹائیفائیڈ بخار کے حوالے سے بتایا تھاجو کہ بے شمار نے آزمایا اور سوفیصد درست پایا ۔ وہ بھی نوٹ فرمالیجئے‘ زندگی بھر کام آئے گا۔ 
ھوالشافی: ایک کلو بڑاگوشت لیں ۔اس کی چھوٹی چھوٹی بوٹی  بنالیں‘ اس میں ایک چھٹانک ادرک‘ اور ایک چھٹانک لہسن کوٹ کر اس کو دھونا نہیں کوئی بھی چیز نہیں ڈالنی یہ گھوٹ کر اس کو دھیمی دھیمی آنچ پرپکا لیں‘ شام کوصرف یہی کھانا ہے جتنا کھاسکیں‘ روٹی نہیں کھانی۔ اس کے بعد دو سے تین کپ دودھ پتی پی لیں۔ یہ عمل کم از کم تین دن کریں۔اگر بخار نہ بھی ہو تو یہ مردانہ طاقت کیلئے بھی بہت زبردست ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ میرے تجربے میں رہا۔ میں نےایک صاحب کو دیا جن کو ہر سال ٹائیفائیڈ بخار ہوجاتا تھا۔ وہ اسلام آباد سے انجکشن بھی لگوا آتے لیکن جولائی میں یا اگست میں ان کو پھر بخار ہوجاتا ان کی آنکھیں پیلی اور کمزوری ہوجاتی تھیں۔ دراصل آنتوں کی بیماری تھی جب سے یہ نسخہ ان کو دیا ہے اللہ نے کرم کیا۔پہلے میں نے یہ نسخہ اپنے اوپر آزمایا تھا مجھے 2002ء میں ٹائیفائیڈ ہوا تھا تب سے لے کر آج تک دوبارہ مجھے عام بخار بھی نہیں ہوا۔ ہرسال اسی موسم میں یہ کھالیتا ہوں۔ عام آدمی ہفتہ دس دن کھالے تو بہت طاقتور چیز ہے۔میں نے یہ نسخہ بیس کے قریب لوگوںکو دیا‘جس میں میرے دوست احباب اور خاندان والے شامل ہیں۔ ویسے میں جس کو بھی ٹائیفائیڈ میں دیکھتا ہوں اس کو لازمی یہ نسخہ بتاتا ہوں اللہ اس کو شفاء دیتا ہے۔
یہ نایاب نسخہ مجھے کیسے ملا؟
 مجھے یہ نایاب نسخہ ایسے ملا کہ جب 2002ء میں مجھے بخارہوا تو ایک آٹے کی چکی والا تھا اس کے ایک دوست کنڈیکٹر نے بتایا تھا اس کو بھی چلتے چلتے ملتان سے یہ نسخہ ملا تھا میرے لیے تو بہرحال بہت زبردست رہا۔ دس سال ہوگئے اس کے بعد مجھے بخار نہیں ہوا۔اس کے بعد میرے پھوپھا جی کوہوا‘ بھانجیوں کو ہوا تقریباً بیس کے قریب بندے تھے جن کو میں نے یہ نسخہ دیا اور اللہ نے انہیں شفاء دی۔قارئین! طاقت‘ صحت‘ بیماریوں سے نجات اور قوت مدافعت بڑھانے کیلئے ایک نایاب چیز آپ کی خدمت میں پیش کی‘ آپ کے پاس بھی اگر کوئی نسخہ‘ ٹوٹکہ‘ وظیفہ‘ عمل‘ نقش ہو تو عبقری میں ضرورلکھیں‘ یقین کیجئے واقعی لوگوں کی دعائیں لگتی ہیں۔