تلاش

فرمان حضرت ابو ہریرہؓ
صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر ؓ سے روایت ہے کا مفہوم ہے: ’’بخار یا تیزی بخار جہنم کی لپٹ ہے‘ اسےپانی (چھینٹے‘ وضو‘غسل کسی بھی طریقہ) کے ذریعے سرد کردو۔ایک دوسرے مقام پر بخار کے علاج کے سلسلے میں حضرت انسؓ سے روایت مرفوعہ ابو نعیم ؒ نے بیان کی کہ ’’ جب تم میں سے کوئی بخار زدہ ہو تو مبتلائے بخار پر ٹھنڈے پانی کی تین دن تک صبح کے وقت سویرے سویرے چھینٹ دی جائے۔‘‘اس کے علاوہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً یہ روایت سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے کہ ’’بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے اسے ٹھنڈے پانی سے دور کر دو‘‘
نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کا طریقہ علاج
’’ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی بخار ہوتا تو پانی کا مشکیزہ طلب فرماتے اور اسے سر پر انڈیل کر غسل کر لیتے یعنی سارے جسم پر پانی اچھی طرح پہنچاتے۔‘‘بخاری شریف میں ابو جمرہ بن عمر ان ضبغی نے روایت کیا ہے کہ مکہ میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس میری نشست و برخاست تھی اسی زمانہ میں مجھے بخار ہونے لگا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اسے پانی سے بجھائو۔‘‘
 ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق بخار ایک عام صحت کا مسئلہ ہے جو ہمارے جسم میں عفونت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ عام طور پربخار جسم کا ایک عمل ہے جس کے دوران جسمانی حرارت بڑھتی ہے۔یہ ایک طبعی عمل ہوتا ہے جس سے جسم میں موجود عفونت کے خلاف لڑائی ہوتی ہے۔بخار کے دوران یہ تدابیر آزمائیں۔1-آرام کریں:اپنے جسم کو آرام دیں۔ 2-سرد پانی سے نہائیں: کیونکہ بخار کی گرمی کم کرنے کے لئے ٹھنڈے پانی سے نہایا جا سکتا ہے۔- ٹھنڈی جگہ :مریض کے آس پاس کی جگہ کو ٹھنڈا رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
جدید سائنسی تحقیق
سائنسدان انسانی جسم اور دماغ پر ٹھنڈے پانی سے نہانے کے اثرات پر تحقیق کر رہے ہیںاور اس تحقیق سے اب تک  یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرم موسم میں نارمل یا ٹھنڈے پانی سے نہانے کے جسم و دماغ پر حیران کن فوائد مرتب ہوتے ہیں۔تحقیق کے اس شعبے میں ممکنہ طور پر انسان کی مختلف جسمانی و ذہنی حالتوں کے لیے بہت کچھ نیا ہے جیسا کہ بلند فشار خون کے مسئلہ سے لے کر ذیابیطس کی دوسری اقسام کے علاج تک اور ڈپریشن سے انسانی جسم میں سوزش اور اشتعال کے مسئلے تک کا ممکنہ علاج بھی موجود ہے۔
شدید بخار میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے
صفراوی بخار میں ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا بہت مفید ہے۔ آج کل شدید بخار کی حالت میں اطباء حضرات بھی مریض کے سر پر برف کی ٹھنڈی پٹیاں رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں اور مریض کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے پانی سے دھونے کی تلقین کرتے ہیں۔کسی شخص کو گرمی کی وجہ سے بخار ہو، اس کے لئے نہانا مفید ہے۔ جدید طب میں بھی برف کے ٹھنڈے پانی سے اس کا علاج کیا جاتا ہے اور مریض کی پیشانی ‘اس کے ہاتھ پائوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھی جاتی ہیں۔
گیلے کپڑے سے بخار کا علاج
جب جسم گرم ہوتا ہے تو وہ خود کو پسینے کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم اگر جسم سے پانی کی زیادہ مقدار خارج ہوجائے تو تیز بخار کا تجربہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم مزید پانی بچانے کے لیے پسینے کے مسام بند کردیتا ہے اور اس وجہ سے بخار پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے،اس صورت حال میں پانی زیادہ پینااس مسئلے کی شدت میں نمایاں کمی لاسکتا ہے۔گیلے کپڑے سے بھی جسمانی درجہ حرارت کو کم کیا جاسکتا ہے، نارمل یا ٹھنڈے پانی سے کپڑے کو گیلا کرکے پیشانی ، کلائی اور بغلوں میں رکھیں جبکہ باقی جسم کو بھی کور رکھیں۔اسفنج کے ذریعے بھی جسمانی درجہ حرارت میں کمی لائی جاسکتی ہے، ٹھنڈے پانی میں اسفنج کو بھگو کر جلد پر پھیریں تاکہ اضافی حرارت خارج ہوسکے، اسفنج کو پورے جسم پر پھیرا جاسکتا ہے مگر ان مقامات پر خاص توجہ دیں جہاں حرارت بہت زیادہ ہو۔اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ دوران بخار بیماری کی کیفیت سے اپنے معالج کو  ضرور آگاہ کرتے رہیں اور اس کی ہدایات پر عمل کریں۔