تلاش

میرے جسم پر گرمی دانے نکلے۔ خارش ہوتی تھی۔ ہاتھوں پر کھجایا تو چھل کر زخم بن گئے۔ اسی طرح ہمارے پاس کے گائوں میں بھی اکثر لوگوں کے گرمی دانے زخموں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ ہم لوگ علاج نہیں کراسکتے۔ کوئی آسان سی دوا بتائیں تاکہ آرام آجائے۔ (زوجہ باغ حسین،میلسی)
مشورہ:سب سے آسانہ ٹوٹکہ یہ ہے کہ آپ نیم کے پتے توڑ کر سائے میں سکھا کر پائوڈر بناکر رکھ لیں اور تازہ پتے بمعہ ٹہنی کے دو کلو پانی میں خوب پکا کر چھان کر رکھ لیں۔ اس پانی سے دن میں دو بارزخم دھوئیں۔ خشک ہونے پر نیم کا پائوڈر چھڑک دیں۔ برسات کے موسم میں نمکولیاں پک جاتی ہیں۔ آپ چار پانچ نمکولیاں روزانہ بچوں کو، بڑوں کو کھلادیں تو پھوڑے پھنسیاں نہیں نکلیں گے۔ نیم دافع عفونت ہے اور اس کی نمکولی پک کر میٹھی ہو جاتی ہے۔ ڈیڑھ دو ہفتہ نمکولی روزانہ کھانے سے جسم کی حدت ٹھیک رہتی ہے۔ دانے نہیں نکلتے۔ نیم کے پانچ پتے چھوٹے اور دو عدد کالی مرچیں لے کر انہیں پیس کر گولی بناکر صبح کھالیں۔ اس سے فائدہ ہوگا۔ پنساری کے ہاں نرکچور مل جاتا ہے اسے پیس لیں۔ ایک چھوٹا چمچ مکھن میں تین چٹکی پسا ہوا نرکچور ملا کر زخموں پر لگائیں مگر پہلے زخموں کو نیم کے پانی سے دھوکر صاف کرلیں۔ اگر ویزلین موجود ہے تو ایک حصہ سفوف ولزین میں ملا سکتے ہیں یہ دوا صبح شام زخموں پر لگائیں۔ نیم کو گھر کا حکیم بھی کہا جاتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی دوا نہیں اس درخت کے سائے میں بیٹھنا اور لیٹنا بھی فائدہ مند ہے پہلے زمانے میں نیم کی ٹہنیاں گھر میں لٹکائی جاتی تھیں تاکہ ہوا صاف رہے۔ بخار کے مریضوں کے بستر پر نیم کے پتے بچھا دیئے جاتے۔نیم کی مرہم، نیم کا عرق، نیم کی گولیاں۔ نیم کی مسواک، نیم کا منجن بنتا ہے اور اس کا صابن بھی پھوڑے پھنسی کے لیے مفید ہے۔