تلاش

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!2020ء میں جب لاک ڈائون میں ٹرانسپورٹک کا نظام بند ہو گیا تھا تو مجھے اپنے کام کے سلسلے میں اپنے شہر سے دوسرے شہر جاناتھا۔ان دنوں بسیں نہیں چل رہی تھیں اور ٹرین کی ٹکٹ بھی نہیں مل رہی تھی۔میں نے جب ایک جگہ سے رینٹ پر کار لے جانے کا فیصلہ کیا تو کرایہ اتنا زیادہ تھا جو میرے لئے سخت پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔میرا جانا بھی اشد ضروری تھا اور میں نے بالآخر بہت سوچنے کے بعد اپنی موٹر سائیکل پر ہی جانے کا ارادہ کیا۔یہ سفر آسان نہ تھا تقریباً سو کلو کی میڑ مسافت پر میری منزل تھی اور پھر اگلے ہی دن واپس بھی آنا تھا۔میں نےاپنی موٹر سائیل لی اور اپنی منزل کی جانب چل نکلا۔میں بخیرو عافیت وہاں پہنچا اور کام مکمل ہونے پر اگلے ہی دن واپس اپنی موٹر سائیکل پرروانہ ہوا۔ابھی میں نے آدھا سفر طے کیا تھا کہ راستہ میں آندھی چل پڑی اور میں بہت مشکل گھر پہنچا لیکن میری آنکھوں میں سخت الرجی ہو گئی ۔میں نے ٹھنڈے پانی سے آنکھوں کو صاف کیا ‘ کچھ افاقہ تو ہوا لیکن مسئلہ مکمل حل نہ ہوا اور تھوڑی دیر بعد دوبارہ تکلیف شروع ہو گئی جس کی وجہ سے میں رات بھر سو نہ سکا۔اس دن اتفاق سے میرے چچا گھر آئے ہوئے تھے جن کا گھر بھی قریب ہی تھا‘ انہوںنے جب میری یہ حالت دیکھی تو گھر گئے اور مجھے ایک ڈراپر لے آئے جو عبقری دواخانہ کا آنکھ شفاء کے نام سے تھا۔میں نے آنکھوں میں ڈالا‘ کچھ دیر بعد مجھے نیند آگئی‘ صبح اٹھا تو میری آنکھیں بالکل ٹھیک ہو چکی تھیں۔(اشفاق علی‘ اسلام آباد)