تلاش

خیر یا شر! اثر نسلوں تک 
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آج کے اس آزمائشوں اور پرفتن دور میں جہاں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے‘ آپ کی رہنمائی ہمارے لئےکسی روشن چراغ سے کم نہیں ہے۔آپ اکثر اپنی شب جمعہ کی ہونے والی محفل میں مکافات عمل کے اوپر بات کرتےہیںکہ اگر آج ہم کوئی خیر کا کام کریں گے تو اس کا اثر ہماری آنے والی نسلوں پر بھی خیر وبرکت کی صورت میں ہی ہو گا اور اگر ہم کسی کی زندگی میں کانٹے بکھیریں گے تو اس کے اثرات بھی ہماری زندگی اور ہماری نسلوں تک چلیں گے۔
ایک ایسا ہی واقعہ آج جو میراآنکھوں دیکھا ہے وہ لکھ رہی ہوں۔ ہماری ایک قریبی رشتہ دار خاتون تھی جنہوں نے میری والدہ کی پرورش بھی کی تھی۔ میری والدہ ان کی بہت عزت کرتی اور بہت زیادہ محبت کرتی تھی۔ وہ ایک مالدار خاتون تھی ان کے شوہر کی جائیداد بھی ہمارے خاندان میں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ ان کا مزاج بہت سخت تھا۔ جب اولاد جوان ہوئی تو بڑی بیٹی کی شادی اپنی بہن کے گھر کردی اور اکلوتی بیٹی کی شادی دور کے رشتہ دار کے گھر کردی جن کا تعلق ایک چھوٹے سے گائوں سےتھا۔ گھر میں صرف ان کا راج اور ان کی حکمرانی تھی۔اپنی بہو کو میکہ نہ جانے دیتی تھی اور بہت سختی کرتی تھی اگر سال بعد کبھی وہ چلی جاتی تو اس سے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مختلف غلط الزامات لگاتی تھی۔ اس کے برعکس اپنی بیٹیوں سے بہت محبت کا اظہار کرتی اور سارا گھر کا کام کاج اپنی بہو سے ہی کرواتی۔ اگر ہمارا کبھی ان کے ہاں جانا ہوتا تو ہمیں بھی اچھے طریقے سےملتی لیکن ہم دیکھتے تھے کہ اپنی بہو کے ساتھ ان کا رویہ بہت سخت ہوتا تھا۔ اس کے بعد ان کی چھوٹی بیٹی کا رشتہ میرے بھائی کے ساتھ ہوگیا۔ میرے بھائی کی ذرائع آمدن اچھی تھی اور بھابی بھی امیر گھرانے سےتعلق رکھتی تھی ان کی آپس میں نوک جھوک جاری رہتی تھی‘ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی بھی عطا فرمائی اور ان میں لڑائی جھگڑا مزید بڑھنے لگا۔ 
دوسری طرف اس خاتون یعنی میرے بھائی کی ساس کا اپنی بہو کے ساتھ لڑنا جھگڑنا بھی بہت زیادہ ہوگیا‘اس کو ہروقت اس کی غربت کا طعنے دئیے جاتے‘انتہائی غریب گھرانہ سے آئی تھی‘ یہ اس کے ساتھ جیسا بھی سلوک کرتے کوئی پیچھے سے پوچھنے تک نہ آتا‘ یہاں تک کہ اسے کھانے پینے کو بھی ٹھیک طرح سے نہ دیا جاتا اور گھر کے سارے کام کاج بھی ان سے کروا کے نہایت سختی سے نمٹا جاتا تھا‘ ان کی بہو کی حالت نوکروں سے بھی بدتر تھی لیکن اس خاتون کو ذرا بھی اپنی بہو پر ترس نہ آتا تھا اور جب ان کی بہو کھانے کے چند لقمے کھا لیتی تو اس کو بہت زیادہ لعن طعن کیا جاتا تھا۔ 
دولت کا غرور اور بہو کی آہیں
ان کو دولت کا غرورتھا چونکہ بہو ایک چھوٹے سے گائوں سے تھی اس لئے اس کے ساتھ یہ بدسلوکی کی جاتی تھی۔ اس دوران بھائی کا بھی بھابی سے جھگڑوں کا سلسلہ طول پکڑنے لگا اور آخر کار بھابی نے طلاق لے لی۔ اللہ کا امر غالب ہے ‘ ان کی بہو کی آہیں اللہ تک پہنچی اور پھر ان کے گھر کے حالات بدلنا شروع ہوگئے۔ میرے بھائی کی ساس جس کو اپنے مال و دولت پر بہت غرور تھا ان کے حالات بدلنا شروع ہوگئے ان کا سارا گھر تونگری سے فاقوں کی طرف جانے لگا۔ ایک بار راستہ میں کہیں ان کی بہو سے ملنا ہوا تو انہوں نے گھر کے حالات کے بارے میں بتایا کہ رزق کی تنگی دن بدن بڑھتی جارہی ہے‘ کاروبار بالکل رک گیا ہے۔
غریب کی بیٹی تڑپتی مرگئی!
 ایک دن ان کی بہو کچن میں کھانا بنا رہی تھی کہ کسی زہریلی چیز نے ان کو کاٹ لیا‘ ان کی بہو سخت بیمار ہوگئی سارا دن وہ اپنی بیماری سے چیختی اور اس کی آواز سارا محلہ سنتا تھا لیکن اس خاتون کو ذرا برابر بھی اپنی بہو کا احساس نہ ہوتا‘ اس کا بیٹا یعنی لڑکی کا شوہر بھی اس معاملے میں خاموشی اختیار کئے رکھتا تھا۔ جب حالت زیادہ خراب ہوگئی تو اسے ہسپتال لے گئے اور وہاں پتہ چلا کہ زہر پھیل چکا ہے اب ٹانگ کاٹنی پڑے گی۔وہ اپنی بہو کو گھر لے آئے اس کی حالت بہت بگڑ چکی تھی ‘بہو کو اس گھر کے والوں سے بھی نہ ملنے دیا جا رہا تھا۔اسے اپنے والدین سے ملے چار سے پانچ سال ہو چکے تھے۔ ایک رات اس نے بیماری کی حالت میں جب بہت اصرار کیا تو اسے میکہ چھوڑ آئے۔اس دن اس لڑکی کی والدہ اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر بہت روئی اور آخر کار اسی بیماری کی حالت میں اس لڑکی کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد وہ خاتون جو میرے لئے نانی کا درجہ رکھتی تھی اس پر مکافات کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کی زد میں ان کا پورا گھرانہ بالخصوص اس کی اولاد آئی۔ اس خاتون کے شوہر سخت بیمار ہو کر بیماری کی حالت میں وفات پا گئے اور وہ خود بھی بیمار ہوگئی۔ گھر میں غربت مزید بڑھ گئی۔ میری منہ بولی نانی جس نے اپنی بہو پر ظلم و ستم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اس کی بیماری مزید بڑھ گئی اور آخر کار اولاد کے غم اور بیماری میں اس کی موت ہو گئی۔ اس کا اکلوتا بیٹا جو سرکاری نوکری کرتا تھا اسے بھی نوکری سے نکال دیا گیا جس وجہ سے اسے اپنا سرکاری کوارٹر خالی کر کے اپنے گھر جانا پڑا۔ جس پر ہماری منہ بولی نانی کو بہت ناز تھا اس پر اولاد میں سخت لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے۔اس کے بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اس خاتون کی چھوٹی بیٹی جو گھر اس کا پہلے اپنا تھا وہاں کرایہ پر رہنے لگی۔ بیٹا جس کے حصہ میں ایک چھوٹی سی دکان آئی تھی وہاں چادر بچھا کر پڑا رہتا تھا۔ ان کے پاس گھر میں بنیادی سامان برتن وغیرہ بھی نہ رہے۔ اس کی بیٹیاں جن کو دولت کا تکبر تھا اب سارا دن محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔
سابقہ بھابھی کی قابل رحم حالت
 ان کی چھوٹی بیٹی جو پہلے میری بھابھی تھی کافی سالوں کے بعد ملی‘اس کی حالت قابل رحم تھی۔ مجھے بتانے لگی کی میں سارا دن ایک چھوٹی سی 400 ڈبیاں بناتی ہوں جس میں کافی مشقت ہوتی ہے اس کے بعد مجھے مزدوری کی اجرت صرف 200 روپے ملتی ہے جس سے میں اپنے بچوں کا بمشکل پیٹ پالتی ہوں۔میں حیران تھی کہ یہ وہی لڑکی تھی جو خود اپنے ہاتھ سے گلاس اٹھانا بھی دشوار سمجھتی تھی آج کسی نہج پر پہنچ چکی ہے۔ اس نے اپنی بیٹی کے حالات کے بارے میں بھی بتایا جو میری بھتیجی تھی کہ اس کے بارے میں بھی پوچھا۔
آپ اکثر صلہ رحمی کے بارے میں تلقین کرتے ہیں میں نے اسی بات پر عمل کرتے ہوئے ان کو کچھ رقم بطور ہدیہ دی تاکہ ان کے گھر کے حالات کچھ بہتر ہوں لیکن ہر بار جب میں ان کو بطور ہدیہ کوئی رقم دیتی ہوں تو ان پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے اور ساری رقم ان کی وہی خرچ ہوجاتی ہے اور حالات ویسے ہی بدتر رہتے ہیں‘ بھائی کا بھی انتقال ہوچکا اور ان کی اولاد لاوارثوں کی طرح تڑپ رہی ہے۔ حقیقت میں یہ اس مظلوم عورت اور اس کی ماں کی آہیں اور بددعائیں ہیں جو ان کا تعاقب کر رہی ہیں ‘ اللہ ان کے حال پر رحم فرمائے آمین۔