تلاش

یہ کہانی سچی اور اصلی ہے۔ تمام کردار احتیاط سے دانستہ فرضی کردیئے گئے ہیں، کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی
محترم حضرت شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!میری دل سے دعا ہے کہ اللہ کریم آپ کو‘ آپ کی نسلوں اور تسبیح خانہ کو سدا شادو آباد رکھے اور آپ ایسے ہی لوگوں کو راہ راست پر لانے کا ذریعہ بنتے رہیں آمین۔میرا سارا بچپن اپنے ہی گھر میں ڈرتے اور سہمتے گزرا کہ میرا بھائی جو مجھ سے عمر میں بڑاہے اس کی صحبت اور عادات اچھی نہیں تھیں ‘اس کی ان باتوں پر والدین اسے ڈانٹ دیتے تھے اور اس سے زیادہ کچھ نہ کرتے جس کی وجہ سے میں والدین سے بات کرتے ہوئے بھی میرے مزاج میںچڑچڑاپن رہتاتھا۔آخر کار بھائی کے دل میں اللہ نے میرے لئے رحم ڈالا اور دوبارہ کبھی اس نے تنگ نہ کیا۔سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب کالج میں داخلہ لیا تھا توگھر والوں سے مکمل توجہ نہ ملنے کی وجہ سے میں بھی غلط صحبت کا شکار ہوگئی اور اپنے ہی خاندان کےایک لڑکے کو پسند کرنے لگی۔جب گھر والوں کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں میرے اوپر کچھ سختی کی اور لڑکے کی والدہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ بھی مجھ سے متنفر ہو گئی۔لیکن اپنے بیٹے کے اصرار میرے والدین سے میرے رشتہ کی بات کرنے آئی لیکن میرے سب گھر والوں نے مخالفت کی اور رشتہ سے انکار کر دیا۔گھر والوں نے بے جا میرا رشتہ نہ کیا اور وقت پر شادی نہ ہونے کی وجہ سے میںانٹرنیٹ کے زریعے گناہوں والی زندگی میں بہت آگے نکل گئی اور اس دوران کسی نامحرم سے بھی میری بات چیت شروع ہو گئی جس سے میں گناہوں کی دلدل میں مزید پھنستی گئی۔اس سے پہلے کہ میں تمام حدیں پار کر اور آگے نکل جاتی میرے اللہ کو مجھ پر ترس آگیا اور ایک دن میری ایک قریبی رشتہ دار خاتون نے مجھے عبقری رسالہ لا کر دیا‘ یہ وہی رشتہ دار تھی جنہوں نے اس سے پہلے میرے گھر والوں کو میرے خلاف کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی لیکن میرے اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔عبقری رسالہ نے میری زندگی‘ میری سوچوں اور خواہشوں کو بدل کر رکھ دیا ‘ ایک ایسا انقلاب میری زندگی میں آیا جو کسی کرشمہ سے کم نہیں ہے۔میں نے عبقری رسالہ میں سے یا قہار کا وظیفہ ایک نامحرم کی محبت کو پانے کے لئے شروع کیا کہ اس وظیفہ کی وجہ سے مجھے میری مجازی محبت مل جائے گی لیکن میرا اللہ کو کچھ اور ہی مطلوب تھا ۔میں نے یہ وظیفہ اور نماز اپنی مجازی محبت کو پانے کے لئے شروع کیا۔جس دن میں نے یہ وظیفہ شروع کیا اس دن سے مجھے خود پتہ نہیں چلا کہ میں کیا سے کیا بن گئی۔میں نے اس وظیفہ کی برکت سے مسنون اعمال کرنا شروع کر دئیے‘نماز پڑھنا شروع کر دی اور میری ذکر میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا۔جس شخص سے رابطہ کئے بغیر میرا ایک پل نہیں گزرتا تھا اب اعمال اور بالخصوص یا قہار کو پڑھنے کی برکت سےمیں نے بات کرنا تو دور کی بات میسج تک کرنا بند کردئیے اور میرے گناہوں کی بنیادی وجہ جو میرا موبائل بن رہا تھا اللہ کے نام کی لذت ایسی ملی کہ اپنا موبائل توڑ کر پھینک دیا کہ یہی میرے اور اعمال والی زندگی میں رکاوٹ تھا جسے میں نے خود ختم کر دیا۔
عبقری کے ذریعے میرا اللہ مجھے مل گیا
سارا دن اعمال میں مشغول رہتی اورکبھی اگر اس شخص کا خیال آتا تو اللہ سے خیر مانگتی رہتی۔جب میں نے خلوص اور مستقل مزاجی سے اعمال والی زندگی کو اپنے اندر سمو لیا تو مجھے دوران ذکر اور دعا ایسا محسوس ہوتا کہ میرا اللہ میرے بالکل قریب میری فریاد سن رہا ہے بس پھر میں اپنے اللہ سے راز و نیاز کرتی‘ تہجد اور اشراق کی نماز کو بھی اپنے معمول میں شامل کر لیا اور حرام کھانے اور چیزوں سے بچنا شروع کر دیا۔میں جو بھی کھانے کا ارادہ کرتی ہوں اللہ مجھے وہ کسی نہ کسی طریقے سے کھلا دیتا اور اگر کسی رشتہ دار عزیز سے ملنے کی تمنا کروں تو وہ خود چل کر گھر آجاتا ہے۔میری اللہ نے ایسی غیبی مدد فرمائی کہ خود حیران ہوں اور پھر مستقل مزاجی سے اعمال کرنے کی برکت سے اللہ نے کب میری دل اور وہم و گمان سے اس نا محرم کی محبت کو نکال کر اپنی محبت کو دل میں ڈال دیا مجھے خود پتہ نہ چلا۔میرے دل میں بس اللہ کی محبت ہے اور زندگی میں سکون آگیا ہے جو بے چینی بے قراری اور پریشانی تھی وہ اعمال کی برکت سے ختم ہو گئی۔میرے زندگی میں جب مجھے یہ نعمتیں ملیں تو مجھ سے اعمال میں کوتاہی ہونا شروع ہو گئی‘آپ کی شب جمعہ میں ہونے والی محفل بھی سننا چھوڑ دی جس کی وجہ سے میرا اپنے اللہ کے ساتھ رابطہ کمزور ہونا شروع ہو گیا اور میں گناہوں کے جال میں دوبارہ جانے لگی لیکن دل ہی دل میں اللہ کو اللہ سے مانگا نہ چھوڑا جس کی ترتیب آپ ہی کے محافل سے سنی۔ایک دن ایسے ہی میں غفلتوں میں ڈوب رہی تھی کہ اچانک مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے کسی نے کہا ہو کہ جب عیب تم کرچکی ہو اگر اللہ یہ لوگوں پر ظاہر کردے۔اس کے بعد میری حالت غیر ہو گئی ایسا محسوس ہوا جیسے میرے جسم سے جان نکل رہی ہو۔میں کئی دن تک اسی کیفیت میں رہی اور ڈر خوف اتنا زیادہ اللہ کا دل میں بیٹھ گیا کہ کسی سے بات بھی نہ کر سکتی تھی صرف ایک زندہ لاش بن کر رہ گئی اور مرنے کے بالکل قریب تھی ایسا لگا جیسے اب میرا آخری وقت قریب ہے۔جب بھی مجھے اپنی سابقہ زندگی کا خیال آتا اور وہ کیفیت آتی کہ اگر میں گناہ اللہ پاک ظاہر کر دے تو اس کے بعد میں شرم سے اپنا سر جھکا لیتی اور مجھے موت کی تکلیف سے زیادہ اذیت یہ کیفیت محسوس ہوتی تھی۔اس کے بعد میں نے دوبارہ سے آپ کی شب جمعہ کی محفل کو سننا شروع کیا اور اللہ سے اللہ کو مانگنا شروع کیا ‘ اپنی  غفلتوں اور گناہوں سے توبہ کی۔اللہ کا مجھ پر خاص کرم ہوا اور میری اعمال ‘ ذکر اور نماز والی زندگی دوبارہ ملنا شروع ہو گئی ۔اللہ کا یہ خاص کرم ہے کہ اس نے مجھ اپنی رحمت اور فضل کو مجھ پر دوبارہ متوجہ کیا ‘ میرے گناہوں کو ظاہر کئے بغیر‘مجھے میرے گناہوں کی سزا دئیے بغیر ایک نئی زندگی عطا فرمائی اور ہدایت دی جس پر اس کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔اللہ سے اب یہی دعا ہے کہ مجھے تسبیح خانہ اور اعمال والی زندگی کے ساتھ جوڑی رکھے اور مجھے کبھی میری کسی خطا کی وجہ سے اپنے سے دور نہ کرے۔آمین۔