مہنگائی بہت‘ بجٹ محدود‘ گزارا تو کرنا ہے!
مہنگائی ہے کہ کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہی جبکہ آمدنی کے ذرائع ہی محدود ہیں۔ ایسے میں تنخواہ دار طبقے کے لیے پورے مہینے کا بجٹ بنانا بہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن گزارا تو بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے۔ بجلی گیس کے بل اور مہینے کا سودا یہ وہ اخراجات ہیں جن سے بچنا ممکن نہیں۔ بجلی اور گیس کے کم استعمال سے ان کے بل تو کم کیے جاسکتے ہیں مگر ماہانہ راشن کے بل کو کم کرنا ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے۔ حالانکہ یہ ناممکن نہیں ہم خود بعض اوقات حد سے زیادہ خریداری کر بیٹھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بجٹ آؤٹ ہوجاتا ہےا ور ہمارے لیے دوسرے اخراجات پورے کرنا مشکل بن جاتا ہے۔ اس لیے صرف حالات کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ پہلے آپ اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ کیاآپ منصوبہ بندی کے تحت خرچ کرتی ہیں۔ اگر جواب انکار میں ہو تو سمجھ جائیں کہ آپ کے معاشی حالات اتنے خراب نہیں‘ جتنے آپ کی ناسمجھی نے بگاڑ دئیے ہیں۔ اس لیے آپ کو تھوڑی سمجھ داری کی ضرورت ہے۔ ایسی اشیاء کو اپنی خریداری کی فہرست سے نکال دیجئے جن کے بغیر بھی آپ کا گزارہ ہوسکتا ہے۔ مہینے کا سودا خریدنے کے لیے گھر سے نکلیں تو ان باتوں کو ضرور ذہن میں رکھیں۔
غیرضروری چیزیں نہ خریدیں
خریداری کرنے سے پہلے کیا آپ ان اشیاء کی فہرست بناتی ہیں جو آپ خریدنا چاہتی ہیں؟ اگر نہیں تو آئندہ سے ایک تفصیلی فہرست بنائیں جس میں چھوٹی بڑی تمام چیزوں کے نام لکھیں۔ جو چیز جتنی خریدنی ہے ان کی تعداد یا مقدار بھی لکھیں۔ ساتھ ہی تمام چیزوں کی اندازے سے قیمت بھی درج کریں۔ اس سے آپ کو اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے خریداری کرنے میں آسانی رہے گی۔ اگر آپ بلاسوچے سمجھے اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے بجائے اپنی فہرست کے مطابق خریداری کریں گی تو آپ کے بجٹ سے باہر ہونے کے امکان نہ ہونے کا برابر ہوگا۔ یہ بھی کریں کہ جیسے جیسے آپ خریداری کرتی جائیں ویسے ویسے ان چیزوں کی قیمت کا حساب بھی کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے دس چیزیں خریدی ہیں تو حساب کریں کہ آپ نے کتنے تک کی خریداری کرلی۔ آپ کے موبائل فون میں کیکلولیٹر ہوگا اسےا ستعمال کریں اور جو آئٹم خریدیں اس کی قیمت اس میں جمع کرتی چلی جائیں۔ اگر آپ چیزوں کو کیکلولیٹ کرتی جائیں گی تو کبھی بھی بجٹ سے باہر نہیں نکلیں گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ اپنی ضرورت کا سامان خریدنے کے بعد خواہ کتنی سستی چیز کیوں نہ ملے ہرگز نہ خریدیں۔ دکاندار جو چیزیں دکھائے دیکھ لیں‘ بھاؤ معلوم کرلیں لیکن ضرورت نہ ہو تو نہ خریدیں۔
جلد بازی سے کام نہ لیں
مہینے بھر کا راشن خریدنے میں جلدبازی سے کام ہرگز نہ لیں۔ سپراسٹور جانے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کریں جب آپ کے پاس کوئی کام نہ ہو۔ مثلاً بچوں کو سکول سے واپس لانا‘ گھر واپس آکر کھانا پکانا وغیرہ۔ اگر گھر کا کوئی مرد لاتا ہے تو یہ سب سے بہترین بات ہے مگر مجبوراً آپ ساتھ جاتی ہیں تو اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ جب آپ مارکیٹ جائیں تو رش کا وقت نہ ہو۔ شوہر‘ بیٹا یا بھائی آپ کے ساتھ ہو۔ کیونکہ پورے مہینے کا راشن خریدنا ہے اس لیے آپ کا پرسکون ہونا بہت ضروری ہے۔
تبدیلی بہت ضروری ہے!
کیا آپ ایک ہی مارکیٹ یا سپراسٹور سے خریداری کرتے ہیں؟ کیا آپ ہر بار ایک ہی طرح کی کمپنی کی چیزیں خریدتے ہیں؟ بہت سے مردو خواتین یہی کرتے ہیں‘ وہ ہمیشہ ایک ہی مارکیٹ‘ ایک ہی دکان سے سارا سودا خرید لاتے ہیں۔ پھر ایک ہی کمپنی کی پراڈکٹس مثلاً صابن، سرف، گھی تیل، شیمپو وغیرہ خریدتے ہیں۔ اور ایک ہی طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔ انسان یکسانیت سے بور ہوجاتا ہے۔ اس لیے زندگی میں تبدیلی بہت ضروری ہے۔ اس تبدیلی کا آغاز آپ مہینے کا راشن خریدنے سے کیجئے۔ خریداری کی دوسری مارکیٹ، دکان یا سپراسٹور کا بھی چکر لگائیں۔ وہاں جاکر دیکھیں ممکن ہے وہاں چیزیں سستی ہوں یا پھر اسی قیمت میں آپ کو بہتر چیز مل جائے۔ ہوسکتا ہے وہاں قیمت میں کم چیز ملے اور آپ کے بجٹ پر اچھا اثر پڑے۔ بعض چیزوں کا متبادل تلاش کرنے میں بھی کافی بچت ہوتی ہے۔ مثلاً کے طور پر آج کر مٹن اور بیف کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ اس لیے فہرست میں مٹن‘ بیف کم کرکے اس کی جگہ چکن کو دے دیں‘ بجٹ کچھ بہتر ہوجائے گا۔
محدود خریداری کریں
مہینے کے سودے کی فہرست بناتے وقت اس بات کا خاص دھیان رہے کہ اس فہرست میں صرف اتنی تعداد‘ مقدار میں چیزیں شامل ہوں جو صرف ایک مہینے کے لیے کافی ہوں۔ راشن خریدتے وقت توازن اختیار کریں۔ کچھ خواتین مہینے م یں ایک ہی بار آٹا‘ گھی، تیل، دالیں اور چاول وغیرہ اتنی مقدار میں خرید لیتی ہیں کہ بعض اوقات دو مہینے کے بھی کافی ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے اس ہینے کا بجٹ بگڑ جاتا ہے اور پیسوں کی کمی جیسے مسائل گھیر لیتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ راشن ایک مہینے کے حساب سے خریدیں‘ مہینے کے آخر میں بچ جانے والی چیزوں کا جائزہ لیں۔ پھر اس لحاظ سے اگلے مہینے کی فہرست بنائیں۔ البتہ اگر آپ سمجھتی ہیں کہ زائد مقدار میں بعض چیزیں خریدنے سے بجٹ آؤٹ نہیں ہوگا تو پھر آپ زیادہ سامان منگوالیں اس میں کوئی حرج نہیں۔
آخری بات
ہمیشہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں‘ چادر تھوڑی چھوٹی ہے تو پاؤں سمیٹ لیں‘ کبھی زندگی میں پریشان نہیں ہوں گے۔ کسی کو دیکھ کر چیز خرید لینا‘ یا بناضروری کوئی چیز خرید لینا آپ کو مہینے کے آخر انتہائی تنگ کرے گا۔ مہنگائی ہمیشہ رہے گی‘ مزید بڑھے گی‘ مہنگائی کو کم کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے وہ ہے آپ اپنی انکم کے ذرائع بڑھالیں‘ مہنگائی کم ہوجائے گی۔ پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی ہے اور مزید بڑھے گی‘ مہنگائی صدیوں سے بڑھ رہی ہے‘ اگر آپ مثال کے طور پر روزانہ کے دس روپے کما رہے ہیں تو ہمت کرکے بارہ روپے کمانا شروع کردیجئے آپ کو مہنگائی محسوس نہ ہوگی۔