تلاش

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میں پچھلے پانچ سال سے ایک فیکٹری میں بطور سٹور انچارج کام کر رہا ہوں۔ہر سال اگست اور ستمبر کے ماہ میں یہاں شدید حبس اور گرمی ہوتی ہے ۔میری ذمہ داریاں کچھ ایسی ہیں کہ تقریباً آدھا دن مجھے اپنےآفس سے باہر سٹور روم اور دوسری جگہوں پر جانا پڑتا ہے جہاں اے سی میسر نہیں ہوتا۔ان دو ماہ کے دوران فیکٹری کے سٹور روم میں شدید حبس ہوتی ہے جہاں زیادہ دیر رکنا میرے لئے بہت مشکل ہوتا ہے لیکن بعض اوقات کام کی ایسی ترتیب بن جاتی کہ مجھے گھنٹوں سٹور روم میں کام کی وجہ سے رکنا پڑتا تھا اور ہر سال ان دنوں میں گرمی اور حبس برداشت کرنا میرے لئے بہت مشکل ہو جاتا تھا۔مجھے اکثر بخار ہو جاتا اور طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے مجھے کئی دن چھٹیاں کرنی پڑتی تھی۔پچھلے سال کی بات ہے کہ انہی حبس کے دنوں میں سٹور کے اندر کام کر رہا تھا‘ اس دن میں تقریبا چار گھنٹے سٹور میں موجود رہا اور پھر اس کے بعد مجھے گھبراہٹ محسوس ہونے لگ گئی اور ایسا لگ رہا تھا کہ بس کچھ منٹ بعد میں گر کر بے ہوش ہو جائوں گا۔جس لڑکے سے میں کام کروا رہا تھا وہ بھی اچانک وہاں سے چلا گیا اور مجھ میں اتنی سکت نہ تھی کہ اس سے پوچھ سکوں کے وہ کہاں جا رہا ہے ۔تقریباً پانچ منٹ بعد وہ لڑکاایک چھوٹی پانی والی بوتل میں کوئی شربت  لے کر آیا اور مجھے پینے کے لئے پیش کی۔مجھے شدید پیاس لگی تھی اس لئے میں نے فوراً وہ شربت پی لیا۔مجھے پیتے ہی اپنے جسم کے اندر ایک ایسی راحت اور تازگی ملی کہ میں چند ہی منٹ میں بالکل ترو تازہ ہو گیا اور اس لڑکے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کونسا شربت لائے ہو جس میں خالص گلاب کی پتیوں کی خوشبو ہے اور اسے پیتے ہی میری خراب طبیعت کو فرحت محسوس ہوئی ہے۔اس نے بتایا کہ یہ عبقری دواخانہ کا مشروب عبقری ہے اور میں اسے پچھلے دو سال سے استعمال کر رہا ہوں اور جب سے فیکٹری میں آیا ہوں تو اس کی بوتل حبس کے موسم میں اپنے ساتھ ہی رکھتا ہوں۔اب میں بھی مشروب عبقری کو گرمی اور حبس کے موسم میں روزانہ استعمال کرتا ہوں اور اس کے استعمال کرنے سے میں بیمار نہیں ہوتا جسم بھی تروتازہ رہتا ہےاور طبیعت بھی خوشگوار رہتی ہے۔(سلیم اختر‘لاہور)