تلاش

قرآن کا زندہ معجزہ!
یک شخص جنوبی پنجاب کا رہنے والا تھا اس کی دو بیویاں تھیں۔ ایک بیوی سے چار بچے تھے اور دوسری بیوی سے صرف ایک لڑکا تھا جو لڑکا دوسری بیوی سے تھا یعنی جو ایک تھا اس سے ماں باپ بہت پیار کرتے تھے۔ دوسرے چار بھائی حسرت کرتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ یا تو کسی طرح اس کو ماں باپ کی نظروں سے گرایا جائے یا پھر اسے ختم کر دیا جائے۔ ایک دن عصر کے بعدچار بھائی اینٹوںکا بھٹہ جلا رہے تھے۔ وہ بھٹہ جلانے کا آخری دن تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کا بھائی جو خدا کے فضل و کرم سے حافظِ قرآن تھا ان کے پاس آیا اس کے بھائیوں نے سوچا کہ موقع اچھا ہے کیوں نہ کسی طرح اس بھائی کو جلتی ہوئی بھٹی میں ڈال کر اس کا کام تمام کر دیں۔ چنانچہ ان سب نے اس بھائی سے کہا کہ بھائی ذرا آگے ہو کر اندر کی طرف دیکھو کہ آگ اچھی طرح جل رہی ہے اس بے چارے نے جیسے ہی اندر کو جھانکا، ان سب بھائیوں نے اسے زور سے دھکا دیا اور وہ جلتے ہوئے بھٹے کے اندر جا پڑا اس کے بعد ظالم بھائیوں نے جلدی سے بھٹے کا منہ بند کر دیا اور اس کو جلتی ہوئی آگ میں چھوڑ کر گھر آ گئے۔
افطاری کے وقت اس کی ماں نے پوچھا کہ میرا بیٹا کہاں ہے؟ بھائیوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تھوڑی دیر میں پتہ چلا کہ وہ گائوں میں کہیں بھی نہیں ہے اس حافظِ قرآن کی ماں کو شک ہوا کہ کہیں میرے بیٹے کو قتل نہ کر دیا گیا ہو یہاں تک کہ تراویح کا وقت آ گیا لیکن حافظ صاحب نہیں آئے پھر تو اس کی ماں بہت ہی پریشان ہوئی اس نے اپنے خاوند سے کہا کہ میرے بیٹے کو کہیں اس کے بھائیوں نے بھٹے میں نہ ڈال دیا ہو اس کے خاوند نے فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ رات کو بارہ ایک بجے کے وقت پولیس آئی۔ تقریباً دو بجے کے درمیان بھٹے کا سوراخ کھولنا شروع کیا جب سوراخ کو کھولتے ہوئے اندر کے حصے میں آئے تو اندر سے آواز آئی کہ ’’بھائی! میرا خیال کرنا میں اندر زندہ ہوں‘‘۔ جب اس کو سوراخ سے باہر نکالا گیا تو سب حیران رہ گئے کہ جلتے ہوئے بھٹے میں وہ لڑکا کیسے زندہ بچ گیا؟ جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ جب میرے بھائی مجھے آگ کے اندر پھینک کر گئے تو آگ میرے لیے گلزار بن گئی اور افطاری کے وقت ایک سفید ریش (سفید داڑھی والا) آدمی میرے پاس آیا اور مجھے افطاری دے کر چلا گیا۔ میں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرے اپنے مقتدی میرے پیچھے نماز ادا کر رہے ہوں۔ چنانچہ یہی حال نمازِ عشا اور تراویح میں رہا اور اب میں آپ کے سامنے زندہ سلامت ہوں۔
جب انسپکٹر پولیس نے اس کے بھائیوں کو گرفتار کیا تو حافظ صاحب نے کہا میں اپنے بھائیوں کو معاف کرتا ہوں لیکن پولیس والے اس کے تمام بھائیوں کو گرفتار کر کے لے گئے۔
یہ برکت تھی کتاب اللہ کو اخلاص کے ساتھ یاد کرنے اور اس پر عمل کرنے کی کہ ایک تو اللہ تعالیٰ نے اس حافظ قرآن کو بھڑکتی ہوئی بھٹی میں سے زندہ سلامت بچا کر نکال لیا اور دوسرے اس کے دل میں ایسی نرمی تھی کہ اپنے جانی دشمنوں کو جو کہ اسے اپنی طرف سے تو ختم ہی کر چکے تھے، معاف کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ہر حافظ قرآن کو بلکہ ہر مسلمان کو قرآن کریم کی برکات نصیب فرما کر اعلیٰ درجے کا پکا سچا مومن بنائے۔ آمین