تلاش

قارئین، السلام علیکم! ایک پرند ہے وہ پالتو بھی ہوتا ہے، صحرائی یا جنگلی بھی ہوتا ہے۔ پالتو کی چھ اقسام ہوتی ہیں۔
۱) گولہ (۲) کابلی (۳) نساورہ (۴) لوٹن (۵) لقا اور (۶) یاہو۔ یہ اِس پرندے کی اقسام ہیں جو ہمارے ہاں بہت عام ہے، کبوتر!! گولہ کبوتر لڑنے اور اُڑانے کے لیے ہوتا ہے۔ لوٹن کبوتر اُنگلی کے اشارے سے حرکت کرتا ہے اور جب تک نہ اُٹھائو لوٹتا رہتا ہے یہاں تک کے مر جاتا ہے۔ یہ ساری باتیں تفصیل سے کسی کبوتر باز کو ہی معلوم ہوسکتی ہیں۔ راقم تو کبوتر کے خواص و فوائد تحریر کرنے لگا ہے۔ صحرائی یا جنگلی کبوتر بنسبت پالتو کبوتر کے گرم ہوتا ہے یعنی اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔ کبوتر کا گوشت فالج، لقوے، رعشے استسقاء کے لیے بے حد مفید ہے اور اِس کا یہ فائدہ بہت مشہور بھی ہے۔ قوتِ خاص کے لیے فائدہ مند ہے۔ اِس کو بُھون کر خشک کھانا بڑا ہی نقصان دہ ہے۔ کبوتر کے خون کو پیشانی پر لگانے سے نکسیر بند ہو جاتی ہے۔ کبوتر کا گرما گرم خون آنکھ میں لگانا آنکھ کے زخموں کے لیے اچھا ہے۔ کبوتر کے کچے انڈے پینے سے سینے کی خشونت جاتی رہتی ہے۔ جہاں کبوتر رہتے ہوں وہاں چیچک کے مریض کو رکھیں تو اِسے صحت ملتی ہے۔ چیچک کے ساتھ ساتھ جلدی جتنی بھی بیماریاں ہیں، وہ کبوتروں کے درمیان یا ساتھ رہنے سے بہتر اور ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ اگر بچھو کاٹ لے تو کبوتر کی گرم گرم بیٹ اُس جگہ باندھ دلیں تو زہر جذب ہو جاتا ہے۔ آج دنیا سانپ اور بچھو کے زہر سے بے بس ہے لیکن کبوتر میں اِس کا حل موجود ہے۔ ابن زہر لکھتے ہیں کہ کبوتر کی بیٹ آٹے میں ملا کر جس حیوان کو کھلائی جائے تو وہ حیوان مر جاتا ہے لیکن اگر کبوتر کا گوشت ہمیشہ زندگی کا ساتھی بنایا جائے تو انسان برص کا شکار ہو جاتا ہے۔ کبوتر کے بچے کا گوشت بہت سی بیماریوں کے لیے نافع ہے۔ اگر کبوتر کے بچے کا پیٹ چیر کر سانپ یا بچھو کے کاٹے پر باندھ دیں تو صحت ملتی ہے جس کا مزاج سرد ہو یا اِس کا جسم سردی کی وجہ سے دُبلا پتلا ہو گیا ہو تو کبوتر کا گوشت کھائے اور فائدہ پائے۔ روحانی اور دینی طور پر کبوتر بازی سے احادیث میں منع فرمایا گیا کیونکہ اِس کی وجہ سے انسان غفلت میں پڑ جاتا ہے اور فرائض اور واجبات ترک کرنے لگتا ہے۔