تلاش

غذائی ماہرین کی جانب سے موسم گرما میں خربوزے کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ ایک فرحت بخش مفید غذا ہے جو گرمی کے اثرات سے بچاتی ہے اور اسے کھانے کے نتیجے میں گرمی کی شدت بھی کم محسوس ہوتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق خربوزہ بہت سے طبی فوائد کا حامل، خربوزہ کے استعمال سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور دل کی دھڑکن کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے، یہ بیماریوں کی جڑ قبض کی شکایت سے بھی جان چھڑانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
چہرے کی تازگی بڑھاتا ہے
گرمیوں میں لو اور تپش کی شدت کے باعث انسان مرجھا کر رہ جاتا ہے، ایسے میں چہرے پر تازگی برقرار رکھنے کے لیے خربوزے کا استعمال نہایت مفید ہے، خربوزے میں موجود پانی کی وجہ سے جلد میں قدرتی چمک آتی ہے، اس میں شامل پروٹینز جلدکو نہ صرف خوبصورت وملائم بناتے ہیں بلکہ جلدی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔خربوزے کے چھلکوں سے چہرے کا براہ راست مساج بھی کیا جا سکتا ہے، اس کا گودا چہرے پر لگانے سے رنگ نکھر آتا ہے۔
ہیٹ ویو سے بچاؤ
خربوزہ کا استعمال انسانی جسم کو غذائیت اور پانی کی مقدار فراہم کر کے ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچاتا ہے اور انسان شدید گرمی میں بھی خود کو توانا اور تروتازہ محسوس کرتا ہے۔
سینے کی جلن اور تیز ابیت میں مفید
گرمیوں میں اکثر افراد کو تیزابیت کی شکایت رہتی ہے، 90 فیصد پانی پرمشتمل یہ پھل سینے کی جلن ختم کرنے اور تیزابیت سے بچانے میں بھی مفید ہے، اس کے استعمال سے غذا جَلد ہضم ہوتی ہے اور نظام ہا ضمہ کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔
اینٹی کینسر
خربوزے میں شامل ’کروٹینائڈ ‘ نامی پروٹین کینسر سے بچاؤ کی قدرتی دوا سمجھا جاتا ہے، یہ پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات کو بھی بہت حد تک کم کردیتا ہے، خربوزہ کینسر کے ان جراثیم کا بھی خاتمہ کرتا ہے جو ادھیڑ عمری میں انسانی جسم پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔
امراض قلب سے بچائو
خربوزے میں شامل ایک خاص جز ’اڈینوسین‘ خون کے خلیوں کو جمنے نہیں دیتا اور خون کی روانی متوازن رکھتا ہے۔
خربوزہ جسم میں خون کی گردش کو معمول پر رکھنے اور ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے، اس کے استعمال سے ہارٹ اٹیک کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔
خربوزہ خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ تسکین بخش اور جسم کی نشوونما کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ موسمِ گرما میں جب شدت کی گرمی ہوتی ہے تو جسم کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے ایسے موسم میں اگر خربوزہ شام کے وقت کھایا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اگر آپ خربوزہ مزے مزے میں ضرورت سے زیادہ بھی کھا جائیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور آپ کی طبیعت تروتازہ رہے گی۔ خربوزہ اگرچہ ایک سستا پھل ہے اور غریب سے غریب آدمی بھی اسے آسانی سے خرید سکتا ہے مگر اس کی افادیت کا یہ عالم ہے کہ اس پھل کا ہر حصہ انسانی جسم کے کسی نہ کسی حصہ کو ضرور فائدہ پہنچاتا ہے۔
 تندرست معدے کے لوگ خربوزے کو ڈیڑھ دو گھنٹے میں ہضم کر لیتے ہیں جبکہ ٹھنڈے مزاج کے بوڑھے اسے ہضم کرنے میں تین چار گھنٹے لگاتے ہیں اور انہیں ڈکار آتے رہتے ہیں۔ خربوزے کا سب سے اہم کام معدے، آنتوں اور غذا کی نالی کی خشکی دُور کرنا، آنتوں میں رُکے ہوئے زہریلے فضلے کو خارج کرنا، قبض دُور کرنا اور جسم کا رنگ نکھارنا ہے۔ یہ پھل پیشاب کے ذریعے، زہریلے فضلات کو باہر نکال پھینکتا ہے۔ خربوزے کھانے والے کے گردے صحت مند اور صاف ستھرے رہتے ہیں۔ اگر مثانہ یا گردوں میں پتھری پڑ جائے تو وہ خارج ہو جاتی ہے۔