گرما کا کوئی حصہ بھی ضائع نہیں جاتا، گودا، بیج اور چھلکا سب غذائی اورشفائی اثرات کا خزانہ ہیں۔اس کا مزاج گرم اور تر ہے اور غذا ئیت وافر مقدار میں ہے ۔
بینائی کے لیے مفید
پانی کی کمی سے بچاتا ہے:گرماکے استعمال سے گرمیوں میں ہائیڈریٹڈ رہنے میں مدد ملتی ہے، گرما منرلز اور وٹامنز حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے:گرما میں پوٹاشیم کی بھاری مقدار پائے جانے کے سبب اس کے استعمال سے پٹھوں کو مضبوطی ملتی ہے، متاثرہ پٹھوں کو بننے میں مدد ملتی ہے اور بلڈ پریشر بھی متوازن رہتا ہے ۔گرما میں وٹامن اے اور بیٹا کیروٹن کی موجودگی کے سبب بینائی تیز ہوتی ہے، بینائی کے کمزور ہونے کی شکایت میں آرام ملتا ہے، جن افراد کی بینائی کمزور ہے انہیں گرمیوں میں اس پھل سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
وزن میں کمی لاتا ہے:گرما میں فیٹ اور کاربوہائیڈریٹس نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اسی لیے یہ وزن میں کمی لانے کا سبب بنتا ہے، اگر آپ ڈائیٹ پلان کے ذریعے وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو گرمیوں میں دوسری غذاؤں اور پھلوں کی بہ نسبت اس کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں ۔
قوت مدافعت بڑھاتا ہے:گرما میں وٹامن سی پائے جانے کے سبب اس کے استعمال سے قوت مدافعت مضبوط ہوتا ہے اور موسمی بیماریوں، وائرل، موسمی انفیکشن سے لڑنے میں مدد ملتی ہے ۔
گرم مزاج اور دبلے پتلے جسم والوں میں اس کی وافر رطوبت سےخشکی دور اور بدن موٹا تازہ ہو جاتا ہے۔ آدھ سیر گرما میں درمیانی دو چپاتیوں کے برابر غذائیت اورتین پاؤ دودھ کے برابر کیلشیم ہو تا ہے ۔ جن اشخاص کو پیشاب تھوڑا اور جل کر آتا ہو انھیں گرماشوق سےکھانا چاہیے۔
جن مریضوں کو جگر کا ورم ہو ‘ پیٹ بڑا ہو جائے اور پیشاب کھل کرنہ آئے، کمر میں گردہ کے مقام پر ایک طرف یا دونوں طرف درد رہتا ہو تو سہ پہر تین چار بجے گرماایک پاؤسے ایک سیر تک چند روز استعمال کریں۔ثقیل اور بادی غذاؤں کا پرہیز کریں تو صحت یا ب ہو ں گے۔
نسیان کی بیماری دور
گرما کے بیجوں کی گری مغز نکال کر رکھیں۔ دماغ کمزور ہو یا نسیان‘ بھول جانے کا عارضہ ہوتو اس کا مغز تین ماشے سے ایک تولہ تک سیاہ مرچ دو سے پانچ دانے مغز بادام سات سےاکیس عدد تک رگڑ کر بطور سردائی اس کا شیرہ نکال کر کھانڈ ملاکر چار پانچ ہفتے استعمال کرنےسے دماغ طاقتور اور بھولی باتیں یاد آنے لگتی ہیں۔
قبض کی شکایت دور ہوتی ہے:گرما ایک فرحت بخش غذا ہے، گرمیوں میں اس کے استعمال سے گرمی کا احساس کم ہوتا ہے پیٹ کی متعدد بیماریوں سمیت قبض کی شکایت دور ہوتی ہے ۔
حاملہ خواتین کے لئے بہترین پھل
ماہرین غذائیت کے مطابق خواتین کی صحت کے لیے یہ پھل آئیڈیل ہے خصوصاً حاملہ خواتین کو اس پھل کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔ پتھری کی شکایت میں کمی:گرما میں ’ آکسیکن ‘ اجزا پائے جاتے ہیں جو گردوں میں پتھری بننے کے عمل کو روکتے ہیں ۔گرما میں پانی کی وافر مقدار اور اس کے گودے کے سبب گردوں کی صفائی ہوتی ہے اور گردے کی کارکردگی میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔
دل کی بیماریوں میں مفید
گرما میں فیٹ اور کاربوہائیڈریٹس بہت کم مقدار میں پائے جاتے ہیں، اس میں موجود فائبر سے کولیسٹرول لیول کو متوزان رہنے میں مدد ملتی ہے، گرما میں خون کو پتلا کرنے کی خصوصیات پائے جانے کے سبب دل کی صحت برقرار رہتی ہے۔
گرما کھانے کے سبب خون میں آکسیجن کی صحیح مقداد میں ترسیل ہوتی ہے، آکسیجن متوازن مقدار میں دماغ تک پہنچتی ہے جس سے انسان خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے اور ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ میں آرام ملتا ہے۔
گودا اتارتے وقت اس کا چھلکا ضائع نہ کریں، یہ بھی کام کی چیز ہے، پانچ دس سیر چھلکے چند روز دھوپ میں سکھا کر جلا لیں اوران کی راکھ کو آٹھ گنا پانی میں ایک ہفتہ بھگوئےرکھیں اور دن میں پانچ سات بار اس کو کسی لکڑی وغیرہ سے ہلاتے رہیں ساتویں روز اس کاصاف پانی نتھار کر فلٹر یا موٹے کپڑے میں چھان کر اس کو دھیمی دھیمی آنچ پر پکا نا شروع کریں۔پکتے پکتے پانی خشک اور نمک برتن میں رہ جائے گا۔ اس نمک کو کھرچ کر کسی شیشی میں محفوظ کر لیں۔یہ نمک دورتی سے ایک ماشہ تک چند روز صبح و شام پانی دودھ یالسی کے ساتھ استعمال کرنے سے پیشاب کی جلن دور اور بدن میں چستی آجاتی ہے۔ گردوں اور مثانہ کی چھوٹی چھوٹی پتھریاں بھی اس سے خارج ہونے لگتی ہیں۔ بلغمی طبیعت والوںاور ناطاقتی سے اعصابی درد والے مریضوں کو گرما سے پر ہیز کرنی چاہیے‘ لیکن گرما کے ساتھ سیاہ مرچ ،سیاہ نمک اور سیاہ زیرہ لگا کر کھانے سے اس کی اصلاح ہو جاتی ہے۔جب گردوں اور مثانہ میں پتھری پیدا ہونے لگے یا جوڑوں میں یورک ایسڈ کی قلمیں جمنےسے درد اور ورم ہو کر سختی آجائے تو اس کے استعمال کرتے رہنے سے پتھری کے چھوٹے ٹکڑےاور یورک ایسڈ نکل نکل کر جوڑوں کی لچک بحال ہو جاتی ہے۔