تلاش

محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!ہماراایک زمینی رقبہ تھا جس پر کچھ رشتہ داروں نے موقع پاکرخود ہی حصے کر کے قبضہ کر لیا جبکہ قانونی طور پر اس پر ہمارا حق تھا۔حاسدین نےبے انصافی سے خود ہی حصے بنا لیے‘ڈرانا دھمکانا شروع کردیا ‘ بے تحاشا گالیاں دیتے اوربرا بھلا کہتے ۔کچھ عزیز رشتہ داروں نےانہیں سمجھانے کی کوشش کی ظلم مت کریںاور نا حق زمین نہ لیں ‘انصاف کریں۔انہیں ان کا وعدہ اور معاہدہ بھی یاد کروایا جس کے مطابق وہ ہماری ملکیت تھی۔ مگر وہ گالیاں اور دھمکیاں دیتے رہے اور جھگڑا کرنے کا بہانہ ڈھونڈتے۔ اس پر میری بیٹی نے عدالت سے سٹےلگوا دیا اور انھیں کہا جوزمین ہمارے حصہ کی ہے وہ وہ علیحدہ کر دیں مگر وہ نہیں مانے۔ہم نے کافی بھاگ دوڑ کر کے دیکھ لی مگر ان میں ذرا برابر بھی لچک پیدا نہ ہوئی۔
ایک دن میری بیٹی نے عبقری رسالہ میں پڑھا کہ سورئہ انشقاق کی آیت وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْ؁وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْ؁ﭤ کا ورد کرنے سے ایسے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔اس نے سارا دن کثرت کے ساتھ یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔چند ہی دن میں حالات بدلنا شروع ہو گئے۔ اب حالت یہ ہے کہ وہی لوگ جو پہلے گالیاں دیتے نہ تھکتے تھےاور طرح طرح کی دھمکیاں دیتے تھے‘ اب معافی مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیںکہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے آپ  اب عدالت سے کیس واپس لے لیں۔ان آیات کے پڑھنے کی برکت سےجب ہم نے پٹواری سے زمین کے کاغذات لیے تو زمین کے ان کاغذات پرمیرا نام لکھا ہوا تھا جب مخالفین نے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ پہلے توگالیاں دیتے تھے لڑائیاں بھی کرتے تھے مگر اب وہ سب شرمندہ ہو گئے اور کمزور پڑ گئے۔مجھے یقین ہے اس عمل کی برکت سے آگے بھی خیرو عافیت والے معاملات ہوں گے‘ ان شاءاللہ۔