محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم !آج میں نے خطباتِ عبقری کی جلد نمبر 4 کا مطالعہ کیا جس میں آپ نےدُعا ، بددُعا ، جادو جنات کے نسلوں تک اثرات کا تفصیل سے ذکر فرمایا۔اس متعلق آج اپنی آپ بیتی تحریر کر رہی ہوں۔
والدہ بتاتی ہیں کہ میرے نانا کچھ شیطانی منتر وغیرہ جانتے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں پر کالی دیوی اور چند دوسری غیر ماورائی مخلوق کے ذریعے حالات دیکھتے تھے۔ لوگ اُن کے پاس اپنے معاملات کے حوالے سے آیا کرتے تھے جنہیں وہ شیطانی عمل کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرتے۔مختصر یہ کہ نانانےاپنی دنیا و آخرت خراب کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ‘پیسے اور شہرت کی آڑ میں جی بھر کر لوگوں پر ظلم کیا۔
لیکن مظلوم لوگوں کے دل سے نکلی آہ اور ظلم نے نانا کی زندگی میں ہی اس کا نتیجہ دکھانا شروع کر دیا۔ان کی اولاد یعنی میرے ماموں نے اُن کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا‘ اولاد سے ملا غم اور اور دکھ وہ برداشت نہ کر سکے‘آخر کار وہ تڑپتے، سسکتے اُس دُنیا سے رخصت ہو گئے۔ دوسروں کی زندگیاں اجاڑنے والے اپنے انجام کو پہنچے۔لیکن یہ نحوست یہی پر ختم نہ ہوئی بلکہ ان کی اولاد یعنی میری والدہ پر اس کا پورا اثر پڑا۔ عجیب و غریب مزاج کی حامل خاتون رہی ہیں۔ لوگوں کے گھروں میںجانا، لڑائیاں کروانا، اس کے علاوہ شہرکا کوئی تنتر منتر جاننے والا ایسا نہیں جہاں وہ نہ گئی ہوں۔ کالے عملیات کرنا اُن کا مشغلہ رہا ۔ اپنی شادی کے بعد وہ کچھ منتر پڑھ کر جوتی پر عمل کرتیں جس کے بعد وہ جوتی گھومنے لگتی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے سارا خاندان اجڑ گیا
میرے والد صاحب انتہائی شریف ہیں۔ وہ والدہ سے بے حد ڈرتے ۔ کئی بار انھوں نے والدہ کو روکا اور سمجھایا ۔ اس دوران اُن کی حالت اکثر اتنی غیر ہو جاتی کہ جیسے کسی نے مار مار کر جسم کو نیل اور سوج ڈال دی ہو۔ والدہ نے عاملوں کے پاس جانا نہ چھوڑا۔ وہ مسلسل گھر میں تعویذات، کیل اور پتہ نہیں کیا کیا لا کر استعمال کرتی رہیں۔ والد ان معاملات سے تنگ آکر آخر بیرون ملک چلے گئے اور آج تک وہیں ہیں۔ نانا جی اور والدہ کے کیے ہوئے ظلم ہمارے سامنے آنا شروع ہو گئے۔ان کی نسلیں آج سسک اور تڑپ رہی ہیں۔بڑا بھائی موسیقی کا دلدادہ ہے ہر وقت گانے ، ناول مسلسل موسیقی سن کر اپنا وقت برباد کر رہا‘مزید کئی برائیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ ایک بھائی بُری صحبت کا شکار اور نشے کا شکار ہو گیا۔ ایک بہن ہے وہ طلاق یافتہ اور نفسیاتی مریضہ ہے۔ میں بچپن سے یہ سب دیکھ رہی ہوں‘ گھر میں نہ نماز ہے نہ روزہ ہے۔ ہر وقت لڑائی جھگڑے کی صورت بنی رہتی ہے۔پہلے ایک رشتہ دار کے گھر رہتے تھے وہاں سے جھگڑا پھر وہاں سے نکل کر ایک اور عزیزکے مکان میں آگئے یہاں بھی وہ حالات رہے بلکہ اَور بگڑ گئے۔
بستر مرگ پرموت کا انتظار مگر۔۔۔
نانا جی اور والدہ دوسروں پر جادو کرتے تھے‘ آج یہ وقت آگیا ہے ہمارے گھر میںخون کے چھینٹے پڑے ایسے جیسے کوئی بلی کے پنجے ہوں خون سے بھرے ہوئے۔ ایک عاملہ آئیں کچھ پڑھائی کی ایک بکرے کے گوشت کی دیگ لی اور چلتی بنی۔ اُس دن سے گھر میں نحوستوں کا نیا باب کھل گیا۔ ہنسنے رونے کی آوازیں آتی ہیں‘ کبھی آدھی رات کو بیل ہوتی ، دروازے بجتے، پنکھے سے اچانک پانی گرنے لگتا۔ آہستہ آہستہ پورا گھر برباد ہو گیا۔ والدہ آج بستر پر پڑی ہیں۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ جان اٹکی ہوئی ہے نہ نکل رہی ہے نہ ٹھیک ہو رہی ہے۔ بہن طلاق یافتہ نفسیاتی اور جسمانی مریضہ ہے۔ ایک بچی کے ساتھ گھر آ بیٹھی ہے۔ اب تو بچی بھی جوان ہے۔ موسیقی کا دلدادہ بھائی فالج کا مریض بن گیا ہے۔ نشے کا عادی بھائی ا چانک دورہ پڑنے پر پاگلوں والی حرکات شرو ع کر دیتا ہے۔ میں اتنی عمر کے باوجود کنواری ہوں۔ بھائی بھی دونوں کنوارے ہیں۔ شادی کی عمر تقریباً گزر چکی۔ والد بیرون ملک ہونے کے باوجود گھر نہیں بنا پائے۔اُنہی کی کمائی پر گھر چلتاہے۔مختصر حالات بیان کر رہی ہوں اگر ایک ایک کی زندگی بیان کروں تو دُکھوں کی پوری داستان بن جائے گی۔ نانا اور ماں کا کیا ہم سب بھگت رہے ہیں۔ لوگ اور رشتے دار عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ غربت ،نحوست اور ظلمت کا عجیب عالم ہے۔
آخر میں قارئین سے درخواست ہے کہ خدارا دوسروں پر ظلم نہ کریں ورنہ مکافات کا عمل ایسا چلتا ہے جو نسلوں کا تعقب کرتا ہے۔کاش!یہ بات میرے نانا اور والدہ سمجھ لیتے۔