میں ایک ایسے ادارہ میں نوکری کر چکا ہوں جہاں ناجائز طریقہ سے مال کمانا کوئی مشکل کام نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے حرام سے بچنے اورحلال پر صبر شکر کرنے کی توفیق دی ہوئی تھی۔دل میں بہت اشتیاق تھا کہ میں قرآن پاک کی تلاوت کروں مگر میں پڑھنا نہ جانتا تھا۔ جب کسی کو دیکھتا تو دل میں ندامت پیدا ہوتی اور چاہتا کہ قرآن پڑھنا سیکھ لوں مگر دن بھر کی مصروفیات کی وجہ سے بے بس ہو چکا تھا۔کرایہ کا مکان میری تنخواہ اس وقت 5000 روپے تھی‘ گزارہ ذرا احتیاط سے چلتا۔میری ڈیوٹی کافی عرصہ ایک مسجد میںلگی رہی‘امام کی دل میں شروع سے بہت قدر و منزلت تھی۔اس لئے ان کا بے حد احترام کرتا‘ انہی کی تلقین پر ڈاڑھی رکھ لی۔ان کی کافی شفقتیں رہیں‘مجھے اذان سکھائی اورنورانی قاعدہ پڑھانا شروع کیا۔میں خوش ہوا اس طرح اذانیں پڑھتا رہا اورقرآن پڑھنا بھی سیکھتا رہا مگر اس دوران امام صاحب کا کہیں اور تبادلہ ہو گیا۔وہ میری خدمت اور سچی لگن کی وجہ سے بہت خوش تھے‘ انہوں نےجاتے جاتےمجھے ایک عمل بتایا کہ زندگی میں جب بھی وقت ملے وقتاً فوقتاً بیوی‘ بچوں اور جتنی بھی اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کی ہیں ان سب کا تصور کر کےدو شکرانے کے نفل پڑھا کرو‘ ایسا کرنے سے رب بہت نوازے گا‘مسائل اورمصائب سے نجات ملے گی اور کبھی کسی کے محتاج نہ ہو گے۔
اندیکھے سودے پر حیران کن نوازشیں
اس کے بعد کئی امام صاحبان بدلے اور بہت مشکل سے میں نے قرآن پاک پڑھنا شروع کر دیا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ درویش صفت امام مسجد کا بتایا ہوا شکرانے والا عمل جاری رکھا۔اس عمل سے میرے اندر عجب صلاحیتیں پیدا ہونا شروع ہوگئیں‘ گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہو جاتا‘رزق میں برکت اور وسعت ملنے لگی۔سخاوت اور انسانیت کے لئے خیر کا جذبہ بڑھنےلگا۔مسجد کے قریب ہی ساحل سمندر تھا جہاں سے مچھلیوں کا شکار کرتا‘خود بھی کھاتا اور باقی بیچ دیتا جس سےکچھ رقم مل جاتی۔ایک شام سرد موسم میںجب مچھلی پکڑنے گیا تو سمندر کے کنارے کوئی مچھیرا نہیں تھا‘ مغرب ہونے والی تھی ‘شکار میں مگن تھا ‘کئی مچھلیاں پکڑ چکا تھاکہ اچانک ایک شخص آیا مجھ سے مچھلی مانگ رہا تھا میں نے دعا سلام کی اور اسے کہا کہ تھیلے میں سے جتنی چاہے مچھلیاں لے لو۔یہ بات سننے کے بعداس شخص نے مجھے دعا دی اور چلا گیا ‘مگر وہاں بہت ہی لمبا راستہ یعنی ویرانہ تھا‘ کوئی موڑ یادیوار نہیں تھا۔ اچانک جب یہ خیال آیا تو میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا لیکن وہ بندہ کہیں نظر نہیں آیا۔میں بہت حیران ہوا کہ آخر وہ شخص آیا کہاں سےاور کہاں گیا۔
دولت قدموں میں آگئی
اس دن کے بعد عجیب معاملات شروع ہو گئے‘روزانہ فجر کی نماز کے وقت کوئی جگاتا‘ جب آنکھ کھلتی تو سامنے کوئی نہ ہوتا‘ اب جب بھی کسی کام میں ہاتھ ڈالتا ہوں فوراً ہو جاتا ہے۔ میں نے شکر والا عمل نہ چھوڑا‘ اسے مسلسل کرتا رہا جس کی برکتیں بڑھتی چلی گئیں‘اکثر لوگ آکر میری خدمت اور اکرام کرتے ہیں مگر بعد میں وہ نظر نہ آتے۔اب بھی ایسا ہوتا ہے کہ راہ چلتے بہت سارے کاغذ ہوا سے اُڑتے اُڑتے میرے قدموں تک آ جاتے ہیں‘انہیںپائوں سے ایک طر ف کرتا ہوں تو مجھے کبھی 50، کبھی 100 روپے یہاں تک کہ 500روپے اور اس سے بھی زیادہ رقم ملتی ہے۔شکر کرنے اور ایک انسان کی بے لوث خدمت کرنے جسے بلا معاوضہ مچھلیاں دیں اس کے بعد نعمتوں اور برکتوں کے حیران کن دروازے کھل گئے ہیں۔میری اب بھی کوشش ہوتی ہے پلمبری یا جو بھی کام جانتا ہوں وہ کروں تو پوری ایمانداری کے ساتھ کوشش کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس سے زندگی میں رونق اور خوشیاں ملی ہیں۔
نومولود بچہ اور آنتوں کی بیماری
میرا جب بیٹا پیدا ہوا تو اسے آنتوں کی بیماری تھی‘ پاخانہ نہ کر سکتا تھا۔اس کا آپریشن کا کہا گیا اور تین خون کی بوتلوں کا انتظام کرنے کے لئے کہا۔مگر کہیں سے بھی خون کا انتظام نہ ہو رہا تھا۔ میں نے اللہ کانام لیا‘دو رکعت نفل حاجت پڑھنے کے بعداللہ کے آگے دعامانگی۔
جس دن آپریشن تھا ‘اس دن بھی خون ڈھونڈتا رہا‘ ہسپتال کی تیسری منزل پر پہنچا تھا کہ ایک شخص نہ جان نہ پہچان سلام کرکے میرے قریب سے گزرا۔ میں حیر ان تھا کہ اتنی اچھی خوشبو کہاں سے آئی؟میری نظر اُس پر پڑی تو بزرگ تھے رُکے نہیں‘ چلے جا رہے تھے ۔میں ساتویں منزل پر پہنچ گیا تو گھر والوں نے رابطہ کیا اور بتایا کہ پریشن ہو چکا ہے‘2 لڑکے آئے تھے جو خون دے کر چلے گئے۔ میں وہاں سے واپس لفٹ سے نیچے فوراً آیا‘ نہ بزرگ ملے اور نہ وہ لڑکے۔
ایسے کئی واقعات زندگی میں پیش آئے جس میں اللہ کی غیبی مدد کو آنکھوں سے دیکھا۔میں سمجھتا ہوں یہ حلال روزی کی برکت اور اللہ کی نعمتوں پر شکر والے عمل کی وجہ سے ممکن ہو