تلاش

بڑوں کی نسبتوں کی برکات:کہتے ہیں کہ جب بڑے دنیا سے رخصت ہوجائے جو بڑوں کے غلام ہوتے ہیں ان کے ساتھ نسبتیں قائم کرو۔ ان کے ساتھ مل بیٹھو کہ شاید ان کی برکت سے بڑوں کے انوارات مل جائیں ،ان کی جو باتیں ہیں ان کو بیٹھ کر دہراؤ،ان کے قوانین،ان کے ملفوظات ،ان کی باتوں کو بیٹھ کر دہراؤ۔یاد دہانی مومن کا نفع:قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیںکہ ’’اور نصیحت کرو کہ نصیحت کرنا مومن کو نفع دیتاہے۔‘‘ جس چیز کو قرآن پاک فرمارہاہے کہ مومن کو نفع دیتی ہے اس میں نفع نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں ،اس میں ضرور بالضرورنفع ہوگا۔میری ذات کی کوتاہی کی وجہ سے اگر اس میں نفع نہیں ہورہا تو یہ میری اپنی کوئی کوتاہی ہوسکتی ہے ۔اللہ جل شانہٗ کے کلام میں، اللہ کے قرآن میں جس چیز کو نفع فرمادیا اس میں نفع ہی نفع ہے سوفیصد نفع ہے۔بنیاد ہمیشہ نیت:دیکھو زندگی کی بنیادیں ہمیشہ نیتوں پر ہوتی ہیں ،اخلاص پر ہوتی ہیں۔بعض لوگ بڑوں کے ساتھ چلتے ہیںان کی نیت میں وہ طلب ہوتی ہی نہیں کہ ہم نے اللہ جل شانہٗ کی ذات عالی کو پانا ہے ،دنیا مطلوب ہوتی ہی ہے۔پھر اگر دنیا مل جائے تو واہ واہ ہوتی ہے۔اگر دنیا نہ ملے تو کہتے ہیں ان کے پاس کچھ نہیں ۔ کسی کے پاس کچھ نہیںہے ۔سب کچھ اللہ کے پاس ہے ۔میرا اللہ چاہے تو کسی کے پاس کچھ ہوسکتاہےاور اگر میرا اللہ نہ چاہے تو اللہ کی قسم!اللہ کی قسم!اللہ کی قسم !کروڑ دفعہ قسم اٹھا کر کہوں گا کچھ نہ ہوگا۔رب کی چاہت کا نام وجود ہے:اللہ جل شانہٗ کی چاہت کا نام وجود ہے اور اللہ جل شانہٗ کی چاہت ہی سے کام بنے گا ۔ میرا اللہ چاہے گا تو کام بنے گا میرا اللہ نہیں چاہے گا تو ہرگز کام نہ بن سکے گا۔نیتیں بنیاد ہیں،اخلاص ہماری زندگی کی بنیاد ہے کہ ہر پل ہر لحظہ نیتوں کو ٹٹول ٹٹول کر چلیں۔اظہار سے نیکی کی ترغیب: فرمایا:ایک ہے اظہار برائے ترغیب اور ایک ہے اظہار برائے تشہیر۔سمجھنے کی بات ہے ۔جب کسی کے سامنے کوئی اللہ والے اپنی کسی نیکی کا اظہار کررہے ہوتے ہیںتو اس کے دو پہلو ہیں تیسرا کوئی نہیں ہے یاتو یہ کہ اپنی شہرت چاہتے ہیں کہ لوگ مجھے بڑا کہیں ، بزرگ کہیں،یا یہ کہ انہیں بھی نیکی کی ترغیب ہوجائے۔وہ تو ہر بندے کے اپنے برتن کی بات ہے کہ وہ ان کی بات کو کس انداز سے لیتاہے۔ وہ تو اندر کے من کی بات ہے ،دل کی پاکیزگی کی بات ہے