قارئین السلام علیکم! گزشتہ نومبر کے مہینے میں‘ میںلاہور اکبری منڈی تجارت کے سلسلے میں گیا۔ پہلے بھی کئی مرتبہ لاہور دہلی گیٹ کے پررونق نظارے دیکھے تھے‘ اس مرتبہ بھی موقع ملا۔ سب سے پہلے جاکر ہم نے ایک مزار پر فاتحہ پڑھی جو کےدہلی گیٹ کے دائیں طرف واقع ہے۔ میرے ساتھ میرے والد صاحب مدظلہ اور ہمارے ایک مخلص پرانے ساتھی تھے۔ جب ہم لاہور اکبری منڈی کے شوروغل میں داخل ہوئے تو سب سے پہلےمغلیہ دور حکومت کے شاہی حمام دیکھنے کو ملا۔ شاہی حمام اس زمانے میں مسافروں کے لیے بنائے گئے تھے تاکہ وہ سفر کے بعد حمام سے غسل کرکے شہر میں داخل ہوں۔ دکانداروں سے اپنا کام کرتے کرتے ایک بندے سے ملاقات ہوئی جو کہ ننگے سر اور ماسک لگا کر بازار میں جارہے تھے۔ والد صاحب مدظلہ نے فرمایا ’’انگریز کے کہنے پر آپ نے ماسک لگا لیا اور حضورﷺ کے کہنے پر آپ نے سر نہیں ڈھانپا‘‘۔ بازار میں مغل بادشاہ اکبر کے زمانے کی عمارتیں دیکھ کر دل کو فرحت ملی کیونکہ مجھے تاریخ پڑھنے کا اور تاریخی چیزوں کو دیکھنے کا بہت شوق ہے پھر ہم ایک دکان پر گئے جہاں اپنے کام کرنے کے دوران میں نے ایک تختی پر سنہری لفظوں میں چند الفاظ لکھے ہوئے دیکھے جسے پڑھ کر مجھے دھچکا سا لگا۔ وہ الفاظ یہ تھے ’’اُدھار ایک جادو ہے، جو لیتا ہے وہ غائب ہو جاتا ہے‘‘ دوکاندار بیچارے اس شکوے سے گھیرے ہوئے تھے کہ جو ہم سے پیسے لے کر جاتا ہے وہ واپس نہیں کرتا اور کئی غیر ملکیوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا۔ کسی اور دکان پر میں کیا دیکھتا ہوں ’’ادھار آپ کے وقار اور ہمارے اخلاق کا بدترین دشمن ہے‘‘۔
قارئین! حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ جب آپ مدینہ ہجرت کرکے آئے تھے تو بالکل خالی تھے ۔ انہوں نے اپنی تجارت کہ چند اصول بنائے تھے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ’’نہ اُدھار لینا اور نہ ہی دینا ہے‘‘۔
یاد رکھیئے! حقوق اللہ معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ جب بندہ حج کرلیتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ میں نے تیرے سارے گناہ معاف کردے سوائے اگر کسی کی تو نے رقم دینی ہو اس کے علاوہ۔ ہمارے پیارے نبی حضوراکرمﷺ کسی قرض دار کا جنازہ نہیں پڑھاتے تھے۔ ہماری کامیابی کے صرف دو اصول ہیں وہ صرف سچائی اور ایمانداری ہیں۔حضورنبی اکرم حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میرا اُمتی ہر گناہ کرسکتا ہے ایک جھوٹ نہیں بول سکتا، دوسرا دھوکہ نہیں دے سکتا‘‘۔آج کل ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ جھوٹ اور دھوکے پر چل رہے ہیں اور یہی ناکامی کی وجہ ہےجسے وہ لوگ سمجھ نہیں رہے۔ بعض نادان تاجر کہتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر تجارت ممکن نہیں ہے۔ ان تاجروں کو کیا پتہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے ایسی تجارت کی کہ جب وفات پائی تو تین ارب دس کروڑ بیس لاکھ دینار چھوڑ کرگئے اور ایک دینار غالباً آج کل 600 روپے کے قریب ہے۔ ان کے کامیابی کے رازوں میں ایک راز یہ بھی تھا کہ ’’نہ اُدھار لو اور نہ دو‘‘۔
ادھار ایک جادو ہے! جس نے لیا غائب ہوگیا
اکبری منڈی لاہور میں مجھے اس چیز کا احساس ہوا کہ پوری منڈی اس فریب سے گھری پڑی ہے۔ آپ بھی اور میں بھی کوشش کریں کہ ایماندار تاجر بن کر امت کے غرباء، مساکین کی خدمت کرنی ہے اور اپنی نسلوں کو فقیر چھوڑ کر نہیں جانا۔