محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! فروری 2016ء میں آپ کا سکھر میں درس تھا میں نے بھی جانے کا پروگرام بنایا۔اتفاق سےاسی آپ سےاپوائنٹمنٹ کا وقت بھی مل رہا تھا‘ میں صبح سے دعا کررہا تھا کہ آپ سے ملاقات کا وقت مل جائے ۔ شام چار بجے میری ٹرین کا وقت ہوگیا اور میں روانہ ہوا چھ بجے اپوئٹنمنٹ کا وقت ختم ہونا تھا میری خواہش تھی کہ میں پوری فیملی کے ساتھ آپ سے آپ کے کلینک میںملوں۔ میں نے مانگنا شروع کیا مگر کوئی امید نہیں نظرآرہی تھی اور اپوائنٹمنٹ کا وقت ختم ہورہا تھا دو گھنٹے بقایا تھے میں نے اللہ سے باتیں شروع کردیں دل ہی دل میں اور کہا کہ اللہ تیرے حبیبﷺ کا فرمان ہے کہ سفر میں دعائیں قبول ہوتی ہے تو میری دعا قبول فرما اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی جبکہ اپوئنٹمنٹ کا وقت بھی ختم ہوجاتا ہے تقریباً چھ سے اوپر وقت ہورہا تھا میں کال کر کر کے تھک چکا تھا پوری دنیا سے لوگ کال کررہے ہوتے ہیں۔ ایک دم اچانک موبائل پر نظر پڑی کہ کال ملی ہوئی تھی اور چند سیکنڈ گزر چکے تھے میں نے فوراً کان سے موبائل لگایا انہوں نے کہا کہ نام میں نے بتایا اور مجھے یوں 31 مارچ 2016ء کا وقت مل گیا۔ میں نے خوشی کے اظہار میں بے ساختہ اپنے ساتھ بیٹھے دوست سے کہا کہ میرے حبیبﷺ کا فرمان حق ہے سچ ہے۔ بس ہمارے یقین کی کمی ہے۔ایک برکت مزید سفر کی دعا کی برکت بتاتا چلوں چاہے سفر دنیا کا ہو کاروبار کا ہو یا دینی سفر ہو اللہ دعا قبول کرتے ضرور ہیں یقین کامل ہو۔ میری بہن، میں اور والد صاحب آپ سے ملاقات کے بعد واپس آرہے تھے واپسی کی ٹرین 14 اپریل کی تھی اس میں بہن نے اللہ سے رمضان المبارک کا عمرہ مانگا اور میں نے بھی مانگا تو جب ہمارے عمرے کا ہوا تو ناں چاہتے ہوئے بھی رمضان کا ہی ہوا اور اللہ نے رمضان کا عمرہ تقدیر میں کردیا کیونکہ ہم مزید جلدی جانا چاہتے تھے مگر میرے اللہ نے قبولیت دعا کا مشاہدہ دکھانا تھا۔