تلاش

مجھے ایک بزرگ نے یہ واقعہ سنایا۔ بات حلوہ تقسیم کرنے سے شروع ہوئی اللہ تعالیٰ کی برکت کیسے ہوئی ہے۔ میں مسجد میں ختم قرآن کے موقع پر جو کہ بچوں کی دستار بندی کا پروگرام تھا حلوہ تقسیم کررہا تھا باباجی نے کہا کھلا تے جائو ان شاء اللہ ختم نہیں ہوگا اور واقعی ایسا ہوا ختم نہیں ہوا۔ پھر انہوں نے ایک واقعہ سنایا انہی کی زبانی سنیے۔ شاید اس میں سے بھی کوئی نصیحت آموز سبق حاصل ہو جائے۔ فرمانے لگے جوانی کی بات ہے۔ جب ہم ملتان میں رہتے تھے۔ میرے ایک دوست کی شادی تھی۔میرا دوست دیندار شخص تھا۔ اس کا جب ولیمہ ہورہا تھا سب مہمان کرسیوںپر بیٹھے تھے اور دوسری طرف کھانا لگ گیا۔ تو کاپی پنسل لے کر کچھ لوگ بیٹھ گئے کہ جو بھی مبارک کے نام پررقم دے گا اس کا نام نوٹ کریں گے۔ لوگوں نے اپنی اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال دیئے کہ پیسے دیتے جائیں گے اور کھانا کھا کرچلے جائیں گے تومیرا دوست جس کی شادی تھی کہنے لگا جو بھی مجھے مبارک کے نام پر رقم دے گا میں اس کو واپس نہیں دوں گا جن نے دینے ہیں ہدیہ کے نام پر مجھے دے۔ اب جن لوگوں نے جیب میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے خالی ہاتھ باہر لے آئے کہ اس نے واپس نہیں دینے تو کیوں دیں۔ بہرحال کھاناشروع ہوگیا۔ اب یہ سب کھارہے ہیں اور میرا دوست باہر سڑک پر کھڑا ہوکر ہر گزرنے والے کو کہہ رہا ہے میرا ولیمہ ہے کھانا کھا کر جانا۔ کھانا تقسیم کرنے والے کہنے لگے اتنے بندے کہاں سے آگئے باہر دیکھا تو دولہا صاحب لوگوں کو اندر بھیج رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کھانا ان لوگوں کے لیے ہے جن کو بلایا ہے یہ کیا کررہےہو؟ دولہا صاحب  نے کہا میرا ولیمہ ہے ہر کوئی کھا کر جائے گا۔ کھانا کم نہیں ہوگا ان شاء اللہ برکت ہوگی۔ تو پھر یہی ہوا اللہ نے سب کو کھانا کھلایا اورکھانا بچ بھی گیا۔ سبحان اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس  کی نیت پر کیسے برکت دی۔ مزید بھی پڑھتے جائیں اس کی شادی شدہ زندگی انتہائی خوشگوار گزر رہی ہے‘ اسے اپنی شادی پر نہ قرض لینا پڑا اور نہ ہی شادی کے بعد ایسے حالات آئے کہ قرض لیتا‘ گھر میں کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ یعنی لڑائی جھگڑے نہیں ہوئے‘ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت خوشیاںعطا کیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی ایسا کامل یقین عنایت فرمائے۔ آمین۔