محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!ایک واقعہ ہمارے ساتھ ایسے پیش آیا کہ میں لاہور دوائی لینے گئی ہوئی تھی میں عشاء کے وقت گھر پہنچی تو گھر والے سارے گھر کے فرش دھو رہے تھے میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ اس وقت فرش دھونے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر انہوں نے بتایا۔ میری بیٹی اندر کمرے سے کوئی چیز لانے کے لیے گئی تو زور سے چیخ مارکر باہر بھاگ آئی اندر قالین کے اوپر ایک بڑا سا سانپ بیٹھا تھا اس کے والد نے اندر جاکر اس کو ڈنڈے سے مارا اتنا خون سانپ سے نکلا کہ قالین سارا خون سے بھر گیا پھر سانپ کو اٹھا کر باہر لانے لگے تو برآمدہ میں گرگیا برآمدہ خون آلود ہوگیا وہاں سے اٹھا کر باہر صحن میں لائے صحن میں خون ہی خون ہوگیا سب حیران تھے سانپ میں اتنا خون کیسے نکلا جبکہ کئی دفعہ سانپوں کو مارنے کا اتفاق ہوا کبھی اتنا خون نہیں نکلا۔ میرے میاں کہنے لگے کہ اصل میں یہ سانپ تھا ہی نہیں بلکہ جن تھا جس نے سانپ کا بھیس بدلا ہوا تھا۔ بیٹی نے جو اذان اور افحسبتم والا وظیفہ پڑھا اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس جن کے اوپر ہماا غلبہ دیا اور اس کے شر سے نجات مل گئی۔ پھر ہم نے محسوس کیا بیٹی کو اس کے بعد بخار چڑھنا ختم ہوگیا اور جلد ہی بیٹی کا رشتہ بھی ہوگیا اور شادی بھی۔ حالانکہ اس سے پہلے بیٹی کے رشتہ کے بہت زیادہ مسائل تھے‘ لوگ دیکھنے آتے‘ دیکھ کر چلے جاتے‘ کوئی انکار کردیتا اور کسی کی طرف سے جواب کا انتظار ہی رہتا یعنی وہ اتنی اہمیت بھی نہ دیتے کہ انکار ہی کردیں۔ بہت پریشانی تھی‘ مگرجب سے وہ سانپ نما جن ظاہر ہوا اور مرا‘ اس کے بعد بیٹی صحت مند بھی ہوگئی‘ اور رشتہ بھی طے ہوگیا۔
مجھے اس لیے یقین ہوگیا کہ وہ سانپ نہیں کوئی جن تھا کیونکہ میں نے شیخ الوظائف کے ’’حال دل‘‘ مضمون میں اس طرح کا کالم پڑھا تھا‘ جس میں شیخ الوظائف نے سانپوں کےاوپر تفصیل سےبات کی تھی کہ جنات اکثر سانپ کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں خاص طور پر جب ان کی موت قریب ہو‘ یعنی جس جن نے مرنا ہوتا ہے وہ سانپ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ‘ اسی لیے کہتے ہیں کہ جب سانپ سامنے آئے اس سے ایک مرتبہ پوچھ لیں کہ اگر جن ہو تو چلے جاؤ ورنہ ہم تمہیں مار دیں گے‘ اگر وہ نہ جائے تو اسے مار دیا جائے۔ یہ وظیفہ کا ہی کمال تھا کہ وہ جن جو ہمیں پریشان کررہا تھا اسے سانپ کی شکل میں ہمارے سامنے لاکھڑا کیا اور ہم نے اسے ختم کردیا۔ (س، گجرات)