تلاش

قارئین السلام علیکم! دُنیا کے چند ممالک ایسے ہیں جو سونے جیسی نعمت سے مالامال ہیں اور اُس سے خوب نفع حاصل کررہے ہیں۔ اُن میں سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ویت نام کے نام سرفہرست ہیں‘یہ ممالک ناریل جیسے پھل سے بھرے ہوئے ہیں۔ اِنسانیت ناریل سے دُور ہو گئی ہے کیونکہ ناریل کی اَفادیت سمجھ نہ پائی۔ گزشتہ مہینے میں تھائی لینڈ کے دورے پر تھا ، وہاں ناریل کے درخت بے تحاشا دیکھے‘ وہاں کے باشندے اس کا پانی شوق سے پیتے اور ملائی کھاتے ہیں۔ بنکاک شہر میں ناریل کا پانی خاصا مہنگا ہے۔ شہر سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر جانا ہوا۔ وہاں پانی بہت سستا ہے۔ خوب لطف اندوز ہوئے۔ یہاں تک کہ اس نفع بخش درخت و پھل کی پوجا، عزت و احترام وہاں کے بدھ مت مذہب میں ہے۔ ناریل کا پانی فوری طاقت اور بستر سے لگے ہوئے انسان کو اچانک اُٹھا کر صحت یابی میں مدد دیتاہے۔ ناریل کا پانی اور زیتون کا تیل مکس کرکے ہفتے میں ایک مرتبہ بالوں پرلگائیں ، 3گھنٹے لگا رہنے دیں۔ پھر سر دھو لیں۔ نتیجہ جلد آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ بال ملائم، جڑیں مضبوط اور چمکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ تھائی لینڈ میں ناریل سے محبت کا یہ عالم تھا کہ تھائی ایئر ویز کے جہاز میں ناریل کا بنا ہوا میٹھاکھانا تھا اور بنکاک میں ناریل سے بنی ہوئی آئس کریم جو کہ نہایت لذیذ ، جس کا ذائقہ مَیں ابھی بھی محسوس کر رہا ہوں۔ ہمیں صرف ناریل کے تیل کا معلوم ہے ۔جب کہ وہ ناریل کے سرکہ، ناریل کی کریمیں اور ناریل کے گُڑ سے بھی مالا مال ہیں۔ وہاں کے باشندوں نے ناریل کو ’’غذا کی نانی‘‘ تصور کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کی عمریں طویل ہیں۔ بوڑھے لوگ صرف چہرے سے بوڑھے نظر آتے ہیں لیکن وہ جوانوں کی طرح چُست اور زندگی کے کام کاج میں مصروف ہیں۔