تلاش

نوزائیدہ بچے سردی کے موسم میں سب سے زیادہ نازک اور حساس ہوتے ہیں۔ پہلی بار جب ان پر سردی کا موسم آتا ہے توماںکے لیے یہ وقت پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔ ذرا سی لاپرواہی بچے کو نزلہ، کھانسی یا بخار میں مبتلا کر دیتی ہے۔ خصوصاًبچوں کی پہلی سردی میںچند احتیاطوںکا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ذیل میں بیان کئے گئے کچھ طریقے اپنا کر آپ اپنے بچے کو سردی کے موسم میں ہونے والی پیچیدگیوں اور بیماریوںسے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
سردی کی دھوپ
چھوٹے بچوں کوصبح کی دھوپ دینا بہت ضروری ہے لیکن براہ راست دھوپ میں نہ لٹائیں بلکہ چادر کی آڑ میں بچے کو رکھیں۔براہِ راست دھوپ بچے کی جلد کو جھلساسکتی ہے۔
نرم و ملائم جلد اور ریشز سے حفاظت کیلئے
چھوٹے بچوں کا مساج یامالش بہتر نشوونما کے لئے بہت ضروری ہے۔اس سے جِلد سردی کے باعث خشک ہونے کے بجائے نرم وملائم اور ریشز سے محفوظ رہتی ہے۔السی کاتیل بچوں کی مالش کے لئے بہت مفیدہے۔
 جلد کی الرجی سے بچائو
ایک جڑی بوٹی جسے دھماسہ کہتے ہیں(پنساری سے باآسانی مل جاتی ہے)‘تھوڑی سی لیں‘اس کی پوٹلی بنائیں اور گرم پانی میں ڈال دیں۔اس پانی سے نوزائیدہ بچے کو نہلائیں توسردی میں ہونے والی جلدی بیماریوںسے حفاظت رہے گی۔
اس کے علاوہبچے کو روزانہ عام نیم گرم پانی سے نہلائیںمگر اس دوران اور نہلانے کے بعد انہیں ہوا سے محفوظ رکھیں تاکہ سردی نہ لگے۔اس سے بچے کی نشوونما اچھی ہوگی اور وہ جراثیم سے بھی محفوظ اور تازہ دم رہے گا۔
لباس کا خاص خیال رکھیں!
بچے کو سردی سے بچانے کے لئے بہت زیادہ کپڑے نہ پہنائیں۔بس کان ضرورڈھانک کر رکھیں،زیادہ سردی ہوتوموزے پہنائیں ۔کمرے کو گرم رکھیں تو زیادہ کپڑوں کی ضرورت نہیں رہتی ۔بہت سے اونی کپڑوں سے بچوں کو الرجی ہوجاتی ہے۔سردیوں میں بچے زیادہ سونا چاہتے ہیں، لیکن انہیں بہت زیادہ لپیٹنا یا زیادہ گرم کمبل دینا خطرناک ہو سکتاہے۔ہلکی رضائی، نرم کمبل اور مناسب کپڑے کافی ہیں۔کمرہ آرام دہ مگر ہوادار ہو۔
دیسی انڈہ کھلائیں
اگر آپ کابچہ چھ ماہ کا ہوچکاہے تو آپ اسے سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے دیسی انڈے کی زردی ضرور کھلائیں۔انڈہ ہاف فرائی کرکے‘ چمچ میں اس کی زردی لے کر بچے کو باآسانی کھلاسکتی ہیں۔
سینے کی جکڑن 
سردیوں میں بچے کاسینہ خراب ہوناعام سی بات ہے۔سہاگا توے پر کھلاکر گندم کے دانے کے برابر ماں کے دودھ میں ملاکر تین دن دیں تو بچے کاسینہ صاف ہوجائے گا۔
بچوں کا رونا ختم
شام کے وقت پیٹ میں گیس کے باعث بعض اوقات بچے بہت روتے ہیں۔ایسی صورت میں ہینگ کو پانی میں بھگوکر پیٹ اور پیروں کے ناخنوں پر لگائیں۔ اس سے آرام آتاہے۔
سردی میں خشکی سے نجات
ناف پر ہلکا سا تیل لگانے اور مالش کرنے سے بچے کو سکون ملتا ہے اور اچھی نیند آتی ہے۔ناف میں تیل لگانے سے جسم کی اندرونی خشکی کم ہوتی ہے۔ جلد نرم رہتی ہے ‘ ہونٹ پھٹنے یا جلد خشک ہونے سے محفوظ رہتی ہے۔
پُرسکون نیند
بچے کی پُرسکون نیند اس کی صحت کی ضامن ہوتی ہے۔ جب آپ کابچہ سوجائے تو آپ اس پر اپنا باریک دوپٹہ ضرور رکھیں کیونکہ بچے ماں کی خوشبو سے مانوس ہوتے ہیں ۔اس عمل سے بچے کو ماں کا احساس اور اس کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور وہ سردی میں بھی آرام سے سوتاہے۔
جراثیم سے بچائو کیلئے
کھلونوں پر اکثر جراثیم  جمع ہوجاتے ہیں۔ہفتے میں کم از کم دو بار گرم پانی یا antiseptic محلول سے کھلونے صاف کریں۔بچے کی بوتل، فیڈر، نپل اور چوسنی ہمیشہ ابلے ہوئے پانی میں جراثیم سے پاک کریں۔
بچے کو دودھ پلانے والی ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی خوراک میں شہد، بادام، کھجور، ادرک شامل کریں۔اس کے علاوہ ہلدی  ملا دودھ ضرور پئیں۔