کسی بھی میاں بیوی کے لیےشادی کے ابتدائی لمحات خوبصورت اورناقابل فراموش یادوں کے حامل ہوتے ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس دورانیے میں دونوں جانب سے یکساں طور پر ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا خیال رکھاجاتا ہے۔ بلاوجہ کی باز پرس اور روک ٹوک نہیں ہوتی۔ چھوٹی موٹی کمزوریوںیا کوتاہیوں کو فراخ دلی سے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ دونوں کا رویہ ہمدردانہ اوردلجویانہ ہوتا ہے۔ ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے اورعمر بھر کے لیے ایک دوسرے کی چاہت و محبت کا دم بھرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ بیشتر معاملات میں نہ صرف دونوں ایک دوسرےکو رعایت دیتے ہیں بلکہ صدق دل سے ایک دوسرے کی اچھائیوں اور خوبیوں کو بھی سراہتے ہیں لیکن پھر آہستہ آہستہ اور غیر محسوس انداز میں رویے بدلنا شروع ہوتےہیں۔ عموماً دونوں جانب سے وعدوں کا پاس رکھنا مشکل ہوتا جاتا ہے پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہی افراد جو ایک دوسرےکی تعریف کرتےنہیں تھکتے تھے‘اب ناقدانہ پن ان کے مزاج کا حصہ بننے لگتا ہے۔ بعض اوقات انتہائی معمولی اور چھوٹی چھوٹی باتوں کوبھی بے وجہ طول دیا جاتا ہے۔ دونوں جانب سےتحمل اور برداشت کے مظاہرے کم ہونے لگتے ہیں اور الزام تراشی کی روش عام ہوجاتی ہے۔ کھانا وقت پر نہ بنے تو شوہر کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ محبت و پیارکے احساسات زندگی کےجھمیلوں میں کہیں دفن ہونے لگتے ہیں۔ خوشی اور قرب کے لمحات محض ترنگ اور موڈ کے مرہون منت ہوکر رہ جاتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوششیں بھی کم کردی جاتی ہے دونوں افراد گھر میں اپنی اپنی جگہ وہی کچھ دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں جسے وہ ذاتی طور پر درست سمجھتے ہوں۔ اس طرح سمجھوتے کا عنصر کم سے کم ہوجاتا ہے اور معمولی باتیں بھی اختلاف کا باعث بن جاتی ہیں۔ ایک نہیں ایسے سینکڑوں جوڑوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جنہیں زندگی بھر اسی طرح کے نشیب و فراز کا سامنا رہتا ہے۔
بلاشبہ غم روزگار ہماری ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ میاں بیوی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج یا سرد مہری کی وجہ مالی یا معاشی حالات ہی ہوںبلکہ امیر اورخاصے کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی ایک دوسرے کونہ سمجھنے کے رویے بہت عام دیکھنے میں آتے ہیں۔
صبر و تحمل سے کام لیں:ازدواجی زندگی میں عقل و شعور اور ساتھ میں صبر و تحمل سے کام لینا انتہائی ضروری ہے۔اگر کسی ایک فریق کی طرف سے ناگواری پیش آئے تو ضروری ہے کہ دوسرا فریق اس وقت صبر و تحمل اور عقل مندی سے کام لے اور مناسب وقت آنے پر اپنی ناگواری کا اچھے انداز میں اظہار کرے۔اعتماد کی فضا کو برقرار رکھیں:تمام رشتوں کی اصل بنیاد باہمی اعتماد ہوتا ہے۔اگر یہ اعتماد ختم ہو جائےتو رشتہ کو قائم رکھنا مشکل نہیں نا ممکن ہو جاتا ہے۔حتٰی الامکان کوشش کریں کہ کبھی بھی اپنے جیون ساتھی کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔
یقین کی بجائے تحقیق کریں: اگر کسی قریبی شخص سے آپ کے جیون ساتھی کے خلاف کوئی بات معلوم ہو تو اس پر یقین کرنے کی بجائے تحقیق کر لے اور اگر بات کی تصدیق ہو جائے تنقید کی بجائے اچھے اندار میں اصلاح کی کوشش کرے۔