رلس رشٹر (Charless Richter)ایک امریکی سائنس داں ہیں۔ وہ زلزلہ کے ماہرین میں سمجھتے جاتے ہیں۔چارلس رشٹر نے کیلی فونیا کی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں نصف صدی تک زلزلہ کامطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ زلزلہ کے خطرہ سے بچنے کے لیے آدمی کو کہاں بھاگنا چاہیے۔ ’’کیلی فورنیا میں اس کا جواب بالکل سادہ ہے، وہ یہ کہ کہیں نہیں۔ امریکہ کی 78 ریاستوں میں زلزلہ کا سب سے کم خطرہ فلوریڈا اور ساحلی ٹکساس میں ہے۔ مگر پھر میں سوال کروں گا کہ طوفان کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہرعلاقے کے اپنے کچھ خطرات ہیں۔ اس لیے واحد بدل یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے مقام پر چلا جائے اورکسی دوسرے خطرہ کو گورارا کرے۔ ‘‘
آدمی کا یہ مزاج ہے کہ جو کچھ اس کوملا ہوا ہے اس پر وہ مطمئن نہیں ہوتا اور جو کچھ نہیں ملا اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ کوئی بظاہرخوش نصیب آدمی جس کو لوگ قابل رشک سمجھتے ہیں وہ بھی اندر سے اتنا ہی غیر مطمئن ہوتا ہے جتنا وہ لوگ جو اس کو رشک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہر شخص کو کوئی نہ کوئی نعمت ملی ہوئی ہے مگر جس کے اندر شکر کی نفسیات نہیں ہوتی وہ غیر حاص شدہ نعمت کی طرف متوجہ رہتا ہے اورجو نعمت ہر وقت اسے حاصل ہے اس کو حقیر سمجھتا ہے۔ایسے آدمی کے اندر اپنے خدا کے لیے شکرکا جذبہ نہیں ابھرتا۔ وہ عین اسی چیز سے محروم رہ جاتا ہے جس کو اسے سب سےزیادہ اپنے سینہ کے اندر پرورش کرنا چاہیے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اس طرح بنیا ہے کہ یہاں مکمل راحت کسی کے لیے نہیں۔ ایک جغرافیہ کا آدمی وہاں کے مسائل سے گھبرا کر دوسرے جغرافیہ میں چلا جائے تو اس کو دوسرے جغرافیہ میں پہنچ کر معلوم ہوگا کہ یہا ں بھی مسائل ہیں۔ اسی طرح اگرکم آمدنی والے کے مسائل ہیں توزیادہ آمدنی والے کے بھی مسائل ہیں۔ اگر بے زور آدمی کے مسائل ہیں تو ا کے بھی مسائل ہیں جن کو زور و قوت حاصل ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں کسی آدمی کو مسائل سے فرصت نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ جن مسائل کے درمیان ہے ان کو گوارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔ اس کی توجہات کا مرکز خدا کی رضا حاصل کرنا ہو نہ کہ مسائل سے پاک زندگی کا مالک بننا، کیونکہ وہ تو آخرت سے پہلے ممکن ہی نہیں۔