تلاش

موسم سرما میں کچھ ایسی غذائیں موجود ہوتی ہیں جن کا استعمال ٹھنڈ کو بھگانے کے لیے فوائد مند ثابت ہوتا ہے۔ ایسی غذائیوں کے استعمال سے سردیوں میں ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔گڑ تاثیر میں گرم اور افادیت میں بہترین غذا کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ گڑ کے ساتھ اگر کالے چنے ملا کر کھائے جائیں تو مجموعی صحت پر ان کے بے شمار فوائد بڑھ جاتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق گڑ پروسیسڈ سفید چینی کے مقابلے میں سو گنا زیادہ بہترین میٹھا ہے۔
موسم سرما کی بیماریوں میں مفید 
 غذائی ماہرین کے مطابق سردیوں میں جہاں بہت سی مزے دار رنگ برنگی موسمی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے وہیں یہ موسم گنے کے رس سے بنے گڑ کھانے کا بھی ہوتا ہے۔ٹھنڈ کی وجہ سے اگر کان میں درد ہو رہا ہو تو گڑ میں تھوڑا دیسی گھی ڈال کر کھائیں جس سے فوری راحت ملے گی۔گڑ وٹامن سی کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اس میں کیروٹین، نیکوٹین اور وٹامن اے اور بی بھی موجود ہے۔گڑ کا استمال وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ جو لوگ موٹاپے سے پریشان ہیں ان کو چاہیے کہ چینی کی جگہ گڑ کا استعمال شروع کر دیں۔گڑ میں کیلشیم اور فاسفورس پایا جاتا ہے جو کہ ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔کھانسی میں گڑ کی چائے بنا کر پئیں جس سے کھانسی بہت جلد دور ہو جائے گی۔گڑ خون کو صاف کرتا ہے جس سے چہرے کا رنگ بھی صاف شفاف ہوتا ہے۔گڑ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔سردرد کو دور بھگاتا ہے۔خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔تھکاوٹ کا خاتمہ کرتا ہے۔دمے جیسی بیماری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ 
بستر پر پیشاب کی شکایت دور
 وہ بچے جو نیند میں بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں ان کو گڑ اور تلوں کا ایک مکسچر بنا کر صبح شام کھلائیں ‘ اس  سے بچوں میں بستر پر پیشاب کی شکایت کافی حد تک ٹھیک ہو جائے گی۔  ہچکی کو روکنے کے لیے گڑ کو ایک بہترین ٹانک سمجھا گیا ہے۔  ایک چمچ پرانے گڑ کو خشک کر کے پیس لیں اور پھر اس میں پیسی ہوئی سونٹھ ملا کر رکھ لیں۔ اس مکسچر کو سونگھنے سے ہچکی کے مسلے سے باآسانی سے بچا جاسکتا ہے۔ 
بلڈ شوگر لیول کا مسئلہ اور ایک چٹکی گڑ
بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے گڑ کھانے سے جسم کے اندر گلوکوز کی سطح پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے کھانے کے بعد ایک چٹکی گڑ کھانا بھی اس بیماری میں مبتلا افراد کے لیے مفید ہے۔ 
خواتین کے پوشیدہ امراض کا علاج
 مخصوص ایام میں خواتین کے پورے جسم میں درد ہوتی ہے اور وہ تب تک ہوتی ہی رہتی ہے جب تک ماہواری کا درد کا اپنا وقت نہ ختم ہو جائے۔ بہت ساری عورتوں کو تو اس درد میں انجیکشن بھی لگوانے پرتے ہیں ۔ ایسے مسائل میں خواتین کو چاہیے کہ ماہواری کے دوران سوکھا دھنیا اور گڑ کا سفوف بنا کر  استعمال کریں۔ اس کے استعمال سے خون بہنے کا عمل ٹھیک رہتا ہے اور اس کے علاوہ اگر کسی خاتون کو ماہواری نہ آرہی ہو تویہ سفوف استعمال کرنےسے ماہواری کا عمل ٹھیک ہو جائے گا۔ 
مدافعتی نظام کے لئے اکسیر
 رات کو سونے سے پہلے گڑ کھانا مفید ہے رات کو سونے سے پہلے گڑ کا ایک ٹکڑا کھانے سے انسان کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ اگر رات کو سونے سے پہلے گڑ کو دودھ کے ساتھ پیا جائے تو نیند اچھی آئے گی۔ کام میں زیادتی کے باعث لوگوں میں نیند نہ آنا بھی ایک بیماری کی شکل اختیار کر چکی ہے جو کہ صحت کے لیے اچھی چیز نہیں ہے۔ اچھی زندگی کے لیےاچھی صحت کا ہونا بہت ضروری ہے جس میں نیند کا کردار بہت اہم ہے۔نیند پوری ہونے کی وجہ سے انسان دوبارہ اپنے سارے کام با آسانی سر انجام سے سکتا ہے۔ جن لوگوں کو نیند سے متعلق مسائل ہیں ان کو چاہیےکہ رات کو گڑ کھا کر سوئیں اس سے معدہ سکون میں رہے گا اور نیند بھی پوری ہو جائے گی۔ گڑ ہڈیوں کی سوزش کو کم کرتا ہے۔ آتھرائسٹس یا گھٹنے کے درد اور سوزش میں مبتلا افراد 5 گرام گڑ اور 5 گرام ادرک کا پائوڈر استعمال کریں۔ اس کے استعمال سے نہ صرف گھنٹنے کے درد سے نجات ملے گی بلکہ ہڈیوں میں پر جانے والی سوزش سے بھی نجات مل جائے گی۔مائوں کے لیے مفید: بچوں والی مائیں جن کا دودھ بچوں کو پورا نہ ہوتا ہو وہ سفید زیرے کا سفوف اور گڑ صبح، شام دودھ کے ساتھ استعمال کریں انکا یہ مسلہ حل ہو جائے دودھ بڑھ جائے گا۔ وہ لوگ جن کو پیشاب کے قطرے آتے ہیں وہ گڑ اور تل کے بنے لڈو بنا کر کھائیں تو ان لوگوں اس بیماری سے نجات مل سکتی ہے۔دودھ پلانے والی خواتین کے لیے گڑ اور گوند کا مرکب اچھا سمجھا جاتا ہے۔ یہ خواتین میں دودھ بڑھانے والے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہی نہیں گڑ اور گوند کے استعمال سے خواتین کی ہڈیاں بھی مضبوط ہونگی۔ دماغ کے لیے گڑ کا استمال بہترین ہے اگر اس میں دماغ تیز کرنے والی دوسری چند اشیا بھی شامل کی جائیں جیسا کہ گڑ میں بادام، سونف الائچی وغیرہ ڈال کر پھر اس میں دیسی گھی ڈال کر اسکا سفوف بنا کر بچوں کو لازمی دیں اس سے انکا حافظہ تیز ہو جائے گا۔