بواسیر میں مبتلا ایک گلاس اٹھا لیجئے!
میں ایک محفل میں بیٹھا تھا ایک صاحب سامنے بیٹھے‘ میں نے ایک دو ٹوٹکے بتائے ‘وہ بہت خوش ہوئے‘ متاثر ہوئے۔ کہنے لگے: آج کے دور میں بھی ایسے لوگ ہیں جولوگوں کی خیرخواہی چاہتے ہیں‘ دوسروں کا نفع اور فائدہ چاہتے ہیں۔ (دوسری مرتبہ پھر وہی الفاظ دہرائے)آج کےدور میں بھی ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیںمجھےحیرت ہورہی ہے۔ پھر خود ہی کہنےلگے: ’’اب میں آپ کو ایک ٹوٹکہ بتاتا ہوں اور میرا آزمودہ ہے۔ پہلے خود آزمایا پھر میں نےجس کو بتایا اس نےآزمایا‘ بہت فائدہ ہوا اور اتنا فائدہ ہوا کہ حیرت کی انتہا ہے۔ کہنے لگے : آپ اگر سخت بواسیر میں مبتلا ہے اور وہ خاندانی ہے‘ موروثی ہےیا آپ کو بواسیر کسی بدپرہیزی کی وجہ سے ہے تو گنے کےرَس والے کی دکان میں جائیں‘ بہترین گنےکا رَس نکلوائیں‘ نہ لیموں‘ نہ ادرک‘ نہ نمک‘ نہ مرچ اور نہ پودینہ۔ بس شرط یہ ہے کہ گلاس نیچے نہیں رکھنا‘ ادھر گنے کا رَس مشین سے گلاس میں نکلےاورفوراً گھونٹ گھونٹ کرکے پینا ہے ‘غٹاغٹ کرکےنہیں پینا۔ایک گلاس، دو گلاس جو آپ کا دل چاہے لیکن شرط ہےخالی پیٹ۔ آپ دن میں ایک بار دو بار تین بار جتنا چاہے پی لیں۔ پہلی خوراک سے ہی آپ کو افاقہ ہوگا اور چند خوراکوں میں بواسیر خونی ہے یا بادی‘ جتنی تکلیف ہے ختم ہوجائے گی۔ مجھے کہنے لگے یہ تکلیف مجھے خود تھی‘ میں نےآزمایا شفاء ملی اور لوگوں کو دی بہت فائدہ ہوا۔‘‘
پرانا دائمی نزلہ زکام‘ بس گلا س نیچے نہ رکھیے
قارئین!گنےکا رس‘ جس کو بھی میں نے پینے کو دیا اب میں آپ کو اپنے فوائد بتارہا ہوں اس کو واقعی نفع ہوا۔
ایک صاحب میرے پاس آئے انہیں پرانا دائمی نزلہ تھا‘ گرم ادویات‘ مغزیات‘ گولیاں‘ اینٹی بائیوٹک ناک میں ڈالنے کے قطرے‘ ہڈی بڑھ گئی‘ اس کا آپریشن‘یعنی تکلیف در تکلیف‘ علاج در علاج‘ فائدہ زیرو۔ میں نے کہا کہ آپ گنے کاتازہ رَس نکلوائیں‘ بس گلاس نیچے نہ رکھیں اور گھونٹ گھونٹ پئیں۔ ایک سے دو جتنا دل چاہے‘ دن میں دو بار‘ ایک بار‘ تین بار لیکن شرط خالی پیٹ اور اس کے بعد دو گھنٹے تک کچھ نہ کھائیں۔ آپ چند دن‘ چند ہفتے تو ایسا کرکے دیکھیں۔ اس نےچند ہفتوں کےبعد مجھ سے رابطہ کیا‘ کہنےلگا: میں نے مسلسل یہ عمل کیا اور توجہ سےکیا۔ مجھےجو فائدہ ہوا انہوں نے اس فائدہ کو یوں بیان کیا:۔
گنے کا رَس بھی امراض کاعلاج ہوسکتا ہے؟
کہنےلگے: میری نظر پہلے بہت کمزور ہورہی تھی‘ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میری نظر بہتر ہورہی ہے‘رات کو سوتے وقت میری ناک بند ہوتی تھی اور آنکھ کھل جاتی تھی اور حتیٰ کہ منہ سےسانس لینےکی وجہ سے زبان پر زخم ہوگئے تھے‘ ہروقت ناک بند‘ آواز میری الجھی رہتی تھی‘ میں منہ سےنہیں ناک سے بولتا تھا‘ لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے‘ میں زیادہ وقت نہیں بول سکتا تھا‘ میرے منہ اور ناک میں بلغم جم جاتا تھا جو مجھےبہت بُرا لگتا تھا۔ میں اسی الجھن میں سالہا سال رہا‘میرے وہم و خیال میں بھی نہیں تھا کہ گنے کارَس بھی اس کا علاج ہوسکتا ہے اور مجھے حیرت ہوئی میں نے گنے کا رَس پیا اس میں برف‘ لیموں‘ ادرک‘ پودینہ اور نمک وغیرہ کچھ بھی نہیں ڈلوایا‘ بس تازہ رَس مشین سے نکلتے ہی گھونٹ گھونٹ پیا ‘روزانہ پیا‘ کبھی دن میں ایک بار‘ کبھی تین بار‘ کبھی چار بار لیکن دو بار تولازم پیا۔ بس! مجھے حیرت انگیز رزلٹ ملا‘ نزلہ تو جہاں گیا ہی گیا‘ صحت تندرستی‘ اعصابی کھچاؤ‘ تناؤ ‘ کمزوری‘ نیند بہترین‘ صحت لاجواب‘ طبیعت باکمال ۔
جگر ‘ معدہ کے امراض‘ گھونٹ گھونٹ پیجئے
قارئین وہ لوگ جو ہیپاٹائٹس‘ جگر کے امراض ‘معدہ کی تیزابیت‘ جلن‘ السر کا شکوہ کرتے ہیں جن کو ادویات کھاتے ہوئے ادویات پر اعتماد ہی ختم ہوگیا‘ جوجسم کو کھوکھلا ‘دماغ کو کمزور‘ اعصاب کو بہت زیادہ ڈھیلا محسوس کرتےہیں انہیں میں نے جب بھی گنےکا رَس بتایا میری نظر نے بے شمار لوگوں کا مشاہدہ کیا ہیپاٹائٹس جگر کا کالا پیا یرقان ختم ہوا۔ طبیعت بحال ہوئی‘ اعصاب مضبوط ہوئے جسم میں طاقت ‘پٹھوں میں قوت اور ایک حیرت انگیز تاثیر کا احساس ہوا۔
سابق وزیراعظم کا پسندیدہ مشروب
ایک بہت بڑے افسر مجھ سے ملاقات کرنے کے لیے آئے‘ وہ ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ رہے‘ وہ کہنے لگے: میں نے ان کی(سابق وزیراعظم) زندگی میں سب سےزیادہ جس مشروب کو استعمال کرتےدیکھا وہ تازہ گنے کا رَس تھا۔ انہوں نے بہترین گنےمنگوا کر رکھےہوئےتھے اور ایک چھوٹی سی خوبصورت مشین بھی تھی‘ اسی وقت گنےکومشین میں ڈال کر‘ رَس نکالتےچھلنی سے چھان کر وہ گھونٹ گھونٹ پیتےتھے۔ مشین کے سامنے بیٹھتے‘ سامنےنکلواتے اور سامنے پیتے تھے۔ میں نے ایک دفعہ ان سے پوچھا اس کےکیا فوائد ہیں؟ کہا کہ میں نے سارا دن سوچنا ہے‘ ملک قوم اور ورلڈ کے لیے‘ بس! یہ میرا پٹرول ہے‘ میری گاڑی کو یہی چلاتا ہے اور میری گاڑی اسی سےچلتی ہے۔
میں نے پوچھا آپ کو یہ کس نےبتایا کہنےلگے: میرے ایک پروفیسر تھےانہوں نےایک مرتبہ یہ بتایا تھا اور باقاعدہ اس کےفوائد بتائے تھے۔بس اس دن سے میں نے اس کو اپنی زندگی کا ساتھی بنالیا اور زندگی میں اس کو ساتھ لےلیا۔
صحت مند جسم کا ہائی آکٹین پٹرول
آج وہ دن ہے کہ میں اس کو کبھی بھولا نہیں۔ میں سارا دن ہشاش بشاش‘ میرا جسم نہیں پھولا‘ میرے گھٹنوں ٹانگوں میں درد نہیں‘ اعصابی کھچاؤ نہیں جب بھی اس کو چھوڑتا ہوں‘ اپنے آپ کو مطمئن پرسکون کرنے کے لیے ٹینشن کی گولیاں کھانا پڑتی ہیں۔ میں یہ پی کر اپنے آپ کو اتنا پرسکون محسوس کرتا ہوں کہ میں کہتا ہوں یہ کام جتنے میں نے آج کیے ہیں‘ تھوڑے ہیں‘ میری زندگی میںسفر‘ ملاقاتیں‘ فائلیں‘ کام‘ فیصلے اور پھرتھوڑا سا وقت اپنی ذات کے لیے۔ میرا یہ پٹرول مجھےبہت چلاتا ہے‘ اڑاتا ہے‘ گھماتا ہے لیکن تھکاتا نہیں۔
نوٹ: قارئین اس کے اور فوائد بھی بتاؤں گا آئندہ رسالہ میں پڑھتا ہرگز نہ بھولیں۔