یک نوجوان اپنے والدین کا بڑا ادب کرتا تھا اور ہر وقت ان کی خدمت میں مشغول رہتا تھا۔ جب والدین کافی عمر رسیدہ ہو گئے تو اس کے بھائیوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ اپنی جائیداد کو والدین کی زندگی ہی میں تقسیم کر لیا جائے تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا نہ کھڑا ہو۔ہر بھائی نے اپنی اپنی پسند کی زمین قیمتی چیزوں کی تقسیم کی لیکن جب اس نوجوان کی باری آئی جو والدین کی خدمت میں دن رات مصروف رہتا تھا تو اس نے اپنے بھائیوں سے اپنی یہ خواہش ظاہر کہ آپ سب بھائی تمام جائیداد کو آپس میں تقسیم کر لیں‘ لیکن والدین کی خدمت میرے سپرد کر دیں۔اس کے باقی تمام بھائیوں میں سے کسی نے بھی اس بات پر اعتراض نہ اور انہوں نے برضا و رغبت یہ کام اس بھائی کے سپر د کر دیا۔ یہ نوجوان سارا دن محنت مزدوری کرتا پھر چھوٹے سے گھر میں جہاں اس کے والدین مقیم تھے وہی آکر بقیہ وقت اپنے والدین کی خدمت اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال میں گزارتا۔والدین بیٹے کی خدمت پر اسے دل سے دعائیں دیتے اور وہ انہی دعائوں میں ہی اپنی خوشی اور راحت میں محسوس کرتا۔ وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ اس کے والدین نے داعیء اجل کو لبیک کہا۔ایک مرتبہ یہ نوجوان رات کو سو رہا تھا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا اسے کہہ رہا ہے، اے نوجوان !تم نے اپنے والدین کا ادب کیا، ان کو راضی و خوش رکھا اور وہ تمہیں دعائیں دیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے‘ اس کے بدلے تمہیں انعام دیا جائے گا۔ جائو فلاں چٹان کے نیچے ایک دینار پڑا ہے وہ اٹھا لو۔ اس میں تمہارے لئے برکت رکھ دی گئی ہے۔ یہ نوجوان صبح کے وقت بیدار ہوا تو اس نے چٹان کے نیچے جا کر دیکھا تو اسے ایک دینار پڑا ہوا مل گیا۔ اس نے دینار اٹھا لیا اور خوشی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ایک مچھلی فروش کی دکان کے قریب سے گزرتے ہوئے اسے خیال آیا کہ اس دینار کے بدلے میں ایک بڑی سی مچھلی خرید لی جائے تاکہ بیوی بچے آج اس کے کباب بنا کر کھائیں۔ چنانچہ اس نے دینار کے بدلے ایک بڑی مچھلی خرید لی۔ جب گھر واپس آیا تو اس کی بیوی نے مچھلی کو پکانے کے لئے کاٹنا شروع کیا۔ پیٹ چاک کیا تو اس میں سے ایک بہت قیمتی ہیرا نکلا۔ نوجوان اس ہیرے کو دیکھ کر خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ جب بازار جا کر اس ہیرے کو بیچا تو اتنی قیمت ملی کہ اس کی ساری زندگی کا خرچہ پورا ہو گیا۔