تلاش

محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!جب میں شادی کی عمر کو پہنچی تو والدین نے میرا رشتہ تلاش کرنا شروع کیا‘ اس دوران ایک رشتہ آیا‘ لڑکا بیرون ملک کسی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔جب وہ لڑکا پاکستان آیا تو چند بار میرے گھر والے لڑکے کےگھر گئے اور اس کے بعد شادی کی تاریخ پکی کر دی۔اس کے بعد چند ہی ہفتوں میں میری شادی ہو گئی۔شادی کے پہلے دن ہی میرے شوہر نے بتایا کہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں ‘ میرے گھر والوں نے میری زبردستی شادی کی ہے۔میں ان کی یہ بات سن کر سکتہ میں آگئی۔میری ساری خوشیاں اسی وقت تباہ ہو گئیں ۔لیکن اس کے باوجود بھی میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے شوہر کے ساتھ وفا کی ہر ممکن کوشش کروں گی۔لیکن میری نندوں نے بھی مجھے قبول نہ کیا ان کا کہنا تھا کہ تم بھائی کی طرح خوبصورت نہیںہو ‘ ہم جلد تمہیں اس گھر سے نکلوا کر اپنے بھائی کے لئے کوئی خوبصورت دلہن لے کر آئیں گے۔وہ اکثر ایسی باتیں کرتیں جس سے میرا دل جل جاتا مگر اس کے باوجود بھی میں سب باتیں برداشت کرتی رہی۔میرے شوہر بھی سارا دن گھر سے باہر رہتے اور مجھے بلانا تک بھی گوارا نہ کرتے۔یہاں تک کہ میرے شوہر جب چھٹیاں ختم ہونے کے بعد بیرون ملک واپس جارہے تھے تو انہوں نے مجھ سے بات کرنا بھی گوارا نہ کی۔ان کے جانے کے بعد مجھے سسرال والوں نے مزید تنگ کرنا شروع کر دیا جس کے بعد میں اپنے میکہ چلی گئی۔میرے شوہر کا کچھ عرصہ بعد مجھے فون آیا اور انہوں نے کہا کہ میں اب مزید تمہارے ساتھ اپنا رشتہ قائم نہیں رکھ سکتا اور بہت جلد تمہیں طلاق دے دوں گا۔میں نے ان سے کہا کہ میرا قصور بتا دیں مگر انہوں نے میری کوئی بات نہ سنی۔جب وہ پاکستان واپس آئے تو میرے والدین نے شوہر کی بہت منت سماجت کی ‘ یہاں تک کہ پائوں پکڑ لئے مگر میرے شوہر نے کوئی بات نہ سنی اور مجھے طلاق دے کر کچھ ہی ہفتوں بعد واپس چلے گئے۔میں اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔میرے والدین بھی میرے اس دکھ کی وجہ سے پریشان رہنے لگے۔تقریباً ڈیڑھ سال بعد میرے سابقہ شوہر کا میرے والدین کو   فون آیا وہ مسلسل سسکیاں لے کر رو رہا تھا اور مجھ سے معافی کی التجا کر رہا تھا۔میرے والدین سے بھی مسلسل معافیاں مانگ رہا تھا۔اس نے میرے والدین کو بتایا کہ (ش) کےساتھ میں نے جوظلم کیے ہیں اب وہ سلسلہ میرے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔اس نے بتایا کہ میری زندگی میں مال و دولت اور تمام سہولیات کے باوجود سکون نہیں ہے۔وہ مزید کہنے لگا آپ کی بیٹی نے میرے ساتھ وفا کی اور گھر بسانے کی آخری کوشش کی مگر میں نے بغیر کسی وجہ کے اس کو نا حق طلاق دی۔آج میں بھی اپنی دوسری بیوی کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر وہ طلاق پر بضد ہے ‘جس طرح آپ اور آپ کی بیٹی نے رشتہ بچانے کے لئےمیرے پائوں پکڑے تھے‘ اب ایسے ہی میں اپنی بیوی اور اس کے گھر والوں کے پائوں پکڑنے پر مجبور ہو چکا ہوں۔مگر اس کے باوجود بھی میری بیوی نہیں مانی اور عنقریب میرا گھر اجڑنے والا ہے۔یہ صرف آپ اور آپ کی بیٹی کو ناحق ستانے اور طلاق دینے کا نتیجہ ہے۔میں نے اس شخص کو دل پرپتھر رکھ کر صرف رب کی رضا کی خاطر معاف کردیا مگر اس شخص کی زندگی سے مصیبتیں ختم نہ ہو سکیں اور اس کا گھر اجڑ چکا اور سب کچھ برباد ہو چکا ہے۔