تلاش

زندگی میں کبھی کبھار ایسے آزمائش کے لمحے آتے ہیں کہ  جب انسان اپنی تمام تر کوششیں، تدابیر اور ظاہری اسباب آزما چکا ہوتا ہے، مگر حالات کی سختی کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی بے بسی کا اعتراف کرتا ہے ،پھر سوائے دعا کے کوئی راستہ نہیں بچتا۔ہمارے گھر میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا۔ میرے بھائی شوگر کی بیماری کا شکار تھے۔ ابتدا میں یہ بیماری ان کے روزمرہ کے معاملات پر کچھ خاص اثر انداز نہیں ہوئی، لیکن رفتہ رفتہ اس نے اپنے اثرات دکھانے شروع کر دیے۔ ان کی ٹانگ میں ایک زخم نمودار ہوا، جو بڑھتے بڑھتے ان کے لئے زہر قاتل ثابت ہوا۔بہت علاج کی کوشش کی گئی، زخم ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے مجبوراً فیصلہ کیا کہ ان کی ٹانگ گھٹنے تک کاٹنی ہوگی تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے، آخر ٹانگ بھی کاٹ دی گئی لیکن زخم مزید پھیلتا جا رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اب پوری ٹانگ کاٹنی پڑے گی اور ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ یہ بات سن کر ہم سب گھر والے شدید پریشان ہو گئے، اور ایک گہری مایوسی نے ہمیں گھیر لیا۔میں یہ جان چکی تھی اب دعا کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ان دنوں ایام بیض شروع ہونے والے تھے۔میں نے ایام بیض کاعمل کرنے کا فیصلہ کیا جس میں چاند کی 13،14 اور 15 تاریخ کو روزہ رکھا جاتا ہے اورساری رات سحری تک سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے۔ میںنےسب کو تسلی دی اور کہا ’’پریشان نہ ہوں، ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ میں نے ایام بیض کے روزے رکھے اور ان تین راتوں میں اپنے بھائی کی نیت کر کےیقین اور توجہ کے ساتھ سورہ فاتحہ پڑھی۔ چند دنوں بعدڈاکٹروں نے حیران کن خبر دی کہ زخم بھرنا شروع ہو گیا ہےاور اب مزید آپریشن کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ یہ الفاظ ہمارے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھے۔جیسے ہی یہ خوشخبری ملی، پورے گھر میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی، دلوں میں سکون اتر آیا اور آنکھوں میں شکر کے آنسو جھلکنے لگے۔