چقندر ایک رس دار جڑ کی مانند نہایت خوش ذائقہ سبزی اور عمدہ غذائی ٹانک ہے۔ ویسے تو چقندر کو کئی طرح سے خوراک میں استعمال کیا جا سکتا ہے مگر اس کا اہم استعمال بطور سلاد کے زیادہ کیا جاتا ہے ۔چقندر طبی لحاظ سے بے شمار فوائد سموئے ہوئے ہے۔چند معالجاتی فوائد حاضر ہیں۔
جوڑوں کے درد میں مفید:بواسیر، جوڑوں کے درد اور پرانی قبض کے لیے چقندر بہت مفید ہے۔ایک درمیانہ چقندر کاٹ کر ڈیڑھ سے دو کپ پانی میں ابال کر چھان کر ایک پیالی نہار منہ پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ صرف چقندر کاٹ کر ابال کر اس کا پانی پی لیجئے۔ اس سے پرانی قبض دور ہو جاتی ہے ‘بواسیر کی شدت اور جوڑوں کے درد میں کمی آتی ہے۔
بال خورہ کیلئے:چقندر کو پتوں سمیت کاٹ کر پانی میں خوب جوش دیجئے اور اس سے بال دھوئیں۔ ایک ماہ مسلسل بالوں میں یہی عمل دہرائیے۔ سر سےجوئیں ختم ہو جائیں گی اور آئندہ بھی نہیں ہوں گی۔
خشکی ختم:ایک چقندر پتوں سمیت پانی میں ابال کر سر پر خوب ملئے۔ آدھے گھنٹے بعد سر دھو لیجئے۔ ہفتے میں دو بار یہ عمل کیجئے۔ اس سے بالوں کی خشکی دور ہو جائے گی۔
چقندر کا تیل:دو بڑے چقندر لے کر انہیں کاٹ لیجئے۔ گول قتلے کر کے ایک کلو سرسوں کے تیل میں خوب جلائیں۔ جب قتلے سیاہ ہو جائیں تو اتار کر ٹھنڈا کر کے چھان لیجئے۔ یہ تیل سر میں روزانہ لگائیے، اس سے بال مضبوط اور گھنے ہوں گے۔
بالوں کے لئے ایک اور نسخہ بھی ہے۔سر پر چقندر کا رس لگائیے۔ آدھے گھنٹے بعد سر دھو لیجئے۔ چقندر کو ابال کر اس کے پانی سے سر دھونا بھی بالوں کیلئے مفید ہے۔ بال گھنے اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔
سردرد کے لئے:چقندر کا عرق نکال کر ناک میں ٹپکانے سے سر کا درد ختم اور اس کے علاوہ دانت درد میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔ دماغ بھاری رہتا ہو، سینے میں جکڑن ہو، سر میں درد ہو تو ایک درمیانی چقندر لیں اور ہلکا سا چھیل کر قتلے کرکے‘ نرم نرم پتے کاٹ کر ایک گلاس پانی میں ابالیں۔ تین‘ چار جوش آنے پر اتار لیجئے۔ حسب ذائقہ چینی یا نمک ملا کر قتلے کھائیں اور پانی پی لیجئے۔ چند روز میں فائدہ ہوگا۔
سیاہ داغوں اور چھائیوں کیلئے:چقندر کو پانی میں ابال کر منہ دھونے یا منہ پر روئی سے یہ پانی لگا کر پانچ منٹ بعد منہ دھونے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے داغ دور ہو جاتے ہیں۔
گٹھیا کے ورم کیلئےجوڑوں میں درد ہو یا وہ سوج گئے ہوں تو ایک کلو چقندر کے قتلے کر کے پانچ کلو پانی میں ابال لیجئے۔ خوب اُبالنے پر اس پانی سے متاثرہ حصہ بار بار دھونے سے درد اور ورم دور ہوتا ہے۔
جوڑوں کے درد کیلئے :چندچقندر لے کر دھو لیجئے۔ پتوں سمیت ان کا ایک لٹر رس نکال لیں۔ اسی طرح ارنڈ کے پتوں کا پانی آدھ کلو نکال لیجئے۔ اب تلوں کا تیل ڈیڑھ لٹر لیجئے اور اس میں یہ چقندر کا رس ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیے۔ جب پانی خشک ہو جائے‘صرف تیل باقی رہ جائے تو اتار کر کپڑے سے چھان کر جوڑوں پر مالش کرنے سے ورم آہستہ آہستہ تحلیل ہو جاتا ہے اور دردمیں آرام ملتا ہے۔
چقندر گوشت:آدھ کلو گوشت میں ایک کلو چقندر کاٹ کر نرم پتوں سمیت پکائیں۔ گوشت بھون کر چقندر ڈال دیجئے۔ پک جانے پر ہرا دھنیا، گرم مسالا ڈال دیجئے۔ توانائی بخش سالن تیار ہے جو لذیذ بھی ہے اور صحت کے لئے مفید بھی۔اس طرح ایک اور پکوان تیار کرسکتے ہیں‘آدھا کلو قیمہ بھون کر اس میں آدھ کلو چقندر پتوں سمیت ڈالئے اور بھون کر پکا لیں‘یہ پکوان بھی صحت کے لئے لاجواب ہے۔
چقندر کی سلاد:ایک درمیانہ چقندر کاٹ کر اسے معمولی سے پانی میں ابال لیجئے اور اس کے گول ٹکڑے کاٹ کر نمک، کالی مرچ، کالا زیرہ پسا ہوا تھوڑا تھوڑا چھڑک دیجئے۔ آپ اس میں ابلے مٹر اور ہرا دھنیا بھی ملا سکتے ہیں۔یہ سلاد دوپہر کے کھانے کے ساتھ کھائیں‘ہاضمہ کے لئے مفید ہے۔
دودھ خشک ہونے پر چینی ملا دیجئے۔ چینی کا پانی خشک ہو جائے تو کھویا ڈال کر بھون لیجئے۔ اب اس میں پستہ‘ بادام کاٹ کر ملائیے۔ چقندر کا لذیذ مقوی حلوہ تیار ہے۔
یرقان کے لئےمفید:چقندر کا جوس یرقان کے مریضوں کے لئے نہایت بہتر ہے۔ اس جوس میں اگر ایک چمچ لیموں کا رس بھی ملا لیا جائے تو اس کے طبی اثرات بڑھ جاتے ہیں۔ چقندر کے استعمال سے معدہ کی اصلاح ہوتی اور السر کا مرض رفع ہو جاتا ہے۔
بواسیر کا علاج:چقندر میں موجود ریشے انتڑیوں میں حرکت لا کر فضلہ کو خارج ہونے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ چقندر کا جوس اور بطور سلاد اس کا استعمال قبض اور بواسیر میں فائدہ پہنچاتا ہے۔
چقندر کا حلوہ:ایک کلو چقندر چھیل کر کدوکش کر لیجئے۔ دودھ آدھا کلو، کھویا ڈھائی سو گرام، پستہ اور بادام حسب ضرورت، چینی ایک پاؤ۔دودھ میں چقندرپکائیں