الفاظ کا انسان کی شخصیت پر بہت گہرا اثرہوتا ہے‘زندگی کے ہر شعبہ اور میدان میں اس کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ ایک مشہور عالمی مصنف کے مطابق الفاظ انسانیت کے لیے سب سے طاقتور قوت ہیں۔ ہم اس قوت کو حوصلہ افزائی کے لیے تعمیری طور پر یا مایوسی پھیلانے کے لیے تخریبی طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ الفاظ میں ایسی توانائی اور طاقت ہوتی ہے جو مدد کرنے، شفا دینے، نقصان پہنچانے، تکلیف دینے، نقصان پہنچانے، عاجز کرنے اور سکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انگیزوں کو راحت بھرے الفاظ کی تلاش
مغربی ممالک میں ایک مشہور رتنظیم ہے جس نے الفاظ کی طاقت پر تحقیق کی اور اسے روشناس کروا کر بہت سے بیمار لوگوں کے علاج میں راہنمائی کی۔ اس تنظیم کی بنیاد بریسٹ کینسر کی جنگ جیتنے والی ایک خاتون نے رکھی۔یہ غیر منافع بخش تنظیم ہے جو لوگوں کو ہاتھ سے لکھے گئے خطوط بھیجنے کی دعوت دیتی ہے تاکہ یہ خطوط ان خواتین تک پہنچیں جو بریسٹ کینسر کی حالیہ تشخیص کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کی ویب سائٹ پر مشورے، ہدایات اور نمونہ خطوط موجود ہیں تاکہ کوئی بھی اس کارِ خیر میں حصہ لے سکے۔
اس تنظیم کی بنیاد رکھنے والی خاتون اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیںکہ جب میں نے کینسر کے خلاف اپنی جنگ جیت لی تو مجھے معلوم ہوا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔میں نے فیصلہ کیا کہ دوسرے کے لئے خیر خواہی کا کام کروں گی جس طرح مجھے ایک نئی زندگی ملی دوسروں کے لئے بھی ایک ذریعہ بنوں گی۔مجھے نہیں معلوم یہ کیسے ہوا۔ جب مجھے پہلی بار کینسر کی تشخیص ہوئی تو یہ خبر میرے خاندان اور دوستوں میں پھیل گئی۔ اچانک میرا میل باکس نیک تمناؤں سے بھر گیا۔ کارڈز، خطوط اور یہاں تک کہ تحفے بھی ملنے لگے، اکثر اوقات ان لوگوں کی طرف سے جنہیں میں جانتی بھی نہیں تھی محبت کی اس بھرمار سے میں حیرت زدہ رہ گئی۔ جب میں علاج کے مراحل سے گزرتی تھی تو اکثر ان خطوط کو پڑھتی جنہیں میں نے وصول کیا تھا۔ ان پیار بھرے الفاظ کو پڑھنا میرے لیے شفا بخش مرہم کی مانند تھا۔ جب میں میل باکس میں حوصلہ افزائی کا ایک نوٹ دیکھتی تو یہ میرے لیے انمول تحفے جیسا ہوتا۔ اگرچہ اب میں فعال علاج سے باہر ہوں، میں نے ہر ایک خط کو محفوظ کر رکھا ہے اور انہیں قیمتی سمجھتی ہوں۔ کبھی کبھار، میں ان خطوں کے بڑے تھیلے کو نکال کر دوبارہ پڑھتی ہوں۔(بونی اینیس)
الفاظ کی طاقت کا سرچشمہ
ایک سائنسی تحقیق کے مطابق بعض خاص الفاظ ‘ کلمات (وظائف) انسان کو ایسی طاقت اور قوت عطا کر دیتے ہیں کہ انسان مافوق الفطرت بن جاتا ہے۔ایک معروف آسٹرالوجسٹ کاکہنا ہے کہ قران الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک خاص طاقت کاپیٹرن ہے۔یہ طاقت جہاں پڑھنے والے کے اندر منتقل ہوتی ہے وہیں یہی طاقت اس کے قریب بیٹھنے والوں کو بھی گھیر لیتی ہے۔ میں نے چند قرآنی الفاظ کو 3ماہ پڑھا۔ میں نے آنکھیں بند کر کے جب انہی الفاظ کو پڑھا تو اس سے مجھے بے شمار مناظر کا مطالعہ ہوا اور میں نے اپنے مریضوں کو بھی انہیں آیات کا مطالعہ کرایا اور وہ شفا یاب ہوئے۔ موجودہ سائنس قرآنی آیات کا سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ الفاظ کی طاقت کا سرچشمہ قرآن کے الفاظ ہیں حتٰی کہ اگر وہی الفاظ عام استعمال میں اتنی قوت نہیں رکھتے جتنا قرآن میں رکھتے ہیں۔
ایک پیغام آپ کے نام!
عبقری کے قارئین کو مبارک ہو کہ آپ اپنے مشاہدات عبقری کو لکھ کر اس کا م کو عرصہ درازسے سرانجام دےرہے ہیںاور ہزاروں لوگوں کے لیے راحت کا سبب بن رہے ہیں ۔آج پوری دنیا اسی طرف لوٹ رہی ہے۔لہٰذا اس کارے خیر میںآگے بڑھےاور قلم اٹھا کر اپنےمزید مشاہدات لکھیں‘ اپنے اور دوسروں کے دکھ اور بیماریاں ٹلوانے کا ذریعہ بنیں۔