سخت گرمی کے دنوں میں ایک ایسی جگہ جانا ہوا جہاں نہ اے سی اور نہ کوئی کولر صرف پنکھا تھا جو جھلساتی ہوئی گرم ہوا پھینک رہا تھا۔ گرمی جسم کو مسلسل نچوڑ رہی تھی‘ وہاں جانے سے پہلے مجھے گرمی کا اندازہ تو تھا لیکن اس قدر تپتی اور جھلسا دینے والی گرمی ہو سکتی ہے اس کا اندازہ نہیں تھا۔ میں نےاس علاقے میں کچھ عرصہ قیام کرنا تھااس لئے میںنے مشروب عبقری افزاء کی کچھ بوتلیں اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھیں اور ایک پیکٹ میں بالنگو بھی ساتھ رکھ لئے تھے۔ میں جگ میں ٹھنڈا پانی بھرتا اور اس میں مشروب عبقری افزاء اور بالنگو گھولتا جاتا اور گھونٹ گھونٹ پیتا جاتا‘ ایسا محسوس ہو رہا تھا آگ سے نکل کر کسی ٹھنڈی ندی کے کنارے کسی باغ میںبیٹھا ہوا ہوں اور جسم میں گرمی کی حدت اور شدت کا اثر ختم ہو کر جسم بالکل فریش اور تروتازہ ہو رہا ہے۔گرمی اور لُوکی اتنی شدت تھی کہ کچھ ہی دیر میں گرمی پھر جسم کو بے سدھ کرنے لگتی کیونکہ میرا جسم اس گرمی کا عادی نہیں تھا‘ مجھے کچھ اللہ والوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ چلیں اللہ کے راستے میں کچھ وقت لگائیں ۔مجھے بھی ایسے قافلوں میں جانے کا شوق تھا میں نے بخوشی ہاں کر دی۔ جب وہاں پہنچے تومیرا جسم اچانک جھلسا دینے والی گرمی کو برداشت نہ کر پایا‘ لیکن ٹھنڈے اور میٹھے گرمی کے توڑ مشروب نے میرا خوب ساتھ دیا میں تقریباً تین دن وہاں رہا اور مشروب عبقری افزاء میں بالنگو گھول کر پیتا رہا اور سورج سے نکلتی آگ کا مقابلہ کرتا رہا اور اپنے ساتھیوں کو بھی یہی مشروب پلاتا رہا ‘ جو بھی پیتا وہ بار بار مانگتا اور خوش ہو کردعائیں دیتا۔
اس مشروب کا ایک اور فائدہ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ اسے جریان کا مسئلہ تھا جس وجہ سے وہ کافی پریشان تھا لیکن مشروب عبقری استعمال کرنےبہت سکون ملا ہے۔میں نے انہیں بھی عبقری کے بارے میں بتایا ہے حضرت حکیم صاحب کی بالنگو کے بارے میں زبردست تحقیق کے بارے میں بتایا کہ بالنگو صرف گرمی کا توڑ نہیں بلکہ جسم کو تندرست و توانا رکھنے کا راز ہے۔ بالنگو کو جب مشروب عبقری افزاءمیں مکس کرتے ہیں تو یہ بہت باکمال غذا‘شفاء اور دوا بن جاتا ہے کیونکہ مشروب عبقری کو خالص جڑی بوٹیوں سے تیار کیا گیا ہے۔میرا تجربہ ہے کہ گرمی میں لمبا سفر کرنے کے باوجود بھی اس کے پینے سے سفر کی تھکاوٹ ختم اور جسم بالکل تروتازہ رہتا ہے۔(عبدالنصیراعوان، خوشاب)