تلاش

والدین کے لئےبچے گھر کی رونق اور توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ ان کو پہنچنے والی چھوٹی سی بھی تکلیف گھر میں موجود تمام افراد کو پریشان کردیتی ہے۔ خاص کر اگر کسی درد سے بچہ بےچین ہو تو ماں باپ کو بھی چین نہیں ملتا۔ موسم بدلتا ہے تو اکثر بچے بیمار ہوجاتے ہیں یا ان کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے والدین بہت مشکل میں آجاتے ہیں، یہ پیٹ کی خرابی کسی بیکٹیریا یا انفیکشن کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔  آج سے چند دہائیاں پہلے کی بات ہے کہ بچوں کو ناشتہ بدل بدل کر دیا جاتا تھا۔ چھٹی کے دن گھر میں حلوہ پوری، آلو کی ترکاری بن جاتی، میٹھی ٹکیاں تلی جاتی تھیں، رات کا سالن پراٹھے اور روٹی سے کھایا جاتا۔ ڈبل روٹی، جیم کا تصور بھی نہیں تھا‘ اسی لیے بچے بھی صحت مند رہتے تھے۔اب تو بچوں کو سکول جاتے ہوئے ڈبل روٹی پر جیم لگا کر دے دیتے ہیں۔ تلے ہوئے خشک آلو، چاکلیٹ، بسکٹ کھانے والے ڈبے(ٹفن) میں ڈال دیئے جاتے ہیں جبکہ یہ خاموش زہر کا کام کرتے ہیں۔جدید دور کی اکثر مائوں کا وطیرہ یہ ہے وہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اپنے آپ کو عقل مند سمجھتی ہیں اور بزرگوں کی بتائی ہوئی ان غذائوںکو عام اور ہلکا لیتی ہیں۔اسی بےاحتیاطی کی وجہ سے اکثر بچوں کے پیٹ میں کیڑے پڑ جاتے ہیں جس وجہ سے وہ تکلیف کی شکایت کرتے ہیں جو ہفتوں جاری رہتی ہے۔ان حالات میںبچوں کو ایسی کیا چیز دی جائے کہ ان کی تکلیف فوری طور پر رفع ہوسکے۔
پیٹ کے کیڑوں کا علاج
پیٹ کے کیڑوں کیلئے کمیلہ مفید ہے۔یہ بھورے رنگ کا سفوف ہوتا ہے۔ ڈیڑھ ڈیڑھ گرام کمیلہ کی پڑیاں بنوا لیں۔ بارہ سال کے بچے کو عموماً تین گرام کمیلہ رات کو میٹھے دودھ سے دیا جائےاور صبح تین چمچے کیسٹر آئل کے دودھ میں ملا کر استعمال کروائیں۔ اس سے دست آئیں گےاور پیٹ کے سارے کیڑے نکل جا ئیں گے۔آج کل آڑو کا موسم ہے‘ بچے کو روزانہ آڑو کھلایئے اس سے بچے کا ہاضمہ بھی درست رہے گا۔اس کے علاوہ پیٹ درد کی صورت میںپودینہ کے پتوں کا قہوہ بنا کر بچوں کو پلایا جائے۔سونف جو ہر گھر میں موجود ہوتی ہے کچھ مقدار میں استعمال کروائی جائے۔اس سے بچہ پیٹ کے امراض سے حفاظت میں رہے گا۔
سفر میں قے اور متلی کا مسئلہ
  کچھ بچوں کو سفر میںقے اور متلی کا مسئلہ ہوتا ہےجو اکثر بڑے ہونے پر ٹھیک ہو جاتا ہے۔اس بات کا خیال رکھیں کہ کبھی بھی بچے کو کھانا کھلا کر سفر پر نہ لے جائیں۔ پیٹ بھرا ہوا ہو تو قے آتی ہے۔ اگر ضرورت پڑ جائے تو گھر میں ہی ہلکا پھلکا کھانا تیار کر کے بچے کو کھلائیں‘دوران سفر باہر کے کھانوں سے مکمل پرہیز کروائیں۔
کمزور بچوں کے لئے صحت مند غذائیں
ایسے بچے جو کسی بیماری کی وجہ سے کمزور پڑ گئے ہوں‘ توانائی کی کمی ہو، بھوک نہ لگتی ہو، غذا دیکھ کر دل بھر جاتا ہو، کمزوری کی وجہ سے کھایا پیا نہ جائے، کوئی کام کرنے کو دل نہ چاہے اور ہر وقت سستی کا شکار رہیں، ان کیلئے یہ بہترین دوا اور غذا ہے۔اچھی خشک خوبانیاں خریدیئے، رات کو سات خوبانیاں تھوڑے سے پانی میں بھگویئے۔ صبح ایک پائو دودھ میں خوبیانیاں ڈال کر خوب پکائیں۔ دو یا تین چھوٹی الائچی کے دانے موٹے موٹے کوٹ کر ڈالیے اور چینی ملا کر اپنے بچےکو یہ ناشتہ کرائیں۔ ایک ہفتہ بعد نو خوبانیاں بھگوئیں اور پھر ایک ہفتے بعد گیارہ خوبانیاں، دودھ ایک پائو لینا ہے اور خوب پکا کر گاڑھا کرنا ہے۔اس غذا سے چند ہفتوں میں آپ کا بچہ جلد صحت یاب ہو جائے گا۔موسمی پھلوں کے ساتھ ساتھ گیہوں کا دلیہ کھلایئے۔سکول جاتے وقت بچوں کو گھر سے ہی سکول کیلئے کھانا دیں۔ کباب بنا کر رکھیے‘ رات کے بچے ہوئے سالن سے سبزی اور بوٹی نکال کر اس کا سینڈوچ بنا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ تازہ سبزیاں، دہی اور بالائی نکلا دودھ  غذا میں شامل کریں‘صبح شام کی سیر کو روز کا معمول بنا لیجیے۔