ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ جب ٹی وی پہلی بار آیا تھا تو اسے گھر کے سب سے بڑے کمرے کے ایک کونے میں احتیاط سے رکھا جاتا تھا اور لوگ دوسرے کونے میں بیٹھ کر اسے دیکھتے تھے تاکہ آنکھوں پر برا اثر نہ پڑے اور نظر محفوظ رہے۔ وقت گزرتا گیا، سائنس ترقی کرتی گئی اور ٹی وی کا سفر کمپیوٹر، لیپ ٹاپ سے ہوتا ہوا موبائل فون تک جا پہنچا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہم موبائل سکرین کو آنکھوں کے بالکل قریب لے آتے ہیں اور گھنٹوں اسے گھورتے رہتے ہیں تو ایسے میں بینائی کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟عینک کیوں نہ لگے؟
بینائی کی حفاظت کاآسان طریقہ
سوال یہ ہے کہ جدید تقاضوں کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی صحت کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟سب سے پہلے یہ ذہن نشین کر لیں کہ اندھیرے کمرے میں سکرین کا استعمال آنکھوں کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ہمیشہ روشن کمرے میں بیٹھ کر موبائل، کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ استعمال کریں۔اگر آپ کا روزگار یا تعلیم اسکرین سے وابستہ ہے تو اینٹی گلیئر شیشے والی عینک کا استعمال کریں تاکہ آنکھوں پر پڑنے والی روشنی کی شدت کم ہو۔
سونے سے پہلے کرنے والے ضروری کام
سونے سے پہلے چند آسان اور مؤثر آنکھوں کی ورزشیں اپنا لیں، جو بستر پر لیٹے لیٹے بھی کی جا سکتی ہیں۔ پہلی ورزش میں آپ نے پلکوں کو تیزی سے 60 مرتبہ جھپکانا ہے، اس سے آنکھوں کو حرکت اور طاقت ملتی ہے۔
دوسری ورزش میں آنکھوں کو اوپر، نیچے، دائیں، بائیں اور گول دائرے میں گھمائیں۔
تیسری ورزش میں چھت پر کسی ایک پوائنٹ کو گھور کر دیکھتے رہیں اور ساتھ ساتھ سر کو دائیں بائیں آہستہ آہستہ حرکت دیں۔اس عمل سے آنکھوں کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور گردشِ خون میں بہتری آتی ہے۔اس کے علاوہ دن بھر کے اوقات میں درج ذیل ورزشیں معمول بنانے سے آنکھیںہمیشہ محفوظ رہیں گی ‘نظر کبھی کمزور نہ ہوگی۔
قریب اور دور کی مشق:اپنی انگلی کو آنکھوں کے سامنے رکھیں اور اس پرتوجہ مرکوز کریں۔ پھر کسی دور کی چیز پر نظر ڈالیں اور اس کو دیکھیں۔ اس عمل کو 10-15 بار دہرائیں۔یہ ورزش آنکھوں کےلینز کو مضبوط بناتی ہے اور نظر کی کمزوری کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔
آنکھ کی صلاحیت بڑھانے کی ورزش:اپنی انگلی کو آنکھوں کے سامنے رکھیں اور آہستہ آہستہ اسے قریب لائیں، پھر دور لے جائیں۔ اس عمل کو 10 بار دہرائیں۔یہ ورزش آنکھوں کے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر بناتی ہے ۔
آنکھوں کو بند کر کے آرام: دونوں ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کر گرم کریں اور آنکھوں پر ہلکے سے رکھیں۔ آنکھیں بند رکھیں اور گہری سانسیں لیتے ہوئے 2-3 منٹ تک آرام کریں۔
یہ ورزش آنکھوں کی تھکاوٹ دور کرتی ہے، ذہنی سکون دیتی ہے اور آنکھوں کے عضلات کو آرام پہنچاتی ہے
افسوس کہ آج ہم ایک چھوٹی سی سکرین میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے پاس نہ کھڑکی سے باہر دیکھنے کا وقت ہے، نہ چڑیوں کی چہچہاہٹ سننے کا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر 10 میں سے 6 افراد کی نظر کمزور ہو چکی ہے۔لہٰذاان مسائل سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم سکرین کے استعمال میں توازن رکھیں، صحت مند غذا کھائیں اور آنکھوں کی ورزش کو معمول بنائیں تاکہ زندگی روشن اور صحت مند نظر کے ساتھ آگے بڑھتی رہے