یہ کہانی سچی اور اصلی ہے۔ تمام کردار احتیاط سے دانستہ فرضی کر دئیے گئے ہیں‘ کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔
یہ میری زندگی کی وہ تلخ حقیقت ہے جسے سوچ کر بھی میری روح کانپ جاتی ہے۔ میں ایسے حالات سے گزری ہوں اور ایسی بڑی بڑی غلطیاں کیں کہ آج بھی ان کا تصور میرے دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ مگر میں یہ سب اس لیے تحریر کر رہی ہوں تاکہ میری زندگی سے لوگ عبرت حاصل کریں۔
سوشل میڈیا ، فلموں اور خیالی دنیا میں گم
میری پیدائش ایک امیر گھرانے میں ہوئی۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو بے پناہ محبت اور لاڈ پیار ملا۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی اور میرے دو بھائی تھے۔ والدین مجھ پر جان نچھاور کرتے، ہر خواہش پوری کرتے، میرے نخرے اٹھاتے اور ہر ضرورت کا خیال رکھتے۔ مگر ان کی یہ محبت میرے لیے خیرخواہی سے زیادہ آزمائش بن گئی۔ سہولتوں اور بے تحاشہ آسائشوں کی وجہ سے میں بے راہ روی کا شکار ہو گئی۔ دنیا کی حقیقت سے ناواقف، خوابوں اور خیالی دنیا میں گم رہنے والی لڑکی بن گئی۔ میرا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا اور فضولیات میں گزرتا تھا۔ اس غیرضروری مصروفیت نے میرے ذہن کو بگاڑ دیا۔ میں ڈرامے اور فلموں کی دیوانی بن چکی تھی اور انہی کے زیر اثر زندگی کے خواب دیکھنے لگی۔ حقیقت سے بالکل کٹ چکی تھی۔ اخلاقیات اور دین سے اتنی دور ہو گئی کہ بڑے بڑے غلط فیصلے کر بیٹھی۔
جس کے لیے سب چھوڑا، وہی چھوڑ گیا!
میں اپنے والدین کی خیر خواہی اور محبت کو نہ سمجھ سکی ۔گھر والوں کے سمجھانے کے باوجود‘میں نے پسند کی شادی کی، یہ سوچے بغیر کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ میری اس نادانی نے مجھے تباہی کی دہلیز پر پہنچا دیا۔ وہ والدین جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے دور ہو گئے۔ میرے بھائیوں نے بھی مجھ سے رشتہ توڑ لیا۔ مگر حقیقت کی زمین پر میرا پہلا قدم اس وقت پڑا جب میں اپنے شوہر کے گھر پہنچی۔ شادی کے بعد بھی مختلف عیبوں کا شکار تھی‘ذہن میں فلمی اور خیالی دنیا تھی‘ ہر معاملہ کو اسی نظر سے پرکھتی اور توقع کرتی تھی۔لیکن وہاں محبت کا نام و نشان نہ تھا اور جلد ہی میرے شوہر کا مجھ سے دل بھر گیا۔ وہ نا محرم عورتوں میں دلچسپی لینے لگا، نشہ کرنے لگا اور گھر میں ہر روز جھگڑے ہونے لگے۔ میری زندگی جہنم بن گئی۔ میرے تین بچے ہوئے، لیکن وہ سب دماغی مسائل کا شکار تھے۔ میں خود بھی نفسیاتی مریضہ بن گئی‘ ہر وقت گھر میں بے برکتی، تنگدستی اور جھگڑے رہتے۔ جتنا بھی کماتے، پھر بھی گھر کی جائز ضروریات بھی پوری نہیں ہو پاتی تھیں۔میں سوچتی تھی کہ میری زندگی کا سفر بس یہاں ختم ہو جانا چاہیے، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔
خوشیوں کے دروازے بند ہو گئے
کسی مخلص نے عبقری کے بارے میں بتایا اور رسالہ بھی دیا۔ تسبیح خانہ سے تعارف ہوا‘روحانی محافل سننی شروع کیں، میرا دل جو گناہوں کی غلاظت کی وجہ سخت ہو چکا تھا‘ نرم ہونے لگا اور اپنی زندگی پر پچھتانے لگی۔ مجھے احساس ہوا کہ میں نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ میں نے روحانی وظائف کرنے شروع کیے تاکہ میرے والدین مجھ سے راضی ہو جائیں، میرے حالات سنور جائیں اور اللہ مجھے معاف کر دے۔ عبقری میری زندگی کو اللہ سے جوڑنے کا ذریعہ بن گیا۔ میں نے والدین کے گھر جانے کی ہمت کی، مگر جب میں دروازے پر پہنچی تو والد صاحب نے غصے سے دروازہ بند کر دیا۔
میں رونے لگی، اللہ سے معافیاں مانگنے لگی، عبقری کے بتائے وظائف پڑھنے لگی۔استغفار پڑھتی رہی‘اپنی غلطیوں اور گناہوں پر توبہ کی ، اللہ کا کرم ہوا ‘ایک عرصہ یہ معمولات چلتے رہے جس کے بعد والدین نے مجھے معاف کر دیا ۔عبقری سے میرا تعلق مزید مضبوط ہو گیا جس میری زندگی یکسر بدل چکی ہے۔ اللہ نے مجھے ہدایت دے دی، میں پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہوں، میرے بچے تندرست ہونے لگے ہیں۔پہلے دن گناہوں میں گزرتا تھا اب الحمدللہ روحانی اعمال کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ شوہر کے اندر بھی مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ہمارے مالی حالات بھی ٹھیک ہو گئے۔ یہ سب اللہ کے فضل سے ممکن ہوا، مگر دنیا میں اس تبدیلی کا وسیلہ "عبقری" بنا ورنہ شاید میں دکھوں کے ساتھ ہی مر جاتی۔
ان تمام حالات اور تبدیلوں کے باوجود قارئین سے یہی درخواست کروں گی کہ اپنے وقت کو قیمتی بنائیں‘کوئی ایسا قدم ہر گز نہ اٹھائیں جس سے والدین کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔میں نے والدین کو ناراض کر کےجس غلط فیصلے کا انتخاب کیااس کے ایسے بھیانک نتائج بھگتے جنہیں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کی عزت و عصمت کی حفاظت فرمائے ‘ آمین!