میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔جب سے آنکھ کھولی اپنے والدین کو سفید پوشی مگر خودداری کی زندگی گزارتے ہوئے دیکھا۔زندگی میں جو حال بھی ان پر آیا، وہ ہمیشہ اس پر راضی رہے۔ کبھی حالات کی سختی یا زندگی کی مشکلات پر شکوہ نہیں کیا۔ انہوں نے نہ صرف میری پرورش کی بلکہ جہاں تک ان سے ممکن ہو سکا ہر طرح سے میرا ساتھ دیا ۔ جب شادی کی عمر کو پہنچا تو انہوں نے میری شادی بھی کروا دی۔ وہ ہمیشہ میری ضروریات کا خیال رکھتے، مجھ پراور میرے بیوی بچوں پرمعاشی طور پر بھی بھر پور تعاون کرتے۔
خون پسینے کا یہ صلہ دیا!
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ میںکبھی بھی ان کے لئے ایک اچھا بیٹا ثابت نہ ہو سکا۔میرے والدمیری پڑھائی کے لئے دن رات خون پسینہ ایک کرتے کہ میرا بیٹا پڑھ لکھ کر کسی اونچے مقام تک پہنچ جائےاور ہم سے بہتر زندگی گزار سکے۔ لیکن میں نے کبھی پڑھائی میں دلچسپی نہ لی۔پڑھائی کے اوقات کو کھیل کود اور فضولیات میں صرف کرتا رہا۔آخر بار بار ناکام ہونے کی وجہ سے والد صاحب نے سے سکول سے ہٹوا دیا تاکہ میں کم از کم کوئی ہنر سیکھ لوں اور زندگی میں کسی کا محتاج نہ رہوں۔ لیکن میں نے وہ بھی نہ سیکھا اور سارا دن گھر پر سویا رہتا یا دوستوں کے ساتھ آوارہ پھرتا ۔ گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی نہ کرتا ۔
بیوی کی خاطر والدین سے لڑتا
والدین مجھے ہمیشہ سمجھاتے، میری اصلاح کی کوشش کرتے، لیکن میں ان کی باتوں کو نظرانداز کرتا اور اکثر ان سے لڑتا جھگڑتا۔ ان کی بے ادبی کرتا، ان کے دل کو دکھاتا۔ کبھی اپنی بیوی کی خاطر اور کبھی بچوں کی وجہ سے ان سے الجھتا، حالانکہ وہ ہمیشہ میری بہتری چاہتے تھے۔ لیکن میں نے ان کی فرماں بردارینہیں کی، ان کی خدمت کر کے ان سے دعائیں نہیںلیں اورہمیشہ انہیں تکلیف دی۔
خیال آتا ہے کہ خود کشی کر لوں
وقت گزرتا گیا، اور آج کی حالت یہ ہے کہ میرے بچے مجھ سے لڑتے ہیں، میری عزت نہیں کرتے، اور میں اپنے والدین کی طرح پریشان ہوں۔ نہ میرے پاس کوئی اچھی نوکری ہے نہ کوئی ہنر۔ یہاں تک کہ میں مزدوری بھی نہیں کر سکتا کیونکہ جسمانی طور پر بہت کمزور ہوں۔ کبھی کوئی سخت کام ملتا ہے جیسے پتھر یا بلاک اٹھانے کا، لیکن ان کاموں میں مشقت زیادہ اور معاوضہ کم ہوتا ہے۔ پھر میں تھک کر، بیمار ہو کر، گھر واپس آتا ہوں۔ زندگی کی تنگی اور فاقے میرے لیے روز کا معمول بن چکا ہے۔ کبھی میری بیوی بیمار پڑ جاتی ہے، کبھی میرے بچے۔ گھر کی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔پریشانی کے عالم میں کئی بار دل میں یہ خیال آیا کہ میں خودکشی کر لوں، یا گھر چھوڑ کر کہیں دور چلا جاؤں تاکہ اس تکلیف سے چھٹکارا حاصل ہو۔
ایک ناقابلِ انکار حقیقت
یہ سب کچھ والدین کی نافرمانی کا نتیجہ ہے۔ یہ احساس دل کو چیر دیتا ہے کہ اگر میں نے وقت پر سیکھ لیا ہوتا،والدین کی بات مان لی ہوتی، ان کا ساتھ دیا ہوتا،بدتمیزی اور پریشان کرنے کے بجائے ان کی خدمت کی ہوتی تو شاید آج میری زندگی ایسی نہ ہوتی۔ آج میرے بچے بھی میری عزت کرتے اور میں بھی اپنے والدین کی طرح سر اٹھا کر جیتا۔والدین کی ناقدرتی کرنے کی وجہ سے آج دردر کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔