مہنگائی میں عید قرباں
میں ایک عزیز کے پاس بیٹھا تھا ‘ چونکہ عید قرباں کو (بوقت تحریر) صرف چند ہفتے رہتے ہیں تو میں نے بکروں کا ذکر چھیڑ دیا کہ اس مرتبہ مہنگائی بہت زیادہ ہے اور لگتا ہے کہ بکرے کچھ زیادہ ہی مہنگے ملیں گے‘ میں نے مزید بتایا کہ مجھے کچھ دوستوں نے بتایا کہ اس مرتبہ بچھڑے ابھی سے بہت مہنگے ہوگئے ہیں‘ میں فکرمند انداز میں پہلو بدلااور کہا کہ اللہ خیر کرے اس مرتبہ لگتا ہے کہ قربانی کیلئے بجٹ کا حساب کتاب ابھی سے لگانا پڑے گا۔میں اپنی باتیں کررہا تھا تو میرے عزیز مجھے دیکھ بھی رہے تھے مگر جب میں نے ان کا چہرہ دیکھا تو وہ دیکھ تو میری طرف رہے تھے مگر خود وہ کسی اور ہی دنیا میں تھے‘ میں نے ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا اور عرض کیا اوہ بھائی! کس دنیا میں گم ہو‘ میں آپ سے باتیں کررہا ہوں اور میری کسی بات کا نہ جواب دے رہے ہیں اور نہ ہی توجہ!
مجھے میری ایک کوتاہی یاد آگئی!
وہ گویا ہوئے کہ بات دراصل یہ ہے کہ میری پوری توجہ تمہارے موضوع پر ہے‘ جب تم نے بکرا عید کی بات شروع کی تو مجھے میری ایک غلطی یاد آگئی‘ ایک گناہ یاد آگیا‘ جس کا خمیازہ میں پورے سال سے بھگت رہا ہوں‘ اس گزشتہ سال میں میرے ساتھ جو جو کچھ ہوا میں اس ایک ایک لمحے کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ آخر میرے ساتھ یہ سب ہوا اس کی وجہ میری وہی کوتاہی ہی ہے۔
میں اپنے عزیز کے بالکل سامنے کرسی پر بیٹھا تھا ‘ میں جلدی سے اپنی نشست سےا ٹھا اور اس کے ساتھ والی کرسی پر جاکر بیٹھ گیا اور اس سے تسلی کے انداز میں پوچھا : اللہ رحم فرمائے‘ تو نے کون سی غلطی گزشتہ بکرا عید پر کی‘ جس کی سزا تجھے پورا سال ملتی رہی۔ اس نے کہا کہ میری غلطی یہ تھی کہ میں نے گزشتہ سال قربانی نہیں کی۔ میرے پاس اتنے پیسے تھے کہ میں آرام سے قربانی کرسکتا مگر نجانے کیوں مجھ سے سستی ہوئی ‘ کوتاہی ہوئی اور اسی سستی کوتاہی میں مجھ سے یہ گناہ ہوگیا۔
اس غلطی کا خمیازہ کیا بھگتا وہ پڑھ لیجئے!
میں نے کہا ہاں غلطی تو تجھ سے ہوئی‘ اب بتا تو نے اس کا خمیازہ کیا بھگتا ۔ قارئین اب غور سے پڑھیں قربانی نہ کرنے پر اس کے ساتھ کیا ہوا؟
سب سے پہلے میرا چلتا کاروبار کم ہونا شروع ہوگیا اور ہوتے ہوتے اتنا کم ہوا کہ بالکل ختم ہوگیا‘ میں حیران بھی تھا ‘ پریشان بھی کہ یہ اچانک میرے ساتھ ہورہا ہے؟
پھر میرے ساتھ یہ ہوا کہ میرے حادثات ہونا شروع ہوگئے‘ گھر بیٹھ گیا‘ ادھر طبیعت صحت بہتر ہوتی ‘ پھر حادثہ ہوجاتا‘ گھر میں بیوی بچے بیمار رہنا شروع ہوگئے‘ پورے سال کوئی ایک دن بھی ایسا نہ تھا جب مجھے کوئی نہ کوئی چھوٹی بڑی پریشانی‘ الجھن‘ بیماری ‘ حادثہ نہ آیا ہو۔میں جب بھی سوچتا ہوں کہ میرے ساتھ یہ سب کیوں ہورہا ہے تو نجانے کیوں قدرتاً میرے ذہن میں صرف ایک بات آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’تم نے اس سال قربانی نہیں کی‘‘بس! یہ احساس مجھے کھائے جارہا ہے‘ رب سے استغفار بھی کرتا ہوں‘ اس کے بعد اب تک دو بکرے لےکر صدقہ کرچکا ہوں مگر سکون نہیں مل رہا۔ اس عزیز نے پھر آنسو بھری مگر پرامیدنظروں سے میری طرف دیکھا اور کہامگر یہ غلطی میں اس سال ہرگز نہ کروں گا‘ مہنگائی جتنی بھی زیادہ ہے‘ بکرے‘ بچھڑے جتنے بھی مہنگے ہوگئے ‘ چاہے مجھے اپنی کوئی چیز بیچنا کیوں نہ پڑی میں بیچ دوں گا‘ مگر قربانی ضرور کروں گا۔
قربانی کے یہ فوائد تو کبھی پڑھے ہی نہ تھے
میں نے اس کی بات سنی‘ تو سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ رب کے ہر حکم میں بے شمار راز پوشیدہ ہیں‘ بس ہم سمجھتے نہیں‘ بے شک اس دن خون بہانا رب کو سب سے زیادہ پسند ہے‘ مجھے پہلے تو صرف یہی معلوم تھا کہ قربانی ہرصاحب نصاب پر فر ض ہے‘ قربانی کرنا سنت ابراہیمی ہے‘ قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے‘ ادھر قربانی کا خون زمین پر گرتا ہے ادھر قربانی کرنے والے کی مغفرت ہوجاتی ہے‘ یہ سارے اور اس سے بھی ڈھیر زیادہ فضائل کتب میں موجود ہیں مگر قربانی سال بھر ہمیں اتنے مصائب‘ پریشانیوں‘ حادثات‘ مشکلات اور تنگدستیوں سے بچاتی ہے یہ تو کبھی سوچا ہی نہیں۔
آئیے قربانی کیجئے!
آئیے! قربانی کیجئے‘ رب کے حضور بہترین‘ خوبصورت‘ صحت مند جانور پیش کیجئے مگر خوف سے نہیں شوق سے۔دکھاوے سے نہیں عجز و انکساری سے۔اللہ کریم ہم سب کی قربانی اپنے حضور قبول فرمائے۔ ذرا ٹھہرئیے! جاتے جاتے ایک اور عرض قربانی سے پہلے اور قربانی کے بعد غرباء خاص طور پر رشتہ داروں‘ محلہ داروں ‘ یتیموں‘ مسکینوں اوروالدین کے دوست کو ہرگز نہ بھولیےگا۔