بچگانہ ڈیپریشن کا سب سے خطرناک پہلو
بچپن کے دن خوشیوں سے بھرپور اور فکروں سے آزاد ہوا کرتے ہیں۔ بچے دنیا کے بکھیڑوں سے آزاد اپنی ننھی منی خوشیوں سے بھرپور دنیا میں مگن رہتے ہیں لیکن یہ خوشیاں ہر بچے کا مقدر نہیں ہوتیں کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو عام بچوں سے الگ تھلگ، افسردہ اور زندگی سے بیزار نظر آتے ہیں۔ نفسیاتی اصطلاح میں ایسے بچے ’’افسردہ یا ڈپریسڈ بچے‘‘ کہلاتے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل ماہرین طب نے یہ بات تسلیم کی کہ بچے بھی بڑوں کی مانند افسردگی یا ڈیپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ اس ڈیپریشن کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے وہ سگریٹ نوشی اور منشیات کے ساتھ دیگر منفی عادات کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔
اگر کوئی بچہ غیر شعوری طور پر ایسی حرکات میں مبتلا ہوگیا ہے تو یہ صرف ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ اس بات کا اظہار ایک معروف غیر ملکی تھراپسٹ نے بھی کیا۔ اکثر یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ذہنی دبائو کے سبب بچے قابو سے باہر ہورہے ہیں۔ یہ دبائو ان کی کامیابی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ جب یہ عمل کارگر ثابت ہوتا ہے تب والدین بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کام کا دبائو، ذہنی پریشانی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کے اثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں۔ معروف طبی تھراپسٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’والدین جب گھر میں داخل ہوتے ہیں تو ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ ذہنی پریشانی کو کم کریں گے مگر ایسا نہیں ہوتا، ان کے بچے یہ بات نہیں جانتے کہ ان کے والدین کو اس وقت آرام و سکون کی ضرورت ہے۔ والدین اچھی خاصی رقم خرچ کرکے زیادہ آسائش کے حامل مکانات صرف اس لیے خریدتے یا بنواتے ہیں کہ وہ معاشرے میں اچھی حیثیت کے حامل کہلائیں مگر بچوں کے بعض رویوں کی وجہ سے یہی جگہ ان کے لیے ذہنی پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔ کچھ معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ بچے بھی اپنے والدین کے رویوں سے ازخود متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے گھر کے تمام معاملات بگڑ جاتے ہیں اور والدین اور بچوں کے درمیان ناصرف ذہنی تنائو بڑھ جاتا ہے بلکہ وہ ذہنی خلجان میں مبتلا ہو جاتے ہیں‘‘۔
ڈیپریشن جوانی میں تباہی مچاتا ہے
ایک اندازے کے مطابق پسماندہ علاقے جہاں جرائم اور طلاق کی شرح زیادہ ہوتی ہے وہاں کے بچے ڈیپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ماہر نفسیات کا خیال ہے کہ بچپن میں ہونے والا ڈیپریشن بچے کے بڑے ہونے پر بہت ہی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ماہرین نے ڈیپریشن کے مختلف اسباب بیان کیے ہیں:(۱)ڈیپریشن کے مریض والدین بعض اوقات گھر میں پیار و محبت سے عاری ماحول پیدا کرکے بچے کو سخت دبائو میں رکھتے ہیں جس کے باعث بچہ خود کو تنہا محسوس کرکے افسردہ رہنے لگتا ہے۔(۲)طبی طور پر والدین سے وراثت میں ملنے والے ڈیپریشن جین بھی بچوں میں ڈیپریشن کا سبب بنتے ہیں۔(۳)غیر محفوظ اور غیر مستحکم زندگی بسر کرنے والے بچے بھی ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈپریسڈ بچے، عام نارمل بچوں سے ہٹ کر زندگی گزارتے ہیں۔ ڈیپریسڈ بچے احساس کمتری کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں اس لیے وہ اپنی ذات کے متعلق منفی نظریات رکھتے ہیں۔ بچوں کے ڈیپریشن کا تھوڑا بہت تعلق مائوں سے بھی ہے۔ مائوں کا بچوں کو ہر وقت اپنے ساتھ چپکائے رکھنا ان کو مناسب آزادی نہ دینا اور ان کی حد سے زیادہ حفاظت بچے کو پراعتماد بننے نہیں دیتی اور بچہ ڈیپریشن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ماں اگر بچے کی حد سے زیادہ حفاظت کرتی ہے تو بچہ اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کسی طور نہیں چل سکے گا۔ چنانچہ اس کی نشوونما متاثر ہوگی۔ اس کے سیکھنے کے امکانات کم ہوں گے اسے زندگی کے حقائق کا سامنا کرنے کا کم موقع ملے گا کیونکہ وہ تو ہر وقت ماں سے چپکا ہوا ہے چنانچہ اس میں اعتماد کم اور ڈیپریشن بڑھے گا۔ ظاہر ہے کہ عملی زندگی میں ماں نے ہر قدم پر بچے کے ساتھ تو نہیں رہنا۔ بچے کو تو چھوٹی عمر ہی میں سکول جانے کے لیے ماں سے جدا ہونا پڑتا ہے لہٰذا ایسے بچے تعلیم بھی اچھی طرح حاصل نہیں کر پاتے کیونکہ سکول ان کے لیے ایک غیر محفوظ جگہ ہوتی ہے۔ ان کے لیے تو ماں کی آغوش ہی سب کچھ ہوتی ہے ایسے بچوں کی زندگی کے تمام معاملات میں بے ترتیبی ہوتی ہے۔
بچوں کے ڈیپریشن کا علاج
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پرسکون اور ہمدردانہ ماحول فراہم کریں تاکہ مثبت ماحول ان پر مثبت اثرات مرتب کرے۔ اس کے علاوہ اپنے مسائل میں اُلجھ کر رہنے کے بجائے وقتاً فوقتاً اپنے بچوں کو وقت دیں اور ان کی باتوں کو پوری توجہ سے سنیں۔ کبھی بھی بچوں کے سامنے اپنی پریشانیاں بیان کرنے کی کوشش مت کریں اس طرح بچے مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اگر بچہ کسی بات کو بار بار دہرائے تو سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ جس طرح بچے کو وقت نہ دینا خطرناک ہے اسی طرح بچے کو ہر وقت پہلو سے لگائے رکھنا بھی بچے کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ لہٰذا والدین خصوصاً مائوں کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایک حد تک آزادی بھی دیں، بوقت ضرورت بچے کو اکیلا چھوڑ یں، دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے دیں۔ اسی صورت میں بچے پراعتماد ہوں گے۔والدین اگر بچوں کو نجی اور خاندانی تقریب میں لے جائیں تو اس سے بھی کافی حد تک بچے ڈیپریشن سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی ورزش بھی اچھی ثابت ہوتی ہے یعنی بچوں کو ناصرف کھیل کھیلنے دیں بلکہ ان کے کھیل میں شریک بھی ہوں۔