محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!عبقری رسالہ گزشتہ چودہ سال سے مسلسل پڑھ رہے ہیں‘ اس شمارے کو آج بھی دیکھتی ہوں تو مجھے چودہ سال پرانے اپنے والدین کے حالات یاد آجاتے ہیں کہ کیسے ہم غربت‘ فاقوں‘ تنگدستی میں مبتلا تھے مگر عبقری رسالہ گھر آیا اور یہ تمام چیزیں گھر سے نکل گئیں۔ میرے والدین 2010ء سے آپ کی جمعرات کو ہونے والی محفل میں آنا شروع ہوئے۔ ہمارے مالی حالات تب بہت خراب تھے ہمیں محفل میں آنے کی برکت سے دو انمول خزانہ کا وظیفہ ملا۔ والدین نے پڑھنا شروع کیا والد محترم آٹھ سال سے بے روزگار تھے‘ ہم چار بہن بھائی ہیں میرے تین بھائی ہیں اور میں ایک بہن۔ میرے والدین نے پڑھائی شروع کی انمول خزانے کا تیسرا نصاب سوا لاکھ کا پڑھ رہے تھے کہ میرے والد کو جاب ملی۔ سات آٹھ ماہ بعد بغیر کسی وجہ کے انہوں نے جاب سے فارغ کردیا ہم بہن بھائی اپنے والدین کے ساتھ انمول خزانہ پڑھتے رہے پھر آٹھ ماہ بعد میرے والد کو پھر جاب ملی اس دوران ہمارا چھٹا نصاب شروع تھا اور اچھی کمپنی میں جاب ملی۔ کمپنی والوں نے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا اسی دوران ہمارا نصاب جاری رہا۔ والدین موتی مسجد میں جاکر بھی نفل پڑھتے رہے اور اللہ پاک کو درخواست بھی کی جو مچھلیوں کو آٹے میں لپیٹ کر دیتے ہیں۔ جس کی برکت سے کمپنی والوں نے مستقل والد صاحب کو رکھ لیا الحمدللہ۔انہی اعمال کی برکت تھی کہ میرے والد کی ترقی ہوتی گئی اور آج وہ ایک اچھی پوسٹ پر ہیں‘ میری شادی ہوگئی میں اپنے گھر میں خوش ہوں مگر سسرال میں بھی عبقری رسالہ ضرور لیتی ہوں بلکہ میرے شوہر بھی شوق سے پڑھتے ہیں ۔ ابھی دوبارہ میں آپ کو ماضی میں لیے چلتی ہوں تاکہ عبقری رسالہ کی برکات کا ایک اور واقعہ قارئین عبقری سے شیئر کرسکوں ۔میرے فرسٹ ائیر کے پیپرز شروع ہونے میں دو تین ماہ تھے میرے والدین نے آپ کی محفل میں سورئہ الم نشرح امتحانات کے لیے پڑھنے کا سنا اور آکر مجھے بتایا۔ میرے پیپر اپریل 2015ء میں تھے اس دوران آپ نے اپنی محفل میں پیپر آئوٹ کروانے کا عمل بتایا تھا‘ میں نے نماز کے بعد اکیس بار سورئہ الم نشرح پڑھنی شروع کی میں اپنی کتابیں کھولنے سے پہلے بھی پڑھتی رہی ۔ امتحان والے دن بھی میں ہر روز الم نشرح پڑھتی ۔ ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پیپر دے کر کمرہ امتحان سے باہر آئی ہوں اور اپنی دوست سے پوچھتی ہوں کہ تم نے اس سوال کا جواب لکھا ہے اور میں نے خواب میں اپنی دوست کو اسی سوال کا جواب بھی بتایا۔ خواب میں ہی وہ سوالات میری آنکھوں کے سامنے آگئے ۔میں نے صبح اٹھ کر اپنی والدہ کو خواب سنایا اور امتحانات کا انتظار کرنے لگی جس دن میرا اس مضمون کا پیپر تھا جسے میں نے خواب میں دیکھا تھا اس سوال کی اچھی طرح تیاری کرلی میں کمرہ امتحان میں پیپر دینے گئی پیپر ملا اور مجھے دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ وہی سوال جسے میں نے خواب میں دیکھا تھا پیپر میں بھی آیا۔ میں نے اپنا پیپر مکمل کیا اور گھر آکر والدہ سے ذکر کیا والدہ بھی بہت خوش ہوئیں اب میں رزلٹ کا انتظار کرنے لگی اکتوبر میں رزالٹ آیا اس مضمون میں میرے 97 نمبر آئے جس میں نے خواب میں دیکھا تھا۔
یہ خط لکھتے ہوئے خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں‘ ان وظائف نے ہماری زندگیوں میں خوشیاں بھری ہیں‘ ورنہ بچپن میں تو خوشی نام کو ترس گئے تھے۔( متنوب سحر،لاہور)