محترم حضرت حکیم صاحب ! میں ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی تھی ۔روز نوکری کرنے سے میں تنگ آچکی تھی‘ راستے میں لوگوں کی زہریلی نظریں اور جملے سنتی تودماغ پھٹنےکو آجاتا‘ مزید جو تنخواہ ملتی‘ اس میں بچت ہی نہیں ہوتی تھی سب ختم ہو جاتا تھا ۔ اسی دوران چچا نے مجھے عبقری رسالہ دیا‘ اس میں‘ میں نےبرکت والی تھیلی کا عمل پڑھا ۔میں نے وہ عمل کرنا شروع کر دیا ۔حالات ایسے بنے کہ میں نے نوکری چھوڑ دی ‘ تھیلی بالکل خالی تھی لیکن میں نے عمل نہیں چھوڑا ۔میں صبح و شام 129 مرتبہ سورۃ کوثر پڑھ کر تھیلی پر دم کرتی رہی ۔پھر میں نے بچوں کو گھر ٹیوشن پڑھانا شروع کیا‘ گھر بچے بہت پڑھنے کیلئے آنے لگ گئے اور پیسوں میں اتنی برکت کہ سکول کی تنخواہ میں اتنی کبھی بچت نہیں ہوئی ‘میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ گھر بیٹھے عزت سے روزی مل رہی ہے اور مجھے گھر سے باہر جانا نہیں پڑتا ۔ لوگوں کی غلیظ نظروں سے بچ گئی ہوں‘ سکول کے لاکھ جھمیلوں سے بچ گئی‘ زندگی پرسکون ہوگئی۔(آمنہ ‘ کراچی)